Daily Mashriq


زندہ رہنے کیلئے کھانا

زندہ رہنے کیلئے کھانا

حالیہ ہلکی پھلکی بارشوں نے پشاور کا موسم خوشگوار کر دیا ہے۔ موسم اچھا ہو تو یقیناً طبیعت پر اچھے اثرات ضرور پڑتے ہیں، موڈ خوشگوار ہو جاتا ہے، حالات جیسے بھی ہوں زندگی کا سفر جاری رہتا ہے۔ کل ایک مہربان شاید خوشگوار موسم سے متاثر ہوکر کہنے لگے کہ کبھی آپ کھانے پینے کے حوالے سے کالم لکھا کرتے تھے ہم نے آپ کے کالموں کی وساطت سے حلوہ پوڑی، سری پائے، چپل کباب اور دوسرے بہت سے چسکے دار پشاوری کھانوں کے اصلی مراکز تک رسائی حاصل کی اور صحیح معنوں میں ان کھانوں سے لطف اندوز ہوئے! ہمیں اپنے دوست کی بات سن کر خوشی بھی ہوئی کہ چلو ہماری وجہ سے کچھ کھانے پینے کے شوقین حضرات کچھ اور نہ سہی پیٹ پوجا کا مقدس فریضہ ہی سرانجام دیں لیں تو بڑی بات ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ آپ کھانے پینے کی اہمیت سے کسی صورت انکار نہیں کرسکتے، بڑے بڑے دانا وبینا اس چکر سے ہزار نکلنے کی کوشش کرتے ہیں مگر نکل نہیں پاتے اور جو نکل جاتے ہیں وہ پھر عام انسان نہیں رہتے انہیں آپ ولی اللہ کہہ سکتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا نفس ان کا مطیع ہو جاتا ہے، اللہ پاک کے دوست ہی کم کھانا، کم سونا اور کم بولنا جیسے زریںاصولوں پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں! ویسے دوست کی بات سن کر ہمیںہنسی بھی آئی کہ ہمارے کالم بھی کسی کام کے ہیں؟ اگر یہ لوگوں کو چسکے دار اور چٹ پٹے کھانوں کی طرف مائل کرتے ہیں تو بس ہوگئی خدمت! پھر یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ کھانا پینا ہم سب کیلئے بحیثیت قوم بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم اس پر جان دیتے ہیں، ہم نے بڑی اہم تقریبات میں بڑے پڑھے لکھے لوگوں کو کھانے پر یوں جھپٹتے دیکھا ہے جیسے شیرنی اپنے شکار پر جھپٹتی ہے۔ کھانے پینے کے شوقین حضرات سے لفظ شیرنی استعمال کرنے پر معذرت خواہ ہیں لیکن کیا کریں کہ شکار شیرنی ہی کرتی ہے، وہی شکار کے پیچھے بھاگتی ہے اور اسے بڑی ہنرمندی کیساتھ اپنا شکار بناتی ہے۔ یہ شیرنی ہی ہے جو اپنے بچوں کو شکار کی تربیت دیتی ہے جہاں تک شیر کا تعلق ہے تو اسے ہم نے ہمیشہ ہانپتے ہی دیکھا ہے وہ یوں ہانپ رہا ہوتا ہے جیسے دن بھر اینٹوں کے بھٹے پر مزدوری کرتا رہا ہو! شیرنی کا کیا ہوا شکار کھا کر شیر کی طبیعت بدمزہ نہیں ہوتی وہ مزے لے لیکر اپنی شریک حیات کے کئے ہوئے شکار کو اپنے پیٹ میں منتقل کرتا رہتا ہے۔اگر جنگل کے بادشاہ کا بس چلتا ہے تو بیچاری ہرنی پر! خوبصورت نرم ونازک ہرنی اس کے خونی پنجوں میں پھنس کر موت کے گھاٹ اُتر جاتی ہے اب جبکہ یہ ساری باتیں طشت ازبام ہو چکی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ہم گدھے سے زیادہ شیر کی عزت کرتے ہیں حالانکہ گدھا ایک محنت کرنیوالا جانور ہے۔ ہمارے یہاں کسی بھی سیاسی پارٹی کا انتخابی نشان گدھا نہیں ہو سکتا لیکن شیر ہماری ایک سیاسی پارٹی کا نشان ہے۔ اس کے مخالفین اسے کبھی سرکس کا شیر قرار دیتے ہیں اور کبھی کاغذی شیر۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ اگر آپ کسی کو جانور کہہ بیٹھیں تو وہ آپ سے لڑنے مرنے پر تل جائے گا لیکن شیر کہہ دیں تو وہی شخص خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ ہمارا تو یہ خیال ہے کہ جب آپ ظالم بن کر مظلوموں کا شکار کسی بھی حوالے سے کرتے ہیں تو وہ قابل مذمت ہے! بات چلی تھی کھانے پینے کے حوالے سے ہمارا تو یہ خیال ہے کہ ہم بحیثیت قوم کھانے پینے کو پسند کرتے ہیں چاہے یہ کھانا پینا کسی بھی قسم کا ہو! ناجائز ذرائع سے حاصل کیا ہوا مال بھی تو کھانے پینے کے زمرے میں آتا ہے! جہاں تک پیٹ پوجا کا تعلق ہے تو اس میں تو ہم امتیازی حیثیت کے حامل ہیں اب پاکستان کے کونے کونے میں فوڈ سٹریٹ بن رہی ہیں کتابوں کی دکانیں ختم ہو رہی ہیں صرف شہر پشاور میں ہی دیکھ لیجئے کتابوں کی کتنی شاندار دکانیں ختم کر دی گئی ہیں، یہاں پر کھانے پینے کا کاروبار دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ جوتوں کے بزنس کا جادو بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے ہم دو ہزار روپے سے لے کر پندرہ ہزار روپے تک کا جوتا بڑی آسانی سے خرید لیتے ہیں، اس کے علاوہ شادی بیاہ کے موقع پر جو خریداری کی جاتی ہے اور جس فراخدلی کیساتھ پیسے کا ضیاع دیکھنے میں آتا ہے وہ قابل افسوس بھی ہے اور قابل مذمت بھی! اسے دیکھ کر ہمارے تو ہوش اُڑ جاتے ہیں لیکن پانچ سو روپے کی کتاب خریدتے ہوئے ہماری جان نکلتی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ شاید یہی ہے کہ ہمیں کتب بینی کی اہمیت کا احساس ہی نہیں ہے۔ ہمارے طلبہ صرف نصاب کی کتب ہی پڑھتے ہیں کیونکہ انہوں نے امتحان دینا ہوتا ہے یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ نصابی کتب پڑھنے سے ہم امتحان میں کامیاب تو ہو جاتے ہیں لیکن زندگی کے امتحان کو پاس کرنے کیلئے نصاب سے ہٹ کر مطالعہ بہت ضروری ہے جس کی اہمیت کا ہمیں احساس ہی نہیں ہے! ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ پیٹ پوجا سے دور رہیں، بڑے شوق سے اپنی مرضی کا من بھاتا کھانا نوش جان کیجئے، خوش رہئے لیکن ایک بات ذہن میں رہے کہ ہمیں کھانے کیلئے زندہ نہیں رہنا بلکہ زندہ رہنے کیلئے کھانا ہے!

متعلقہ خبریں