جدید ہتھیاروں کی تجربہ گاہ

جدید ہتھیاروں کی تجربہ گاہ

امریکہ نے شام میں ایک فضائی مرکزکو خطرناک ٹاماہاک کروز میزائلوں کی بارش کرکے تباہ کردیا تھا۔اس کے چند دن بعد ہی افغانستان میں داعش کے ٹھکانے کا الزام عائد کرکے ایک خطرناک ہتھیار یعنی اکیس ہزار چھ سو پاونڈ وزنی سب سے بڑے نان نیوکلئر بم سے حملہ کیا ہے گویا کہ اس بم کے بعد ایٹم بم کا نمبر آتا ہے۔ اس بم کو پہلی بار کسی میدان جنگ میں استعمال کیا گیا ہے ۔یہ بم عراق کی جنگ کے لئے تیار کیا گیا تھا مگراستعمال کرنے کی نوبت نہیں آئی تھی ۔خود امریکیوں کے مطابق اسے مدر آف آل بمبز یعنی'' بموں کی ماں '' کہا جاتا ہے۔ شام میں حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا گیا تھا کہ بشار الاسد کی حکومت عوام پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کررہی ہے۔اب افغانستان میں نان نیوکلئر میزائل برساتے ہوئے کہا گیا کہ اس مقام پر داعش اپنا مرکز قائم کررہی تھی۔امریکہ کی ان فوجی کارروائیوں کا اصل تعلق نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو درپیش داخلی مسائل اور مشکلات سے ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کو امریکہ میں آبادی کے ایک بڑے حصے اور میڈیا کے با اثر حلقے نے دل سے تسلیم نہیں کیا تھا ۔ایک طبقہ ٹرمپ کے سٹائل اور پالیسیوں سے بھی خوف زدہ تھا کچھ حلقے روسی صدر پیوٹن کے ساتھ ٹرمپ کے خوش گوار تعلقات اور امریکی انتخابات میں روسی مداخلت سے بھی خائف تھے ۔اسی لئے یہ کہا جارہا تھا کہ امریکہ کے یہ مضبوط حلقے کسی بھی وقت ان تمام معاملات کو ٹرمپ کی چارج شیٹ بنا کر ان کا مواخذہ کرانے کی کوشش کریں گے ۔ ٹرمپ کی داخلی مشکلات اگر بڑھتے بڑھتے ان کے اقتدار کے خاتمے کا سبب نہ بھی بنیں تب بھی یہ مشکلات ان کا پیچھا چھوڑتی ہوئی نظر نہیں آتیں ۔حد تو یہ افغانستان او رشام میں قوت آزمائی کے مظاہرے اور شمالی کوریا میں کشیدگی کو ہوا دینا بھی ان کے کام نہیں آیا اور امریکہ میں ان کے خلاف مظاہروں کا ایک نیا سلسلہ چل نکلا ہے ۔جس طرح امریکی صدر اوباما کے منتخب ہونے سے پہلے ان کے مسلمان ہونے کا اس قدرڈھنڈورہ پیٹا گیاتھا کہ اوباما کو اس کی بار بار تردید کرنا پڑی تھی بلکہ اس الزام کو دھونے کے لئے انہیں مسلمانوں اور نام نہاد عالمی دہشت گردی کے حوالے سے زیادہ سخت گیر پالیسیاں اپنا نے پر مجبور کر دیا گیا تھابالکل اسی طرح ٹرمپ کے روس نواز ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹ کر انہیں بھی دفاعی پوزیشن اختیا رکرنے پر مجبور کر دیا گیا اور اب ٹرمپ بھی اوباما کی طرح اپنا داغ دھونے کے لئے زیادہ تندہی کے ساتھ کام کرنے لگے ہیں ۔روسی صدر ولادی میرپوٹن نے ٹرمپ کی کامیابی پر ان کے لئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا تھا اب پوٹن بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ کی آمد کے بعد امریکہ اور روس کے تعلقات زیادہ کشیدہ ہو گئے ہیں۔یوں لگتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے اب ''ٹارزن'' بننے کی راہ پر چل پڑے ہیں۔شام میں کروز میزائلوں کے بعد افغانستان میں سب سے بڑے غیر نیوکلیائی میزائل کا استعمال امریکی عوام میں اپنے پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش ہی ہے۔ حد تو یہ کہ افغانستان میں ہونے والی اس کارروائی پر افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی بھی چیخ پڑے ہیں جن کا روئیں روئیں امریکہ احسانات میں ڈوبا ہوا ہے ۔حامد کرزئی کی اس بات کو ''خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ '' ہی کہا جا سکتا ہے ۔شاید افغانستان میں طاقت کے نئے توازن نے خوگر حمد کو گلہ کرنے کی جرات و جسارت تک لایا ہے۔افغانستان میں ننگر ہار میں ہونے والا حملہ پاکستان سے ملحق صوبے میں ہوا ۔عین ممکن ہے کہ امریکہ اپنے ہاتھ سے مچھلی کی طرح تیزی سے پھسلتے ہوئے ایٹمی اتحادی پاکستان کو بھی کچھ پیغام دینا چاہتا ہو۔المیہ یہ ہے کہ فساد وو عالمی طاقتوں کے درمیان ہو یا کسی عالمی طاقت کے گھر میں مگر اس کا خراج اور قیمت مسلمانوں سے وصول کی جا سکتی ہے ۔ ایک دوسرے پر دھاک بٹھانے کے لئے خطرناک اور مہلک ہتھیار وں کا استعمال مسلمانوں کے علاقوں پر کیا جاتا ہے ۔میزائل اور بم مسلمانوں کا ہی مقدر ٹھہرتے ہیں۔''کارواں کے دل سے احساس ِزیاں جاتا رہا ''کے مصداق مسلمانوں کو اس صورت حال کا احساس اور ادراک نہیں ہو رہا اور وہ مخالفین کی پچ پر کھڑے ہو کر چوکے اور چھکے لگا کر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔عراق ،افغانستان ،پاکستان ،یمن سمیت دنیا میں خطرناک اسلحہ کے استعمال سے عالمی طاقتوں کا جی بھرا نہیں کہ اب دنیا کے سب سے بڑے نان نیوکلیئر ہتھیار کے استعمال کے لئے بھی مسلمان ملک کا ہی انتخاب کیا گیا ۔اب اس بات کی تصدیق کون کرے گا کہ ہتھیار واقعی داعش کے ٹھکانوں پر استعمال ہوا یا کسی آبادی کو چاٹ گیا۔گزشتہ دہائیوں میں لڑی جانے والی جنگ میں اس قدر جھوٹ بولے گئے ہیں کہ اب سچ پر بھی جھوٹ کا گمان لگتا ہے ۔ عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا الزام لگا تو صدام حسین چیخ چیخ کر ان ہتھیاروں کی موجودگی سے انکار کرتا رہا مگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایک نہ سنی یہاں تک عراق موجودہ خانہ جنگی کی دلدل میں دھنس کر رہ گیا ۔پاکستان میں ڈمہ ڈولہ کے مدرسے پر حملہ دہشت گردوں کی موجودگی کے نام پر کیا گیا ۔ کتنے ہی سروقد اور سفید عماموں والے قبائلی قبائلی اسامہ بن لادن کے نام پر ڈرون حملوں کا نشانہ بنتے رہے۔اس لئے موجودہ کہانیوں اور جوازت کی حقیقت بھی ایک راز ہی ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ مسلمان دنیا حالات کی رسی پر یونہی ڈولتی چلی جائے گی؟۔

اداریہ