Daily Mashriq


عطائیوں کیخلاف کارروائی کااختیار

عطائیوں کیخلاف کارروائی کااختیار

خیبر پختونخوا میں عطائیوں کیخلاف کارروائی کا اختیار انتظامیہ کو سونپنے کی مخالفت اس بناء پر ممکن نہیں کہ اس سلسلے میں محکمہ صحت کا متعلقہ نظام اور عملہ دونوں بری طرح ناکامی کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت اور ایسا سچ ہے جس کے بارے دوسری رائے کی گنجائش نہیں۔ ہر ایک شہری کو یہ بات بخوبی طور پر معلوم ہے کہ صوبہ بھر میں کوئی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں عطائی یا پھر غیر مستند افراد علاج معالجے کی ذمہ داریاں انجام نہ دے رہے ہوں۔ یہ لوگ جس طرح سے بیماریوں میں اضافہ اور امراض میں پیچیدگیاں پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں اگر مستند ڈاکٹروں کے پاس آنیوالے ان کے شکار مریضوں کی تعداد اور صورتحال کا کوئی سروے کیا جائے تو ہولناک حقائق سامنے آئیں گے، اس کے باوجود ان عناصر کیخلاف کارروائی نہ ہونے کے برابر رہی۔ ان سارے حالات کے تناظر میں تو انتظامیہ کو ان کیخلاف کارروائی کا اختیار تفویض کرنا احسن عمل ہے لیکن دوسری جانب جس محکمے کی ذمہ د اری تھی کیا بہتر نہ تھا کہ اس سے بازپرس کی جاتی کہ اس ناکامی اور غفلت کی وجہ کیا تھی اور اب مزید ایسے کیا اقدامات کئے جائیں کہ ان کی بری طرح ناکامی کی نوبت نہ آئے۔ جہاںتک انتظامیہ کا تعلق ہے یہ درست ہے کہ انتظامیہ کی دسترس اور افراد ی قوت دونوں کافی ہیں لیکن جو انتظامیہ اپنے فرائض وذمہ داریان ادا کرنے سے قاصر ہو اس بندر کے ہاتھ میں ایک اور استرا دینے کا نتیجہ کیا ہوگا۔ ہمارے تئیں ہر بی ایچ یو اور ڈسپنسری کے سرکاری ڈاکٹر کو اس امر کا اختیار ملنا چاہئے کہ وہ اپنے اردگرد غیر مستند اور عطائی افراد کیخلاف نہ صرف رپورٹ کر سکیں بلکہ ان کو یہ اختیار بھی ملنا چاہئے کہ وہ ان عناصر کیخلاف اپنے دائرہ کار میں چالان بھی کرسکیں اور مقدمات بھی بھجوا سکیں۔ اس ضمن میں ضروری قانون سازی اور طریقہ کار طے کیا جائے، علاوہ ازیں کونسلروں اور ناظمین کو بھی اس ضمن میں اختیارات دیئے جائیں۔ محکمہ صحت کے عملے کی تعداد میں اضافہ کیساتھ ان کو مطلوب اختیارات کیساتھ ساتھ وسائل بھی دیئے جائیں۔ انتظامیہ کو ملنے والے اختیارات کا درست اور صحیح استعمال یقینی بنایا جائے۔ عوام میں عطائیوں کیخلاف شعور اُجاگر کرنے کی بھرپور مہم چلائی جائے اور عوام کو ان سے دور رکھنے کی سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ عطائیوں کے ہاتھوں مرض کے بگاڑ کے بعد جو مریض مستند ڈاکٹروں سے رجوع کریں ان مریضوں سے حاصل شدہ معلومات اور ان کی میڈیکل رپورٹس کے مطابق اس عطائی کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔ انتظامیہ اگر چاہے تو گلی گلی قائم عطائیوں کی دکانون کو دنوں میں بند کر سکتی ہے۔ لیکن جس طرح دیگر معاملات میں انتظامیہ کی کارکردگی ہوتی ہے اگر یہی صورتحال رہی تو یہ تجربہ بھی بری طرح ناکام ہوگا اور عطائی پہلے سے زیادہ لوگوں کو لوٹنے اور موت کی طرف دھکیلنے لگیں گے۔

زرعی اراضی پر تعمیرات کی سنگین صورتحال

خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے ہی جاری کردہ احکامات کی نفی کرتے ہوئے پشاور، نوشہرہ اور مردان میں ایک صدی قبل قائم ریسرچ سنٹرز اورمتروکہ املاک کی قیمتی 200ایکڑ سے زائد زرعی پیداواری اراضی کی تبدیلی اور تعمیراتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی اجازت دیدی۔ محکمہ زراعت کی رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں ایک لاکھ 90 ہزار271 ایکڑ زرعی اراضی ہاؤسنگ سکیموں اور کمرشل سرگرمیوںکی نذر ہو چکی ہے۔ یہ امر سمجھ سے بالاتر ہے کہ صوبائی حکومت نے نہ صرف اپنے ہی احکامات کو ہوا میں اُڑا دیا بلکہ ہمارے تئیں ایسے تجاوزات کا مظاہرہ کیا گیا ہے جس کا حکمرانوں کو حق ہی حاصل نہ تھا۔ رفتہ رفتہ ایسے معاملات سامنے آرہے ہیں جن کی روشنی میں معاملات ساون میں ہرا ہرا نظر آنے کے مصداق دکھائی دینے لگے ہیں۔ صوبے میں زرعی ترقی اور زراعت کے فروغ کیلئے جہاں شب وروز محنت اور اقدامات کی ضرورت ہے وہاں عالم یہ ہے کہ تحقیقی مراکز کو بھی نہ بخشا گیا جبکہ صوبے میں زرعی زمین میں اضافے اور بنجر اراضی کو زیر کاشت لانے اور آبپاشی کا معقول بندوبست کرنے کی بجائے خلاف قانون زرعی اراضی پر تعمیرات سے آنکھیں بند کی گئیں اور اب عالم یہ ہے کہ دو لاکھ ایکٹر کے قریب زرعی اراضی تعمیرات کی نذر ہوگئی۔ یہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے اور اس قدر لایخل ہے کہ اب اس کا کوئی ازالہ بھی ممکن نظر نہیں آتا، سوائے اس کے کہ جس عاجلانہ پن کا مظاہرہ کیا گیا ہے اس سے باز آیا جائے اور باقی ماندہ زرعی اراضی کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں