Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت نظام الدین اولیاؒ کسی کی دل شکنی نہ کرتے۔ اگر آنے والا متکبر سرمایہ دار ہوتا تو یہ درویش خدامست اسے ناکام و نامراد لوٹادیتا۔۔۔ ورنہ عام طور پر حضرت نظام الدین اولیاؒ نذریں قبول فرمالیتے تھے۔ مگراس طرح کہ ساری چیزیںاسی وقت ضرورت مندوں میں تقسیم کردی جاتی تھیں۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ‘ سلطان علاء الدین خلجی کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی دہلی اور اس کے گرد و نواح میں بہت زیادہ مشہور ہوچکے تھے۔ اس زمانے میں سلطان علاء الدین خلجی کا ایک امیر حضرت نظام الدین اولیاؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور قیمتی نذر پیش کی۔ خلجی امیر کا خیال تھا کہ حضرت نظام الدین اولیاؒ کسی پس و پیش کے بغیر اسکی نذر قبول فرمالیں گے۔ شاید اس خیال کی وجہ یہ ہو کہ خلجی امیر گوشہ نشین درویشوں کو ضرورت مند سمجھتا تھا۔ ’’تمہاری اس محبت کاشکریہ کہ تم نے درویشوں کااس قدر خیال رکھا‘‘۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ نے فرمایا: ’’ مگر اس فقیر کو اتنی بڑی رقم کی حاجت نہیں ہے‘‘۔خلجی امیر کا چہرہ اتر گیا۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ کے طرز عمل نے ایک سرمایہ دار کے ان خیالات کی نفی کردی تھی کہ درویش ضرورت مند ہوتے ہیں اور ہر خاص و عام کی پیش کردہ نذر قبول کرلیتے ہیں۔

خلیفۃ المسلمین مامون الرشید عباسی ہاشمی کو اپنے زیر تعلیم بیٹوں کے خوشگوار تنازع کی اطلاع ملی تو وہ ناراض ہونے کی بجائے خوشی سے جھوم اٹھا۔انہوں نے آن کی آن میں اپنے بیٹوں کے اتالیق امام اللغۃ والنحو یحییٰ بن زیاد فراد کو اپنے محل میں بلایا اور ان کی شایان شان ضیافت کرکے ان سے بصد ادب دریافت کیاکہ میرے علم کے مطابق تو اس وقت دنیا کی معزز ترین شخصیت وہ ہے جس کے جوتے سیدھے کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے لئے امیر المومنین کے بیٹے آپس میں الجھ پڑیں اور ان میں سے ہر ایک کی خواہش یہ ہو کہ استاد کے جوتے سیدھے کرنے کا شرف اسے ہی حاصل ہو۔ امام یحییٰ بن زیاد فراد یہ بات سن کر چوکنا ہوگئے اور سمجھ گئے کہ امیر المومنین مجھے ہی مراد لے رہے ہیں۔عرض کیا کہ اے امیر المومنین اس وقت میرے جی میں آیا تھا کہ میں انہیں اس طرح کرنے سے روک دوں لیکن میں یہ سوچ کر رک گیا کہ وہ احترام استاد کا شرف حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھے ہیں اگر میں انہیں روک دوں تو ان کا دل ٹوٹ جائے گا۔ یہ سن کر مامون الرشید نے کہا اگر تو ان کو اس فعل سے روک دیتا تو میں نے تم پر ناراض ہونا تھا اور تمہیں قصور وار ٹھہرانا تھا۔ ان کے اس فعل سے ان کی شان کم نہیں ہوئی بلکہ بلند ہوئی ہے اور مجھے ان کے اس فعل کی وجہ سے ان کے اندر فراست وفرزانگی کا ثبوت ملا ہے۔ یاد رکھو کہ تین آدمیوں کا احترام کرنے سے کسی انسان کی قدر و منزلت میں کمی نہیں ہوتی ۔ اپنے حاکم کا احترام کرنے سے‘ اپنے والدکا احترام کرنے سے‘ اپنے استاد کا احترام کرنے سے۔فی زمانہ دیکھا جائے تو حالات یکسر مختلف ہیں۔ آج کل اساتذہ کرام اور والدین کا وہ احترام نہیں جو کیا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں