Daily Mashriq


امریکہ کی تجارتی جنگ کے پاکستان پر اثرات

امریکہ کی تجارتی جنگ کے پاکستان پر اثرات

عالمی ماہرین معیشت کا ماننا ہے کہ دنیا میں جتنا بھی جنگ وجدل ہو رہا ہے اس کی بنیادی وجہ معاشی مفادات ہیں، کوئی بھی قدم معاشی مفادات کے بغیر نہیں اُٹھایا جاتا حتیٰ کہ موجودہ دور میں دوستی اور دشمنی کا معیار بھی معاشی مفادات ہی ٹھہرے ہیں۔ اس تناظر میں ترقی یافتہ ممالک کی آپسی لڑائی اور مفادات کے حصول میں اکثر وبیشتر ترقی پذیر اور غریب ممالک متاثر ہوتے ہیں، جن کی معیشت پہلے ہی بیرونی سہارے پر چل رہی ہوتی ہے۔ جیسے پاکستان اپنے مسائل پر قابو پانے کیلئے آئی ایم ایف سمیت کئی ملکوں کے قرضوں کا محتاج ہے جبکہ چین کیساتھ اقتصادی راہداری کی وجہ سے دو طرح کے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم چین سے قرض لے رہے ہیں، دوسرے یہ کہ جو عالمی قوتیں چین کی مخالف ہیں وہ قوتیں ہماری مخالف بھی ہو گئی ہیں، اس کا اندازہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں رونما ہونیوالی حالیہ تبدیلی سے لگایا جا سکتا ہے۔’’امریکا اور چین میں تجارتی جنگ ابھی پوری طرح شروع نہیں ہوئی تاہم سرمایہ کاروں نے صدر ٹرمپ کی چینی مصنوعات پر تجارتی بندشیں عائد کرنے کی دھمکیوں کے بعد امریکی حصص بازاروں سے نکالنا شروع کر دیا ہے‘‘ ایک تازہ اخباری رپورٹ کی یہ تمہید بین الاقوامی حالات میں تیزی سے رونما ہوتی ہوئی تبدیلیوں کی عکاس ہے اور ہوشمندی کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے حکمراں، ماہرین اقتصادیات اور کاروباری حلقے ابھی سے پاکستان پر اس جنگ کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیکر مناسب حکمت عملی کی تیاری شروع کر دیں۔

چین کیخلاف تجارتی جنگ کا آغاز امریکی صدر نے گزشتہ ماہ کے آخری عشرے میں چینی مصنوعات کی امریکا میں درآمد پر پچاس ارب ڈالر کے بھاری اضافی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کرکے کیا تھا۔ چین نے اس کا جواب ماہ رواں کی چار تاریخ کو ایک سو چھ امریکی مصنوعات پر نیا ٹیرف عائد کرنے کی شکل میں دیا۔ ایک روز بعد ٹرمپ نے امریکی تجارتی نمائندوں کو چین کیخلاف سو ارب ڈالر کے اضافی ٹیرف پر غور کیلئے کہا۔ بیجنگ نے اس کے جواب میں واضح کیا کہ وہ آخر تک اس کا مقابلہ کرے گا اورکوئی قیمت ادا کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق چین ممکنہ امریکی اقدامات کے ردعمل میں جوابی حملے اور نئے جامع اقدامات کیلئے پُرعزم ہے۔

ہمارے شہ دماغوں کے پیش نظر یہ بات بھی رہنی چاہئے کہ امریکہ اور چین کی اقتصادی لڑائی میں دونوں ممالک سروائیو کر سکتے ہیں کیونکہ دونوں ہی ترقی یافتہ ہیں جبکہ پاکستان کیلئے مسائل جنم لے سکتے ہیں اسلئے ارباب دانش کو اس متوقع بحران سے بھی غافل نہیں رہنا چاہئے، چین کے امریکہ کیخلاف اقدامات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی کارروائی کا جواب چین نے صرف گیارہ گھنٹے میں امریکی درآمدات بشمول گاڑیوں، سویابین اور کیمیکلز وغیرہ پر پچیس فیصد اضافی ڈیوٹی لگا کر دیدیا جبکہ صدر ٹرمپ نے اس کے فوراً بعد بظاہر پسپائی اختیار کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’’ہم چین کیساتھ تجارتی جنگ نہیں لڑ رہے، یہ جنگ امریکا اپنے کچھ احمق اور نااہل لوگوں کی وجہ سے برسوں پہلے ہی ہار چکا ہے‘‘ جہاں تک پاکستان اور امریکا کے باہمی روابط کی موجودہ کیفیت کا تعلق ہے تو وہ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے۔

گزشتہ سال دونوں ملکوں میں باہمی تجارت کا حجم صرف چھ ارب ڈالر تھا جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کے سبب پاک امریکا تعلقات تاریخ کی پست ترین سطح تک گر چکے ہیں۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں جس کا ہدف پاکستان خطے میں امریکی پالیسیوں کا ساتھ دینے ہی کے نتیجے میں بنا، ہماری مثالی جدوجہد، کامیابیوں اور سب سے زیادہ قربانیوں کے باوجود امریکی قیادت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے اور ڈومور کی رٹ لگائے رکھنے کی قطعی غیر معقول حکمت عملی پر کاربند ہے۔ امریکی کوششوں ہی کے باعث پاکستان دہشتگرد تنظیموں کی مالی امداد روکنے میں کامیاب نہ ہونیوالے ملکوں کی گرے لسٹ میں شامل کیا جانیوالا ہے۔

فی الحقیقت امریکی قیادت کی پاکستان سے ناراضگی کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کے چین سے گہرے روابط ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری کی شکل میں بین الاقوامی اقتصادی میدان میں چین کی غیر معمولی پیش قدمی کے امکانات نے امریکا کو ہوش ربا خدشات میں مبتلا کر رکھا ہے اور چین کا راستہ روکنے یا کم ازکم اس کی پیش قدمی میں رکاوٹیں ڈالنے اور رفتار کم کرنے کا آسان نسخہ امریکا کے پاس پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی شکل میں موجود ہے۔ نیز چین کیخلاف تجارت کے شعبے میں امریکا کے مزید اقدامات سی پیک اور پاکستان میں چین کے تعاون سے جاری ترقیاتی منصوبوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

امریکا میں برسر روزگار پاکستانیوں کیلئے بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں جبکہ خلیجی ریاستوں سے بھی پاکستانی کارکنوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ترسیلات زر کا متاثر ہونا یقینی ہے لیکن دانشمندانہ حکمت عملی سے ان مشکلات کو مواقع میں بدلا جاسکتا ہے۔ بیرون ملک پاکستانی وسائل بھی رکھتے ہیں اور مختلف شعبوں میں مہارت اور تجربہ بھی، قابل عمل زرعی اور صنعتی منصوبے شروع کرنے کیلئے ان کی مناسب رہنمائی اور تعاون اور بین الاقوامی اقتصادیات میں متبادل شرکاء کی تلاش کے ذریعے ملک وقوم کیلئے فلاح وترقی کی نئی راہیں کھولی جاسکتی ہیں، یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہمارے ارباب اختیار سوچ کا پیمانہ وسیع کریں گے اور امریکہ پر اکتفاء کرنے کی بجائے خطے کے دیگر ممالک کیساتھ اقتصادی ومعاشی روابط بڑھائیں گے۔

متعلقہ خبریں