Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

ابن جریر، ابن خزیمہ ، محمد بن نصر مروزی اورمحمد بن ہارون رویانی جیسے علماء نے خود کو دینی تعلیم کے لئے مختص کیا ہو اتھا۔ اس کے لئے انہیں بڑی مشکلات اور آزمائشوں کاسامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان کے پائوں کبھی ڈگمگائے نہیں۔ کئی دفعہ نوبت فاقوں تک جا پہنچی مگر وہ لوگ ایک عظیم مقصد کے لئے سب کچھ جھیلتے رہے۔ اسی طرح کے ایک موقع پر ان آئمہ کا سارا راشن ختم ہوگیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھوک کی شدت بڑھنے لگی ۔ باہمی مشاورت سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ قرعہ اندازی کی جائے۔ جس کے نام قرعہ نکلے وہ کسی سے اپنی صورت حال کاتذکرہ کرے۔ قرعہ فال ابن خزیمہ کے نام نکلا ابن خزیمہ کہنے لگے۔ میں کسی سے ذکر کرنے کے بجائے سب سے بڑے دربار میں التجا کروں گا۔ جہاں سے کوئی نامراد نہیں لوٹتا۔ انہوں نے نوافل ادا کرنے شروع کر دئیے۔ اس دوران دروازے پر دستک ہوئی۔ انہوںنے دروازہ کھولا تو سامنے حاکم مصر کے نمائندے کھڑے تھے۔ان لوگوں نے حیرانی سے پوچھا۔ امیر کو ہمارے بارے میں کیسے پتا چلا۔ حاکم مصر کے نمائندے نے بتایا کہ گزشتہ دن وہ آرام کر رہے تھے کہ انہیں خواب میں بتایا گیا کہ فلاں جگہ پرہمارے کچھ بندے بھوکے ہیں ان کے کھانے کا انتظام کرو۔ انہوںنے یہ درہم بھیجے ہیں اور وہ آپ لوگوں سے حلف لینا چاہتے ہیں کہ جب یہ ختم ہوجائیں تو آپ اپنے کسی نمائندے کو ان کے پاس بھیج دیں ۔ (وقفات مع سلفنا الصالح :318)

علامہ ابن القیم اپنی کتاب (روضتہ امحبین ونزھتہ المشتاقین )میں لکھتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق روزانہ صبح کی نماز کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق کو غائب پاتے ۔کئی بار ارادہ بھی کیا کہ سبب پوچھ لیں مگر ایسا نہ کرسکے۔ ایک بار چپکے سے حضرت ابوبکر کے پیچھے چل دئیے۔سیدناابوبکر دیہات میں جا کر ایک خیمے کے اندر چلے گئے۔ کافی دیر کے بعد جب وہ باہر نکل کرواپس مدینہ شریف کی طرف لوٹ چکے تو حضرت عمر اس خیمے میں داخل ہوئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ خیمے میں ایک اندھی بڑھیا دو چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ حضرت عمر نے اس بوڑھی خاتون سے پوچھا اے خدا کی بندی تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا میں ایک نابینا مفلس عورت ہو۔ ہمارے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر فوت ہوگئے ہیں کہ میرا اور ان دولڑکیوں کا خدا کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔ حضرت عمر نے پھر سوال کیا ۔ یہ شیخ کون ہے جوتمہارے گھر میںآتاہے؟ بوڑھی عورت (جو حضرت ابوبکر کے متعلق نہیں جانتی تھی)نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے۔ ہمارے لئے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے لئے رکھتا اورچلا جاتا ہے۔ حضرت عمر یہ سن کر رو پڑے اورکہا۔ اے ابوبکر آپ نے اپنے بعد کے آنے والے حکمرانوں کا ایک تھکا دینے والا امتحان کھڑا کر کے رکھ دیا ہے ۔

متعلقہ خبریں