ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

کل دوستوں کی محفل میں ایک دوست نے یہ سوال اٹھایا کہ وہ کون سا وقت ہوتا ہے جب بھائی بھائی سے بیگانہ ہوجاتا ہے کسی کو اپنے دوست کا کوئی خیال نہیں ہوتا بس نگاہیں ایک ہی سمت لگی ہوتی ہیں اور وہ تیز تیز قدموں سے آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے سب نے اپنی اپنی صوابدید کے مطابق جواب دیا لیکن کسی دوست کا جواب بھی اسے مطمئن نہ کرسکا پھر وہ خود ہی کہنے لگا دوستو! یہ وہ وقت ہوتا ہے جب شادی کی تقریب میں کھانے کا اعلان ہوجاتا ہے لوگ باتیں کرتے کرتے اچانک رک جاتے ہیں ان کے تیور بدل جاتے ہیں آنکھیں میدان کارزار کی طرف لگی ہوتی ہیں اور سب شوق شہادت میں میدان جنگ میں اترنا چاہتے ہیں ہزاروں کے مجمع میں ایک آدھ شخص ہی ایسا ہوتا ہے جو بڑے صبر و تحمل کے ساتھ نپے تلے قدم اٹھاتا ہوا کھانے کی میزوں کی طرف بڑھتا ہے ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے اس مسئلے پر بہت سوچا بڑا سر کھپایا لیکن نتیجہ ہمیشہ صفر ہی رہا پھر یہ سوچ کر ہتھیار ڈال دیے کہ دنیا میں بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کا حل یا وجہ آج تک ہماری سمجھ میں نہیں آئی مگر دنیا اس کے باوجود بھی چل رہی ہے کسی زمانے میں برسوں بعد کسی شادی کی تقریب میں شرکت کرنا پڑتی تھی اب تو ماشاء اللہ پشاور کی ٹھاٹھیں مارتی آبادی میں ہر روز شادی کی بابرکت تقریبات منقعد ہوتی ہیں لوگ ہفتے میں تین تین ولیمے اور بارات کے کھانے اڑاتے ہیں منچلوں کی ایک اچھی خاصی تعداد ایسی بھی ہے جو دعوت نامے کے تکلفات میں پڑنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے بس کسی بھی شادی ہال کے سامنے سے گزرتے ہوئے جب لوگوں کو جوق در جوق اندر داخل ہوتے دیکھتے ہیں تو جذبہ خیر سگالی کے تحت وہ بھی کھانے کی تقریب میں شامل ہوجاتے ہیں لیکن یہ ذہن میں رہے کہ وہ کوئی عام لوگ نہیں ہوتے ان کا اعصابی نظام عام آدمی کے مقابلے میں بڑا مضبوط ہوتا ہے اس کے علاوہ وہ ہر قسم کی صورتحال سے نپٹنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں یہ بات ہم پورے وثوق سے اس لیے کہہ رہے ہیں کہ دو دن پہلے ہمیں حادثاتی طور پر اس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تو یقین کیجیے نہ صرف ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے بلکہ ٹھنڈے ٹھنڈے پسینے بھی چھوٹ گئے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ایک دوست کی بیٹی کی شادی تھی اور ہمارے نام کا دعوت نامہ ایک دوست نے وصول کرلیا تھا بس انہوں نے فون کر ہمیں بتادیا کہ آپ کا کارڈ میرے پاس ہے فلاں شادی ہال میںتقریب ہے رات نو بجے پہنچ جانا ہم چند دوست کھانے پر آپ کا انتظار کریں گے دوست کی بیٹی کی شادی تھی اس لیے ہم بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ عین وقت پر شادی ہال جا دھمکے ! پہلا دھچکہ ہمیں اس وقت لگا جب ہم نے ہال میں چالیس پچاس معززین کو خوش گپیوں میں مصروف دیکھا ذہن میں خیال آیا کہ ہم لوگوں کی شادیوں میں تو لوگوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے پالا پڑتا ہے ہنگامے اور شور شرابے کا یہ عالم ہوتا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی مگر یہاں تو صورتحال ہی مختلف ہے ایک صاحب ہاتھ میں مٹھائی کا تھال اٹھائے لوگوں میں مٹھائی تقسیم کر رہے تھے دوسرا دھچکہ ہمیں اپنے آپ کو اجنبی چہروں کے درمیان دیکھ کر لگا اس وقت ہماری کیفیت اس بچے کی سی تھی جو گائوں سے آکر شہر کے کسی بڑے میلے میں بزرگوں سے کھو گیا ہو ایک حادثہ ہمارے ساتھ یہ بھی ہے کہ پشاورمیں برپا ہونے والی تقریبات میں کالم نگاری کی برکت سے ہمارا چہرہ لوگوں کے لیے زیادہ اجنبی نہیںہوتا اس لیے چہرے پر ایک مصنوعی قسم کی سنجیدگی کا خول چڑھائے رکھتے ہیںبہرحال آمدم بر سر مطلب اب ہماری تمام تر بے گناہی اور معصومیت کے باوجود وقوعہ تو ہوچکا تھا ہم کٹی پتنگ کی طرح ادھر ادھر ڈول رہے تھے اب کچھ سوالیہ نگاہیں بھی ہماری طرف اٹھنے لگی تھیں آخر ہمت کرکے ایک صاحب سے تقریب کا حدوداربعہ وغیرہ پوچھا اپنی بپتا سنائی کہ جناب کارڈ دوست کے گھر میں ہے اور فون پر جو شادی ہال بتایا گیا ہے وہ تو یہی ہے لیکن یہاں توکوئی آشنا صورت نظر نہیں آتی !اس معزز آدمی نے ہماری سفید پوشی کی لاج رکھتے ہوئے بڑی متانت کے ساتھ کہا کہ جناب یہ شادی کی تقریب نہیں ہے یہ تومنگنی کی تقریب ہے اسی لیے لوگ مختصر ہیںہم اسے یہ تو نہ کہہ سکے کہ جناب لوگوں کا مختصر ہونا ہی ہمارے لیے عذاب بن گیا ہے ورنہ ہجوم بڑا ہوتا تو ہم چپکے سے نو دو گیارہ ہوچکے ہوتے !اس عزت افزائی کے بعد ہال سے باہر نکل کر سب سے پہلے اس دوست کو فون کیا تو وہ ہنستے ہوئے کہنے لگے یار بس میں تمھیں فون کرنے ہی والا تھا بس زرا شادی ہال کا نام بتانے میں غلطی ہوگئی تھی تم فلاں شادی ہال آجائو!کالم کے آغاز میں ہم شادی کے حوالے سے کچھ بڑی تبدیلیوں کا ذکر کرنا چاہتے تھے لیکن بات کسی اور طرف چل نکلی !اب واپس اپنے موضوع کی طرف لوٹتے ہیں ایک نوجوان پروفیسر پچھلے ہفتے رشتہ ازدواج میں قید ہوئے جب کالج آئے تو دوستوں کے ساتھ شادی کے بعد کی صورتحال پر بات چل نکلی وہ بڑے حیران ہو کر کہہ رہے تھے کہ ابھی میری شادی کو جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے لیکن گھر والوں نے مجھ پر تنقید ی راکٹ برسانے شروع کردیے ہیں وہاں پر موجود اس میدان کے جغادری ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر بے تحاشہ قہقہے لگانے لگے 

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

اداریہ