Daily Mashriq


دو انتہائوں میںگھری سو سائٹی

دو انتہائوں میںگھری سو سائٹی

جنرل ضیاء الحق کا دور اقتدار محض ایک ڈکٹیٹر شپ نہیں تھی ۔درحقیقت یہ وہ عہد تھا جس نے پاکستانی سوسائٹی کو دو انتہائوں کی طرف دھکیل دیا اور اب یہ دو انتہائیں اتنی مضبوط اور توانا ہو چکی ہیں کہ جس کے بیچ پاکستان کا اعتدال پسند طبقہ بری طرح پس رہا ہے۔ انتہا پسندی کے ردعمل میں لبرل فاشزم بھی اس قدر زور پکڑ چکا ہے کہ اس کے کل پرزے کھلے عام سوشل میڈیا پر مذہب کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں اور جواب آں غزل کے طور پر مذہب کا دفاع کرنے والے انہیں گالیاں دیتے اور برا بھلا کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

اگر ہم تاریخی طور پر اس معاملے کو دیکھیں تو یہ شواہد ملتے ہیں کہ جب سوویت یونین کا طوطی بولتا تھا تب پاکستان اور ہندوستان میں ایسی لاتعداد تنظیمیں اور افراد سامنے آئے جنہوں نے کمیونزم سے گہرا اثر لیتے ہوئے ان ملکوں میں اس نظام کی ترویج کے لئے بہت کام کیا لیکن کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ اس ناکامی کی بڑی وجہ ان کا مذہب دشمن رویہ تھا۔اس کے بجائے یہ لوگ اگر لوگوں کے عقائد کو چھیڑے بغیرصرف معاشی نظریئے کی بات کرتے تو اس نظریئے میں اتنی جان تھی کہ یہ نچلے طبقے کی آرزو بن جاتا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشلزم کی ترویج کے لئے کام کرنے والے اس حقیقت کو بری طرح سے نظر اندا زکر گئے کہ مذہب کی جڑیں بہت گہری ہیںاور لوگوں کے مذہبی عقائد کو چھیڑ کر انہیں اپنا ہمنوا نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے کبھی خود احتسابی کرتے ہوئے اس کمیونیکشن گیپ کا جائزہ لینے کی کوشش بھی نہ کی جو ان کے اور ان کے مخاطبین کے درمیان تھا۔ان کی اس غیر ذمہ دارانہ روش نے نچلے طبقے کو کبھی یہ سمجھنے کا موقع ہی نہ فراہم کیا کہ سوشلزم ہے کیا اور اس سے ان کو کیا فوائد مل سکتے ہیں؟ کامریڈوںکا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ڈائریکٹ طریقے سے سوشلزم کو مذہبی لوگوں کے ذہنوں میں ٹھونسنا چاہتے تھے۔ان کی سوشیالوجی اور سائیکالوجی نہایت کمزور تھی ورنہ یہ لوگوں کے عقائدکو براہ راست نشانہ بنانے سے گریز کرتے۔انہی کے بیچ میں رہتے اور انہیں خلفائے راشدین کے معاشی انصاف کے زریں اصولوں اور سوشلزم میں پائی جانے والی مشابہت کے قریب لا کر یہ بتاتے کہ سوشلزم فقط ایک معاشی نظام ہے جو کسی کے مذہبی عقائد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا۔ کہتے ہیں کہ کسی جدوجہد کو جب ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے تو اس جدوجہد میں شریک لوگ عقل کے بجائے جذبات کے غلام بن جاتے ہیں اور معاشرے میں فساد برپا ہو جاتا ہے۔کامریڈوں نے اپنی ناکامی کے بعد مذہب پر حملے شروع کر دیئے اور مذہبی انتہا پسندوں نے مذہب بیزاروں پر بلکہ ان پر بھی جو اعتدال پسند مسلمان ہیں لیکن اس تعریف پر پورے نہیں اترتے جو ایک مسلمان کے لئے ان کے ذہن کی اختراع ہے۔البتہ ایک فرق ضرور ہے۔ لبرل فاشسٹ لوگوں کی سوچ پر حملہ آور ہوتے ہیں۔کمیونیکیشن کے ذرائع استعمال کر کے لوگوں کے مذہبی عقائد پر حملے کرتے ہیں جبکہ مذہبی انتہا پسند پر تشدد رویہ اختیار کر کے ان کی جان لینے کے درپے ہو جاتے ہیں اور یہی رویہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایک طالبعلم کی جان لے گیا۔میں یہ فرض نہیں کر سکتا کہ اس نوجوان نے مذہب کے بارے میں کیا کلمات کہے جس پر اسے قتل کر دیا گیا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ خیبر پختونخوا سمیت چاروں صوبوں کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایسے لاتعداد نوجوان ہیں جو لبرل ازم کی انتہائوں کو چھوتے اور مذہب کے بارے میں نازیبا گفتگو کر جاتے ہیں۔یہ لوگ چونکہ کسی پر جسمانی تشدد نہیں کرتے اس لئے امریکہ اور مغرب میں انہیں پسند کیا جاتا ہے اور اس بات پر حیرت کا اظہار بھی کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں محض اس بات پر لوگوں کی جان لے لی جاتی ہے کہ انہوں نے مذہب پر کوئی اختلافی بات کی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مغرب میں مذہب اب ایک ثانوی درجے کی چیز بن کر رہ گیا ہے ۔اہل مغرب ظاہری طور پر شریعت عیسوی پر نظر آتے ضرور ہیں لیکن اس پر عمل ضروری نہیں سمجھتے ۔مثال کے طور پر شریعت عیسوی میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں لیکن عیسائی دنیا لوگوں کا خون پانی کی طرح بہا رہی ہے۔ شریعت عیسوی میں شراب نوشی حرام ہے لیکن عیسائی دنیا جام پہ جام لنڈھا رہی ہے۔سو جب پاکستان میں کسی کا قتل مذہبی بنیاد پر ہوتا ہے تو اس پر مغرب کی حیرت کی یہ وجہ ہرگز نہیں ہوتی کہ وہ لوگ جان بوجھ کر مذہب پر گستاخی کرنے والوں کی سوچی سمجھی حمایت کر رہے ہیں بلکہ یہ حیرت عین فطری ہوتی ہے کیونکہ وہ خود مذہب سے کوسوں دور جا چکے ہیں۔دنیا کا اس وقت جو چلن ہے۔سائنسی ایجادات کی جس طرح یلغار ہو رہی ہے۔ٹیوٹر،فیس بک ،واٹس ایپ کی جو کرشمہ سازیاں ہیں،اگلے دس سالوں میں یہ کرشمہ سازیاں جس انتہا کو پہنچیں گی تب انتہا پسندی کی کشمکش بھی عروج پر ہوگی۔مذہب پر حملوں کی رفتار سو گنا بڑھے گی اور مذہب کا دفاع کرنے والوں کے رد عمل کی شدت بھی بہت زیادہ ہوگی اور فتح و شکست سے قطع نظر کشمکش اپنے عروج پر نظر آئے گی۔یاد رہے کہ نظریات کی یلغار فوجوں کی یلغار سے زیادہ پر اثر اور فیصلہ کن ہوا کرتی ہے۔ یادش بخیر پاکستان میں جب نیا نیا موبائل فون آیا تھا تو کوئی خاتون اس کے نزدیک بھی نہیں پھٹکتی تھی۔ پھر جب چند گھرانوں کی بہو بیٹیوں نے سرراہ اس کا استعمال شروع کیا تو چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ بعض لوگ حیرت و استعجاب کا اظہار کرتے نظر آئے۔کچھ ایسے بھی تھے جو ان عورتوں کے والدین اور شوہروں پر لعنت ملامت کرتے دکھائی دیتے لیکن آج پاکستانی سماج موبائل فون میں یوں گم ہے کہ اس کے بغیر زندگی کا کوئی تصور نہیں۔ اب کیا امیر، کیا غریب ہر باپ خود بیوی، بیٹی کو موبائل خرید کر دیتا ہے۔سو یہ مان لینے میں کوئی حرج نہیں کہ مسلمان پاکستانی معاشرہ اگر بیٹی کے ہاتھ میں موبائل اور شلوار کے نام پر ٹائیٹس پر سر تسلیم خم کر چکا ہے تو آنے والے کل میں یہ ایسے معاملات کو بھی برداشت کرے گا جن پر اس وقت ردعمل کا اظہار کرتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کی رفتار انسانی رد عمل کی رفتار سے ہزار ہا گنا تیز ہے۔