Daily Mashriq

اس واشگاف اعلان پر عملدارآمد کیلئے وقت کم ہے

اس واشگاف اعلان پر عملدارآمد کیلئے وقت کم ہے

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مردان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جس امر کا اعلان کیا ہے تحریک انصاف کے گرم جوش کارکنوں کی اکثریت ان سے بجا طور پر یہی توقع رکھتی ہے اور یہی تحریک انصاف کا طرہ امتیاز بھی ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں جنون اور سونامی عمران خان کی کرشمہ ساز شخصیت کے باعث نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور میرٹ کے وعدے پر آئی تھی۔ عمران خان نے ایک مرتبہ پھر ببانگ دہل اعلان کیا ہے کہ وہ ضمیر فروشوں کو پارٹی سے نکالیں گے بے شک تحریک انصاف الیکشن ہار ہی کیوں نہ جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ضمیر فروشوں کو نکالنے سے یا ضمیر فروشوں کے جانے سے کوئی جماعت اسلئے کمزور نہیں ہوتی کہ جو لوگ ان کے تھے ہی نہیں ان کے جانے سے پارٹی پر کوئی فرق نہیں پڑتا، ممکن ہے وقتی طور پر حصول اقتدار کی مسابقت میں رکاوٹ پیدا ہو مگر اس ظاہری شکست کے باوجود جماعت کبھی کمزور ثابت نہیں ہوتی۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کیساتھ جب تک ان کے رہنماء کھڑے رہے یا کھڑے رہیں گے اس وقت تک ان جماعتوں میں وقتی طور پر آنے اور جانے والوں کی وجہ سے زیادہ فرق نہیں پڑا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پارٹی کے اقتدار میں آنے اور پارٹی کے مضبوط ہونے میں کافی فرق ہے۔ اقتدار کا حصول تو لوٹوں کی سیڑھی لگا کر بھی ممکن ہوتا ہے مگر جماعت کی مضبوطی کیلئے افراد کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ پاکستان تحریک انصاف اس ضمن میں نوارد اسلئے ہے کہ اس جماعت کے اقتدار کا ایک ہی دور مکمل ہوا ہے اس کے باوجود مدت اقتدار کے آخری سال سینیٹ کے انتخابات میں جن لوگوں نے اسے دغا دیا ان کے حوالے سے تحریک انصاف کی قیادت نے ایک جذباتی اعلان تو کیا مگر اس پر عملدرآمد کی نوبت نہیں آئی۔ وفاداریاں تبدیل کر کے جماعتی نظم کیخلاف سینیٹ انتخابات میں ووٹ ڈالنے والوں کیخلاف فوجداری مقدمات کے قیام کے اعلان کو اگر تحریک انصاف کی قیادت حسب وعدہ عملی جامہ پہنانے کی ہمت کر پاتی تو اس سے وقتی طور پر تحریک انصاف کی حکومت ممکن ہے باقی نہ رہتی لیکن یقین جانیں اس کا ملک بھر کے عوام پر ایسا اثر ہوتا کہ ہر باضمیر شخص تحریک انصاف کی طرف کھچے چلا آتا مگر اعلان اور دعوے کے باوجود ایسا نہ کرنے پر تحریک انصاف کی ساکھ کو جو دھچکہ لگا ہے اس کے ازالے کی واحد صورت اب یہی باقی رہ گئی ہے کہ مشکو ک سمجھے جانیوالے جملہ ارکان اسمبلی کو پارٹی سے خارج کرنے کا اعلان کیا جائے تاکہ عملی طور پر ایک ایسے کردار کا مظاہرہ سامنے آئے جس میں سود وزیاں کی جگہ اصول پسندی کا مظاہرہ ہو حالانکہ اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو مدت اقتدار کے آخری چند دنوں میں یہ عمل انگلی کٹا کے شہیدوں میں شامل ہونے کے مصداق ہوتا مگر بہرحال کچھ تو سامنے آئے۔ فی الوقت دعوؤں کی حد تک تو عندیہ اور اعادہ ملتا ہے مگر عملی طور پر دور دور تک اس کے اثرات دکھائی نہیں دیتے۔ عمران خان نے مردان کے جلسے میں جو ببانگ دہل اعلان کیا ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس پر کب عمل کرتے ہیں۔ وقت تھوڑا ہے اور سوچنے کا وقت بھی نہیں۔ ان دعوؤں کی حقیقت کو کسی کسوٹی پر پرکھنے کا حق عوام کیلئے چھوڑتے ہوئے اگر ہم دوسری جانب دیکھیں تو پاکستان تحریک انصاف اب غیر روایتی پارٹی دکھائی نہیں دیتی۔ تحریک انصاف میں عمران خان کے فوراً بعد کی قیادت کو کارکنوں کی سطح تک لا کر دیکھیں تو دوسری جماعتوں کے وہی روایتی سیاستدان ان کے اردگرد نظر آتے ہیں۔ نظریاتی لوگ جو اس جماعت کا اثاثہ تھے وہ اب یا تو پارٹی چھوڑ کر جا چکے ہیں یا پھر پارٹی معاملات پر ان کی گرفت اور اثر نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ اس امر کا پی ٹی آئی کو آمدہ انتخابی جلسوں کے مواقع اور الیکشن مہم میں بے جا طور پر احساس تو ہوگا لیکن اس وقت خاصی دیر ہو چکی ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو عوام کی نظر میں 2013ء کی تحریک انصاف بنانے کیلئے لاہور میں تاریخ ساز اور ریکارڈ توڑ جلسے کی نہیں اس کے مخلص کارکنوں کو آگے لانے اور ان کو انتخابی ٹکٹیں دینے کی ضرورت ہے۔ جیتنے والے گھوڑوں کو جمع کر کے کامیابی کی کوشش تو ہر سیاسی جماعت کی رہتی ہے۔ یہی فارمولہ اپنانا تھا تو پھر اس ساری تپسیا کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ضمیر فروشوں کو پارٹی سے نکالنے سے پارٹی شکست سے دوچار نہیں بلکہ مضبوط ہوگی۔ اس کیلئے جس حوصلے کی ضرورت ہے اس کا مظاہرہ خاصا مشکل کام ہے۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت کا المیہ ہی یہ رہا ہے کہ وہ جو کچھ اعلانات کرتے ہیں اور عوامی اجتماعات میں جو وعدے کرتے ہیں اس پر عملدرآمد کی کوشش ہی دکھائی نہیں دیتی جس کے باعث اس سے توقعات وابستہ کرنے والوں کی مایوسی فطری امر ہوتی ہے۔ تحریک انصاف جو اصولی مؤقف رکھتا ہے اس پر عملدرآمد ہی اسے عوام کیلئے قابل قبول بنا سکتا ہے۔ اس کے وابستگان کی بہت بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے اور جذباتی نوجوان جتنی شدت سے کسی سے وابستگی اختیار کرتے ہیں مایوسی کا شکار بھی جلد ہی ہو جاتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مایوسی اور ہمت افزائی میں سے کونسا عنصر غالب آتا ہے اور کس قدر تبدیلی واصلاح کے عملی اقدامات سال اقتدار کے آخری دنوں میں نظر آتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ جو وعدے اور دعوے کئے جاتے رہے ہیں ان کا ایک حقیقت پسندانہ جائزہ لیکر عوام اور خاص طور پر اپنے کارکنوں کو حقیقت حال سے آگاہ کیا جائے۔ کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں ہی عوام اور کارکنوں کے سامنے ہیں صرف اس کے اعتراف کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں