Daily Mashriq

صرف سرکاری افسران ہی کیوں؟

صرف سرکاری افسران ہی کیوں؟

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا بالآخر گرفتار سرکاری افسروں کو ہتھکڑی لگانے پر پابندی عائدکرتے ہوئے گریڈ19 اور اس سے اوپر کے افسران کی گرفتاری سے قبل پیشگی منظوری لینے کی ہدایت دیرآید درست آید کے مصداق بھی اس لئے نہیں کہ نیب کی جانب سے اب تک سرکاری افسران، پروفیسروں اور کاروباری افراد کیساتھ جو سلوک روا رکھا گیا اس میں مزید اضافے کی گنجائش نہیں تھی۔ ملک میں اس وقت نہ صرف بعض حالات کے باعث معیشت جام ہو چکی ہے بلکہ سرکاری افسران کے ذمہ داری اُٹھانے سے احتراز کے سبب حکومتی امور بھی ٹھپ پڑے ہیں۔ اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان خود بیوروکریسی کے فیصلے نہ کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں۔ احتساب کے عمل سے کسی کو اختلاف ممکن نہیں لیکن احتساب کا عمل بلاامتیاز اور سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر نہ ہو تو احتسابی عمل انگشت نمائی کا ازخود موقع فراہم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ نیب کے چیئرمین خیبر پختونخوا میں سیکرٹریٹ کے افسران سے مخاطب ہو تو انہیں باثبوت شکایات اور بلاوجہ اور لاحاصل مقدمات میں ملوث کئے جانے والے اعلیٰ افسران کا سامنا کرنا پڑا جن کے سوالات کا ان کے پاس کوئی مدلل جواب نہ تھا۔ نیب کی جانب سے احتساب کا عمل اگر تذلیل کے بغیر ہو رہا ہوتا تو اس پر اُنگلیاں اٹھانے کی گنجائش نہ ہوتی۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی محض تفتیش کیلئے طلبی اور تحقیقات کے دوران کسی شخص کو پا بہ جولان پیش کرنے کو غیرشرعی قرار دے چکی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف گریڈ اُنیس کے سرکاری افسران ہی کی عزت نفس کا خیال رکھنا کافی نہیں بلکہ کسی بھی شخص کو اس وقت تک ہتھکڑی نہ لگائی جائے جب تک اس کیخلاف اتنے ٹھوس ثبوت موجود نہ ہوں جس کی بناء پر عدالت سے ان کے سزاء کا قوی امکان ہو۔ ہر شہری کی عزت نفس کا خیال رکھا جانا چاہئے یہاں تک کہ وہ مجرم ثابت نہ ہو اور عدالت سے ان کو سزا نہ دی جائے۔

مسجد مہابت خان کی پکار

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں ایم ایم اے کی رکن ریحانہ کی جانب سے اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ تاریخی مسجد مہابت خان کے اطراف میں کھدائی اور تعمیرات پر پابندی لگا کر دکانیں خالی کرائی گئیں تو اگلے ہی روز سیاسی دباؤ پر فیصلہ واپس لیا گیا۔ آج پھر اس مسجد کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس کے جواب میں متعلقہ صوبائی وزیر کی جانب سے کی گئی یقین دہانی اور بیان کا حقائق کے برعکس ہونا حکومت کیلئے کوئی نیک شگون نہیں جو معاملات فائل اور دستاویزات کی حد تک ہوں ان کی مختلف تشریح تو ہوسکتی ہے مگر جو نوشتہ دیوار ہو اس کی مختلف توضیح نہیں ہوسکتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تاریخی مسجد مہابت خان اس شہر کا دینی اور ثقافتی ورثہ ہے جس کا تحفظ صرف حکومت اور متعلقہ محکمے ہی کی نہیں پورے اہل شہر کی ذمہ داری ہے۔ تاریخی مسجد کے تحفظ کیلئے اقدامات اور اس کے اردگرد تجاوزات اور دکانوں کو ہٹانے کی راہ میں جو رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں اس کے باعث متعلقہ محکمۂ فنڈز اور وسائل مختص کرنے کے باوجود کام نہیں کر پاتا۔ بااثر افراد اور سیاسی مصلحتوںکی بناء پر رکاوٹیں ڈالنا اور متعلقہ محکمے کو کام سے روکنا کوئی الزام نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت کو اب اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا چاہئے جو لوگ تجاوزات کے مرتکب ہوں ان سے کوئی رعایت نہ کی جائے اور جو لوگ قانونی طور پر مالی معاوضے کے مستحق ہوں ان کو مناسب معاوضہ دے کر مسجد کی بنیادوں اور مینارکی مرمت اور مضبوط بنانے کا کام جلد سے جلد شروع کیا جائے۔

یونیورسٹی ومدارس کے طلبہ کا مکالمہ

شعبہ پولٹیکل سائنس جامعہ پشاور کے زیراہتمام ایک روزہ یونیورسٹی ومدارس مکالمہ کا اہتمام دونوں علوم کے طلبہ کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور تعمیری سوچ کے اُجاگر کرنے کا باعث بنے گا۔بدقسمتی سے عصری علوم کو لغو تعلیم اور دینی تعلیم کو جدید تقاضوں سے عدم ہم آہنگ خیال کیا جاتا ہے یہاں تک کہ ہر دو علوم کے طالب علموں کے خیالات ایک دوسرے کے حوالے سے مثبت بھی نہیں ہوتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عصری علوم کے طالب علموں کو بطور مسلمان دین سے پوری طرح آگاہی کیلئے دینی علوم کا عرق ریزی سے مطالعہ کرنا چاہئے جبکہ دینی مدارس کے طلبہ بھی عصری علوم کو شجرممنوعہ سمجھنے کی بجائے اس کا مطالعہ کر کے جدید تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کریں۔ جب تک ہر دو علوم حاصل کرنے والوں کے درمیان ہم آہنگی اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی فضا قائم نہیں ہوتی اس وقت تک نہ صرف غلط فہمیوں کا ازالہ ممکن ہوگا بلکہ تضادات بڑھیں گے۔ معاشرے میں ہم آہنگی کیلئے معاشرے کے تمام طبقوں کے درمیان مکالمہ کی ضرورت ہے تاکہ بعد قربت بدل جائے۔

متعلقہ خبریں