Daily Mashriq


آئینہ کیو ں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

آئینہ کیو ں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑھتی فحاشی کا نوٹس لیکر آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ اسلام آباد پولیس کی لیڈی افیسر اور کانسٹیبلز کا ہراساں کئے جانے کا خط سامنے آنے کے بعد پولیس کا ایک ایسا چہرہ سامنے آگیا ہے جسے چھپانا ممکن نہیں۔ اس امر پر قیاس نہ کرنے کا کوئی وجہ نہیں کہ خیبر پختونخوا پولیس میں بھی اس قسم کے معاملات کی گنجائش ہوگی، ممکن ہے کسی دن طشت ازبام بھی ہو جائے۔ مجھے یہ خیال اسلئے بھی آیا کہ میں مسلسل چوتھا کالم صوبائی دارالحکومت پشاور سے تسلسل سے ملنے والی فحاشی کے اڈوں کیخلاف لکھ رہی ہوں لیکن پولیس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی جن کو اباحیت اباحیت نہ لگتی ہو ان سے کچھ بھی غیر متوقع نہیں۔ کیا پشاور ہائیکورٹ کے معزز چیف جسٹس بھی اس کا ازخود نوٹس لیکر آئی جی سے رپورٹ طلب نہیں کر سکتے۔ ابتداء میں مجھے بجا طور پر توقع تھی کہ آئی جی براہ راست نمبر پر ملنے والی شکایات کا نوٹس لیں گے لیکن وہ شاید عمران خان کے وژن کے مطابق پولیس میں اصلاحات لانے میں زیادہ مصروف ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی سیاسی مصروفیات بڑھ گئی ہوں گی اور بی آر ٹی الگ سے بلائے جان بن چکی ہوگی۔ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں، شاید یہ سعادت نگران دور میں کسی کے نصیب میں آئے۔ مجلس علماء حیات آباد کے صدر محترم مولانا رفیع اللہ قاسمی نے میری اپیل کا مثبت جواب دیا ہے۔ توقع ہے مجلس علماء حیات آباد اس جمعہ تک کوئی لائحہ عمل مرتب کر کے انسداد فواحش کیلئے جہاد کا آغاز کریں۔

پیرا پلیجک سینٹر حیاد آباد سے ایک بھائی نے لکھا ہے کہ خیبر پختونخوا میں معذور افراد جن کو خصوصی افراد کے نام سے تو یاد کیا جاتا ہے مگر ان کو خصوصی افراد کا درجہ دینا تو درکنار ان کو عام لوگوں کے جتنے بھی حقوق نہیں ملتے۔ میرے اس بھائی نے بڑے درد بھرے لہجے میں شکوہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے ان کو بجا طور پر توقع تھی کہ وہ خصوصی افراد کے حوالے سے ضرور قانون سازی کرکے ان کو معاشرے میں کچھ حقوق اور سہولتیں دلائے گی لیکن ان پانچ سالوں کے دوران عمران خان سمیت صوبائی حکومت کے کرتا دھرتاؤں نے ذرا بھی ان کے مسائل پر توجہ نہ دی اور نہ ہی کوئی بل پیش کیا گیا اب جبکہ خصوصی افراد کے پوسٹل بیلٹ ووٹ کی ضرورت پڑگئی ہے تو جھوٹی ہمدردیاں دکھائی جا رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں خصوصی افراد کی حالت زار اپنی جگہ اور ان کے حل کی توقعات اپنی جگہ، نظامت سماجی بہبود کے پاس خیبر پختونخوا میں خصوصی افراد کے درست اعدوشمار تک موجود نہیں۔ کیا یہ مذاق نہیں کہ نظامت سماجی بہبود خیبر پختونخوا کے مطابق صوبے اور فاٹا میں خصوصی افراد کی تعداد صرف انچاس ہزار آٹھ سو آٹھ ہیں جس میں چالیس ہزار جسمانی معذور جبکہ نو ہزار آٹھ سو آٹھ بصارت سے محروم ہونے کے اعداد وشمار ہیں۔ میرے بھائی جس جگہ کام کرتے ہیں وہاں جتنے مریض آتے ہیں اگر صرف ان کا ہی حساب لگایا جائے تو خصوصی افراد کی تعداد لاکھوں میں بنتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں معذور افراد کی تعداد 35لاکھ ہے جبکہ ملک بھر میں لگ بھگ ڈھائی کروڑ افراد معذور ہیں۔ میرے اس بھائی نے بڑے دردمند لہجے میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں اقلیتی برادری اور خواجہ سراؤں کے مسائل کو تو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے اور حکومت ومعاشرہ دونوں بڑھ چڑھ کر اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش میں لگے ہیں لیکن معذور افراد کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ خصوصی افراد کے حوالے سے اس کالم میں مزید کچھ لکھنے کی ہمت نہیں لیکن میں کوشش کروں گی کہ آئندہ کالموں میں ان کے حوالے سے کچھ نہ کچھ ضرور لکھوں۔ معذور قارئین کی ایک بڑی تعداد صحت کارڈ اور سرکاری اداروں سے امداد دلوانے کیلئے مجھ سے باربار برقی پیغامات کے ذریعے تقاضا کرتے رہتے ہیں۔ میرے ابتدائی کالموں میں ان کا ذکر بھی کئی بار آیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں خصوصی افراد کیلئے اقدامات کی بھی ہدایت کی تھی مگر اے بسا آروز کہ خاک شدہ۔ محولہ دونوں موضوعات کی تفصیل کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار اور پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہی وہ اُمید کی کرنیں دکھائی دے رہی ہیں جن سے اس بارے توقعات وابستہ کی جا سکیں۔

یوسی سلطان خیل دیر کے ایک قاری نے شکایت کی ہے کہ ان کے یوسی میں 1995ء سے اب تک میٹر ریڈنگ کی تکلیف کبھی کبھار ہی کی جاتی ہے۔ صارفین بجلی کو بغیر ریڈنگ کے بھاری بل بھجوائے جاتے ہیں۔ انہوں نے لوڈشیڈنگ کا تذکرہ نہیں کیا‘ لوڈشیڈنگ بھی ہوتی ہوگی لگتا ہے کہ پیسکو حکام اس سے لا علم ہوں گے ورنہ پیسکو میٹر ریڈنگ اور درست بل بھجوانے کی حد تک کافی بہتر اقدامات کر رہی ہے۔ پیسکو چیف سے معاملے کا نوٹس لینے کی استدعا ہے۔

عوامی مسائل کے حوالے سے اگر میں ملنے والے ایس ایم ایس شامل کرنے کی کوشش کروں تو اب تک ملنے والے پیغامات کو کھپانے میں مہینے لگ جائیں، میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ہر حکومت کا یہ دعویٰ رہتا ہے کہ انہوں نے عوامی مسائل حل کر لئے، صحت اور تعلیم کے شعبے میں کارہائے نمایاں انجام دیئے، مجھے ان دعوؤں کی صداقت اور حقیقت کو نہیں پرکھنا ہے، میرے پاس جو کسوٹی اس نمبر کی صورت میں گزشتہ چند مہینوں سے موجود ہے اس کسوٹی کے ذریعے میں آنکھیں بند کر کے اس امر کا اظہار کر سکتی ہوں کہ ہر چند کہ ہیں مگر نہیں ہیں کچھ بھی نہیں سب صفر ہے مگر مانے کون؟۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں