بجٹ کی آمد آمد اور عام آدمی

بجٹ کی آمد آمد اور عام آدمی

بجٹ کے لغوی معنی چمڑے کا تھیلا اور بٹوہ وغیرہ کے ہیں ۔ اصطلاحی معنوںمیں بجٹ سے مراد وہ مختص رقم ہے جو کسی خاص کام کی انجام دہی کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے خرچ کی جائے ۔ بجٹ کا بنیادی یونٹ گھر اور اس کے افراد ہے ۔ ہر گھر کا ایک سربراہ ہوتا ہے اور فرائض کی ادائیگی میں اس کا بنیادی فریضہ یہ ہوتا ہے کہ گھر کے افراد کی جائز ضروریات کی فراہمی کے لئے منصوبہ بندی کر کے آمدن کے ذرائع پیدا کئے جائیں ۔ ہر دانا دور اندیش سربراہ کی یہ خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ اپنی چادر کے مطابق پائوں پھیلائے۔ اس کے لئے ہفتہ وار ، ماہوار اور سہ ماہی ششماہی اور سالانہ بنیادوں پر اخراجات کا میزا نیہ تیار کرتا ہے ۔ریاست اور حکومت عوام کے لیے بالخصو ص غریب عوام کے لئے والدین اور گھر کی طرح ہوتے ہیں ۔ اس لئے فلاحی ریاست وہ ریاست ہوتی ہے جو اپنے عوام کی بنیادی ضروریات کی کفالت کے لئے ہر ممکن ذرائع و وسائل اختیار کرتی ہے ۔ اس سلسلے میں خاتم النبیین ۖ کا یہ فرمان مبارک ہے کہ'' اگر (اسلامی ریاست )میں کوئی فرد وفات پاجائے اور وہ مقروض ہو تو اُ س کا قرض ادا کرنا میرے (ریاست ) کے ذمہ ہے اور اگر اُس متوفی نے کوئی ترکہ و وراثت چھوڑی ہے تو اُس کے ورثاء کیلئے ہے '' جدید فلاحی ریاستوں کے لئے قیامت تک مشعل راہ ہے۔ اسلامی فلاحی ریاست میںملک کا ہر شہر ی، بغیر کسی امتیاز کے شہری حقوق برابر کے حق دار ہوتا ہے ۔ شہری حقوق میں جان مال آبرو کی حفاظت ، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی بنیادی حیثیت کی حامل ہوتی ہے ۔ امام ابو حنیفہ تو ان تین بنیادی اشیاء کی فراہمی میں ناکام رہنے والے حکمرانوں کو حق حکمرانی دینے کے قائل نہیں ہیں ۔ وطن عزیز پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ۔ اس کے قیام کے بنیادی اسباب میں مسلما نان ہند کے اسلامی تشخص کی حفاظت کے علاوہ دوسری بنیادی ضرورت مسلمان عوام کے معاشی حقوق کی حفاظت و فراہمی بھی تھی ۔ متحدہ ہندوستان میں معاشیات و تجارت پر ہندو ساہوکاروں کی اجارہ داری تھی ۔ لہٰذا مسلمان رہنمائوں کے سامنے ایک اہم نکتہ یہ بھی تھا کہ آزادی کے بعد مسلما نان پاکستان کی معاشی حالت سدھر گے گی اور اس کے نتیجے میں صحت و تعلیم کے میدان میں بھی ترقی ہوگی ۔ اگرچہ قیام پاکستان کے بعد ہم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور رحمتوں کی بارشیں جاری ہیں اور یہاں کے لوگ خطے کے بہت سارے ملکوں کے عوام کی نسبت ہر لحاظ سے بہت اچھے ہیں لیکن ستر سال کی طویل مدت گزرنے کے باوجود وہ لمحہ مسعود ابھی نہیں آسکا ہے جس میں پاکستان ایک ایسی ریاست میں ڈھل جائے جہاں حکومت و ریاست اور عوام کو انسان کی فکر لگ جائے ۔ اور جب ایسا ہوگا تو ہمارا سالانہ بجٹ اورمیز انیہ عام آدمی کی ضروریات کی کفالت کا عکاس ہوگا ۔ 

گزشتہ ساٹھ پنسٹھ برسوں کا بجٹ نکال کر دیکھیں ، ہر وزیر خزانہ اور حکومت کایہی دعویٰ اخبارات کے ریکارڈ میں ہوگا کہ ہم نے غریب عوام کا خیال رکھتے ہوئے بہت متوازن اور اپنے ہی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے بجٹ پیش کیا ہے ۔ لیکن یہ بھی ہمارے بجٹو ں کے ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ہر حزب اختلاف نے اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے نکلتے ہی اخباری نمائندوں اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بجٹ کو الفاظ اور اعداد و شمار کا ہیرپھیر اور گورکھ دھندہ قرار دیا ۔ عوام کا تو حال ہی نہ پو چھیں ۔ پاکستان کی تاریخ کا کوئی ایک بجٹ ایسا بتایا جا سکتا ہے جس سے عوام مطمئن ہوئے ہوں ؟ ۔ آخر سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام کیوں مطمئن نہیں ہوتے ۔ کیا پاکستانی عوام ناشکر ے ہیں ، نہیںایسا تو قطعاً نہیں ۔ ہمارے عوام کی اکثریت کو اگر دو وقت کی سوکھی روٹی ، دوکپ چائے صبح وشام اور تن چھپانے کے لئے دو جوڑ ے عام سے کپڑے ملیں تو الحمد للہ ! کہنے کے لئے بے تاب رہتے ہیں ۔ لیکن کیا کھربوں کا بجٹ پیش کرنے والی حکومتیں 80فیصد عوام (عام لوگ ) کے لئے گندم ، چینی ، گھی ، چائے اور کروڑوں گز کپڑ ے بننے والی سینکڑ وں ملیں اور کا رخانے ایکسپورٹ کوالٹی نہ سہی عام معیار کی یہ ضروری چیزیں سستے داموں فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہیں ۔ غریب کے لئے معقول ، مناسب اور معتدل بجٹ پیش کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ، درد دل رکھنے والے ماہرین معاشیات کے مشوروں ، تجا ویز اور ہدایات کے ساتھ اگر اپنے وسائل پر انحصار کرتے ہوئے اور قرض کی مے سے گریز کر کے بجٹ بنایا جائے تو اس میں غریبوں کے لئے ضرور سکھ کا سانس لینے کا کوئی راستہ نکل آئے گا ۔ آج ہر پاکستانی کی زبان پر یہ جملہ ہے کہ پاکستان کے نظام معیشت و سیاست میں امیر ، امیر تر اور غریب ، غریب تر ہوتا چلا جارہا ہے ۔ جبکہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ دنیا کے کسی بھی معاشرے کے مہذب اور فلاح یافتہ ہونے کو پرکھنے اور چیک کرنے کے لئے جو کسوٹی اور پیمانہ ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے کمزور ، غریب ، پیچھے رہ جانے والے ، دکھی اور خط افلاس کے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے لئے کیا سوچتا اور کرتا ہے ۔ آج کسی بھی ملک کی معیشت کے استحکام ، پھیلائو اور ترقی و نشو ونما کا اندازہ اس سے نہیں لگایا جا سکتا کہ اس کے امیر کتنے امیر ہیں ، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ غریب کتنے غریب ہیں ۔ ایک افریقی مثل ہے کہ جنگل میں ہاتھیوں کے جھنڈ کی رفتار کا اندازہ سب سے تیز دوڑنے والا ہاتھی نہیں کرتا بلکہ اس کا اندازہ سب سے سست رفتار ہاتھی کی چال سے کیا جاتا ہے ۔

اداریہ