Daily Mashriq

بول کہ لب آزاد ہے تیرے ؟؟؟

بول کہ لب آزاد ہے تیرے ؟؟؟

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے نواز شریف، مریم نواز اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر 16لیگی رہنماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر عبوری پابندی عائد کئے جانے کے بعد ملک بھر میں اس فیصلے کے حوالے سے لگتا ہے کہ ایک اور پنڈورا باکس کھل گیا ہے، جہاں کچھ لوگ اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں اور اسے درست قرار دے رہے ہیں، وہیں اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار بھی سامنے آیا ہے، ٹویٹر پر بھی اس حوالے سے ایک نئی بحث چل پڑی ہے جو دراصل سینئر پارلیمنٹرین، ریٹائرڈ سینیٹر اور پیپلز پارٹی کے ایک اہم رہنماء فرحت اللہ بابر کی ایک ٹویٹ پوسٹ کرنے کے بعد شروع ہوئی ہے، اپنی ٹویٹ میں جناب بابر نے لکھا ہے کہ ’’لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی میں شدید مذمت کرتا ہوں، یہ کونسا قانون ہے کہ آپ لوگوں کیخلاف جو مرضی فیصلہ سنا دیں اور وہ لوگ چپ سادھ لیں۔ آپ لوگوں کے فیصلوں کیخلاف بولنا بھی توہین ہے، اب آپ لوگ اپنے فیصلوں سے عوام کو اپنے خلاف ورغلا رہے ہیں‘‘۔ فرحت اللہ بابر کی اس ٹویٹ میں سے کچھ الفاظ میں نے حذف کر لئے ہیں اگر کسی کو دیکھنا ہو توٹویٹر پر جا کر ان الفاظ کو پڑھا جاسکتا ہے، اسی طرح ایک اور ٹویٹ میں جو عالمگیر مشوانی نے پوسٹ کی ہے، ایک اہم سوال پوچھا گیا ہے، لکھتے ہیں، ’’یہ یقین کیسے اور کون کریگا کہ تقاریر میں کچھ خاص متن عدلیہ مخالف ہے، عدالتی فیصلے پبلک پراپرٹی ہوتے ہیں اور ان پر تنقید جائز ہے، عدلیہ مخالف تقاریر تو عمران خان کرتا رہا جو کھلم کھلا افتخار چوہدری پر آر او الیکشن اور دھاندلی کے الزامات لگاتا رہا، (انہیں) شرمناک بولتا رہا‘‘۔ اس ساری صورتحال پر منیر نیازی کا ایک شعر یاد آگیا ہے کہ

ادب کی بات ہے ورنہ منیر سوچو تو

جو شخص سنتا ہے وہ بول بھی تو سکتا ہے

ججز کے حوالے سے یہ کہاوت خاصی مشہور ہے کہ ججز نہیں بولتے، ان کے فیصلے بولتے ہیں، مگر اب کچھ عرصے سے یہ مقولہ لگتا ہے اپنی شکل تبدیل کر چکا ہے کیونکہ اب ماشاء اللہ جہاں ججوں کے فیصلے بولتے ہیں وہاں وہ خود بھی بول رہے ہیں، اور دوران شنوائی کسی بھی معاملے پر ان کے دیئے ہوئے ریمارکس کا جادو سر چڑھ کر یوں بولتا ہے کہ یہ ریمارکس جن سیاسی حلقوں کو سوٹ کرتے ہیں، وہ انہیں اچک لیتے ہیں اور ان کی روشنی میں مخالف سیاسی رہنماؤں پر تابڑ توڑ حملے کر کے انہیں زچ کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے، مثلاً سسلین مافیا اور گاڈ فادر کے الفاظ تو اب ہمارے ہاں محاوروں کی شکل اختیار کر چکے ہیں، ایک ٹویٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ جو لوگ موجودہ فیصلے پر معترض ہیں وہ اس وقت کہاں تھے جب ایم کیو ایم کے سربراہ پر اس قسم کی پابندی عائد کی گئی، جبکہ ایک اور ٹویٹ میں اس فیصلے پر اعتراض کرنیوالے کا مؤقف یہ ہے کہ مولانا خادم رضوی نے جب عدلیہ کو ’’آڑے ہاتھوں‘‘ لیا تھا تو اس وقت عدلیہ کیا کیا تھا۔ ان دونوں اعتراضات یا عدلیہ کے حق اور فیصلے کے مخالف کے خیالات کے حوالے سے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ مولانا خادم رضوی نے اسلام آباد دھرنے کے موقع پر جو گل افشانی گفتار فرمائی تھی یعنی ان کے زبان مبارک سے جو پھول جھڑ رہے تھے اس پر تو صرف ایک مصرعہ ہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ

کتنے شیریں ہیں تیر ے لب کہ رقیب

دوسرے مصرعے کی گنجائش اسلئے نہیں ہے کہ کہیں اس کے درج کرنے پر بھی کوئی حد لاگو نہ کر دی جائے، اسلئے جسے پڑھنا ہو وہ دیوان غالب سے رجوع کر کے غزل نمبر 26دیکھ لے جبکہ ایم کیو ایم کے سربراہ کی زباں بندی کی حقیقت یہ ہے کہ موصوف نے تمام حدیں پھلانگتے ہوئے پاکستان کی سالمیت اور اساس کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا اور ان کا عدلیہ یا ججوں کیخلاف اظہار خیال کا مسئلہ نہ تھا۔ ایسی صورت میں ان کی زبان بندی کو کیسے غلط قرار دیا جا سکتا ہے۔ خیر بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کے خیالات سے رجوع کرتے ہیں جنہوں نے اس معاملے پر ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پیمرا کو جاری کی گئی ہدایات آئین اور قانون کے مطابق نہیں، میڈیا، عدلیہ، قانون سازوں اور ایگزیکٹوز پر نظر رکھنے والا ادارہ ہے، اگر اس کو عدلیہ کی ہر بات ماننی پڑ جائے تو اس سے اس کی غیرجانبداری پر اثر پڑے گا۔ ادھر صحافیوں، ایڈیٹرز، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے آزادی اظہار رائے حقوق کی سربلندی کی تحاریک اور اختلات رائے کو دبانے پر شدید تحفظات کا اظہارکیا ہے۔ سول سوسائٹی اور میڈیا کے کارکنان کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں حقوق کی تحاریک اور غیر منتخب اداروں پر تنقید کرنیوالے لوگوں پر جبر کیخلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔اس ساری صورتحال کا غیرجانبداری سے جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ آنیوالے انتخابات کے حوالے سے ایک مخصوص سوچ اُبھر رہی ہے اور بعض حلقے کچھ خاص لوگوں کیلئے راہ یوں ہموار کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں کہ گلیاں ہو جان سنجیاں، وچ مرزا یار پھرے تاہم اس صورتحال کا تدارک یوں کیا جا سکتا ہے کہ

زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے

ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے

اس کا علاج تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نشر کرنے سے پہلے تمام سیاسی رہنماؤں کی تقاریر ریکارڈ کر کے ’’قابل اعتراض‘‘ حصے حذف کر دیئے جائیں، اس سے سیاسی افراتفری بھی ختم ہوجائے گی۔ وما علینا الالبلاغ

متعلقہ خبریں