Daily Mashriq


حیات آباد واقعہ کے محرکات

حیات آباد واقعہ کے محرکات

حیات آباد فیز7 میں سترہ گھنٹے کے طویل اور صبرآزما آپریشن میں افغان خودکش بمبار سمیت پانچ دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جو کارنامہ انجام دیا اور مہارت کیساتھ کم سے کم نقصان کیساتھ احتیاط سے جو کارروائی کی وہ یقیناً تحسین کا باعث امر ہے۔ ایک ایسے واقعے پر حکومت کی جانب سے اسمبلی میں بحث سے انکار اور حزب اختلاف کو اس کا موقع نہ دینا سمجھ سے بالاتر امر ہے۔ جہاں حکومت کی کمزوری اور ناکامی نہ ہو اس کے باوجود بجائے اس کے کہ ایوان کو اعتماد میں لیا جاتا حکومت کا انکار شکوک وشبہات کا باعث امر ہے جس سے یہ تاثر اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یا تو خود حکومت کو اس واقعے کی تفصیلات کا علم نہ تھا یا پھر اس کے پاس حزب اختلاف کے اراکین کے سوالوں کا جواب نہ تھا اگرچہ ایسا نظر نہیں آتا لیکن جہاں خود حکومتی رویہ احتراز کا ہو وہاں سوالات کا جنم لینا فطری امر ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ علاوہ ازیں بھی اس واقعے کے حوالے سے چہ میگوئیاں ہیں جن کو دور کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ا س واقعے کی پوری تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ جتنی تفصیلات اور معلومات بتانے کی گنجائش ہو وہ اور ساتھ ساتھ ان دہشتگردوں کے عزائم اور منصوبہ بندی سے متعلق بھی ممکنہ تفصیلات سے آگاہی دی جائے۔ علاوہ ازیں آپریشن کی طوالت اور خاص طور پر مکان کے منہدم ہونے کی صورتحال کو قابل قبول تکنیکی باریکیوں کے حوالے سے بتایا جائے تاکہ ان سوالات کا جواب مل سکے کہ آخر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے صورتحال پر قابو پانے کے بعد بارودی مواد ناکارہ بنائے جانے کے مرحلے پر اس طرح محتاط انداز سے دھماکہ کیسے ہوا کہ پوری عمارت تو زمین بوس ہوگئی مگر دیگر عمارتیں محفوظ رہیں ممکن ہے ان سوالات کا جواب تکنیکی طور پر بہت سہل اور سادہ ہو اور سوالات خواہ مخواہ شکوک پر مبنی اور بے معنی ہوں۔ عوام کی تسلی کیلئے ان غلط فہمیوں اور سوالات کا جواب دیا جانا چاہئے۔ اسمبلی کے اجلاس میں واقعے پر بحث ہوتی تو ممکن ہے علاوہ ازیں قسم کے سوالات بھی سامنے آتے اور ان کا جواب مل جانے پر معاملہ ختم ہوتا۔ مکان کے حصول اور مکینوں کی آمد کیساتھ ہی دہشتگرد یقیناً قانون نافذ کرنے والوں کی نظر میں آچکے ہوں گے یا حادثاتی طور پر ان کے ٹھکانے تک رسائی ہوئی ہو اس سے قطع نظر مروجہ این او سی کا طریقۂ کار مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔ سہولت کاروں اور مقامی افراد کو ضامن بنا کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکہ دینے میں کامیابی حاصل کی گئی۔ مذکورہ علاقہ اور مکان تاتارا پولیس سٹیشن سے زیادہ فاصلے پر نہیں بلکہ قریب ہی واقع ہے جس کیساتھ ہی معروف تعلیمی ادارہ واقع ہے جبکہ متصل فیز6 اور دیگر فیزوں میں ممکنہ خطرات کا سامنا کرنے والے تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں جن میں چند ایک خاص طور پر قابل ذکر بھی ہیں۔ حیات آباد میں معروف ہسپتالوں، اہم سرکاری دفاتر اور سرکاری افسران کی سرکاری ونجی رہائش گاہوں کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چھوٹے بڑے مراکز ہیں۔ اگرچہ وثوق سے دہشتگردوں کے عزائم کے حوالے سے کچھ کہنا مشکل ہے لیکن ان کے ممکنہ اہداف کا ان میں سے ہونا بعید نہیں۔ اس واقعے کا داخلی پہلو اتنا اہم نہیں جتنا اس کا خارجی پہلو ہے، دہشتگردوں میں سے ایک بڑے دہشتگرد کی افغان شہری کے طور پر مبینہ شناخت اور اس کے خودکش بمبار ہونے، مکان سے بارود بندھی موٹر سائیکل اور مکان کو ہر طرف سے بارودی مواد سے لیس رکھنا ہر لحاظ سے مہارت وسائل اور منصوبہ بندی کے اول درجے میں آتا ہے جس سے پس پردہ قوتوں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ حال ہی میں بھارت کیساتھ ہونے والی کشیدگی، ان کی تیاریوں اور دھمکیوں سے لیکر افغانستان کی سرزمین کا ہمارے خلاف باربار استعمال ہونے اور دہشتگردی کے ہر بڑے نیٹ ورک کے سرحد پار رابطوں جیسے معاملات حساس اور سنجیدہ قسم کی صورتحال کا باعث رہے ہیں بہرحال تحقیقات کی تکمیل کے بعد جتنا جلد ممکن ہو سکے اس واقعے کے تمام محرکات اور تفصیلات سامنے لائے جائیں اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے اور آئندہ اس قسم کے واقعات کے تدارک کیلئے مزید احسن اقدامات کئے جائیں۔ لوگوں اور خاص طور پر کرایہ داروں کے کوائف کی چھان بین کا عمل موثر، مربوط اور فوری کرنے کو یقینی بنایا جائے، صرف ضامنوں پر اکتفا کرنے کی بجائے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح اطمینان تک مخصوص اضلاع اور علاقوں سے آنے والوں کی نگرانی جاری رکھیں۔ افغان مہاجرین اور افغان شہریوں کی بھی نگرانی اور شہر میں آمد ورفت کی رجسٹریشن خود حفاظتی کیلئے اب ناگزیر نظر آتا ہے۔ شہریوں کی جانب سے بھی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیساتھ تعاون کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح کے عناصر کی نشاندہی ہوجائے تو قانون فافذ کرنے والے اداروں کیلئے بروقت کارروائی ممکن ہوجاتی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ شہری اس طرح کے عناصر کی نشاندہی میں مزید ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرینگے۔

متعلقہ خبریں