Daily Mashriq


بارشوں سے بدحال کسان اور دانش کے نمونے

بارشوں سے بدحال کسان اور دانش کے نمونے

چاروں صوبوں کے بیشتر علاقوں میں کئی دن سے جاری طوفانی بارشوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ مجموعی طور پر اب تک 40سے زیادہ افراد جاں بحق، سینکڑوں مکانات اور ہزاروں ایکڑ گندم کی فصل کیساتھ ساتھ سرائیکی وصیب اور سندھ میں آموں کے باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ چھوٹے بڑے زمیندار، چند ایکڑ کی ملکیت رکھنے والے کاشتکار اپنی دنیا لٹتی دیکھ رہے ہیں۔ بے موسمی بارشوں سے ہوئے ان نقصانات کے مداوے کیلئے حکومت زمینداروں اور کسانوں کو دیئے گئے قرضوں پر سود کی فوری معافی اور قرضوں کی اصل رقم کی وصولی کم وبیش تین سال کی چھوٹ دے۔ عشر اور مالیہ معاف کرنے کیساتھ امدادی پیکج کا اعلان کسی تاخیر کے بغیر کرے اس کیساتھ ساتھ محکمۂ موسمیات کو ازسرنو جدید خطوط پر منظم کرنے کی حکمت عملی اپنائی جائے۔ بدترین مہنگائی کے ہاتھوں ستائے شہریوں اور خصوصاً دیہی آبادیوں کی جو درگت بے موسمی بارشوں نے بنائی ہے اس پر محض افسوس کا اظہار کافی نہیں اصلاح احوال کیلئے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ یہ بجا ہے کہ خالق ارض وسماوات کے حضور دست دعا بلند کرنے چاہئیں مگر بنیادی اور ضروری اقدامات کے بغیر دعائیں کارگر کیسے ہوںگی؟ ایک وفاقی وزیر مملکت محترمہ زرتاج گل نے دس پندرہ دن قبل ارشاد فرمایا تھا کہ حکمران نیک اور ایماندار ہوں تو آسمان سے رحمتیں برستی ہیں۔ اب انہیں چاہئے کہ وہ کسی عالم دین سے رجوع کر کے یہ ضرور دریافت کریں کہ ’’دولت بخیلوںکے پاس، بے وقت کی بارشیں اور اقتدار حکمت عملی سے محروم لوگوں کے ہاتھ کیوں چڑھتا ہے؟‘‘۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ زمینداروں اور کسانوں کیلئے امدادی پیکج کا اعلان کسی تاخیر کے بغیر کیا جانا بہت ضروری ہے۔ حکومت کھاد فیکٹریوں کو معمولی قیمت پر سوئی گیس فراہم کرتی ہے، کھاد فیکٹریوں کے مالکان کو پابند کرے کہ وہ کم ازکم اگلے ایک سال کیلئے کھاد کی قیمت میں پچاس فیصد تک کمی کریں۔ زرعی ادویات کی قیمتوں میں بھی اس تناسب سے کمی کرانا ہوگی تب کہیں زمیندار اور کاشتکار سُکھ کا سانس لے سکیں گے ورنہ جو حالات بن رہے ہیں اس سے ایک نیا اور خوفناک بحران جنم لے گا۔پچھلے چند دن مسلسل سفر میں گزرے چند ضروری کام اور کچھ موضوعاتی نشستوں میں شرکت وجہ سفر تھی، قدم قدم پر نئی کہانیاں اور دانش کے نئے نمونے دیکھنے کو ملے۔ وسطی پنجاب کے دورافتادہ قصبے حویلی لکھا میں جمی ایک محفل میں عرض کیا ہمیں اس بنیادی المیہ کو سمجھنا ہوگا کہ ستر برسوں کے دوران اس ملک میں انسان سازی کا ایک ادارہ بھی قائم نہیں ہوسکا۔ محفل میں شریک ایک صاحب جو لاہور کے دوروزناموں کے کراچی میں ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہونے کے دعویدار تھے بولے یہ انسان سازی کیا ہوتی ہے۔ جیسے گھڑی سازی اور دندان سازی نام بدلنے کی ضرورت ہے۔ لوگ سمجھ ہی نہیں پائیں گے۔ فاتحہ خوانی کیلئے دل ودماغ نے بہت ضد کی لیکن میزبان کا احترام مار گیا۔ کیسے کیسے نابغے زمین کا بوجھ ہیں۔ ایسے ہی ایک نابغے نے لگ بھگ پندرہ منٹ حب الوطنی کے فضائل پڑھنے کے بعد ارشاد فرمایا! فوج نہ ہو تو ہم سانس بھی نہ لے سکیں، اگلے لمحے جمہوریت اور سیاستدانوں پر دہن کی توپ سے گولہ باری شروع کر دی۔ حوالے کے طور پر چند ٹی وی پروگراموں کے نام بہت احترام کیساتھ لئے۔ مجھے احساس ہوا کہ اگر ان کی بات کی تردید کی تو جھٹ سے توہین اینکران کا فتویٰ صادر کر کے سر تن سے جدا کا نعرہ بلند نہ کریں۔ پھر بھی ڈرتے ڈرتے عرض کر ہی دیا حضور! اس ملک کی وحدت کی ضمانت دستور ہے کوئی ادارہ نہیں، ادارے دستور کے تابع ہوتے ہیں۔ فوج باقی دنیا کے ممالک بھی رکھتے ہیں اور دفاعی اخراجات بھی قومیں برداشت کرتی ہیں، ابدی اصول یہی ہے کہ ریاست کی فوج ہوتی ہے فوج کی ریاست ہرگز نہیں۔ کسی دن 100روپے کے بجٹ کا حساب کر کے دیکھ لیں۔ دفاع، سول اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کا تناسب کیا بنتا ہے۔وسطی پنجاب کی تاریخی اہمیت کے حامل قصبے ملکہ ہانس میں بھی چند گھنٹوں کے دوران احباب سے دو نشستیں ہوئیں۔ صورتحال وہاں بھی مختلف نہیں تھی سستی حب الوطنی سے سرشار لوگ زیادہ اور دفاع پر زور دینے والے کم ملے۔ جماعت اسلامی سے نظریاتی رشتے میں جڑے ایک معلم کا خیال تھا اگر جماعت اسلامی کو قیادت مل جاتی تو ملک ایک عظیم الشان ریاست کے طور پر اقوام کی برادری کی قیادت فرما رہا ہوتا۔ عرض کیا پہلے جماعت اسلامی کو پراپرٹی ڈیلرز سے تو نجات دلوا دیجئے۔ لوگ پوچھتے ہیں وہ قرطبہ سٹی کا منصوبہ کیا ہوا؟ ان کی سرمایہ کاری کہاں گئی؟ فارمنائٹس والی سوسائٹی میں کیسے 3400پلاٹ تین جگہ کس اسلامی اصول کے تحت فروخت کر دیئے اور فروخت کرنے والے کو جماعت لاہور سے قومی اسمبلی کیلئے اپنا امیدوار بھی بنالیتی ہے۔ ملاقاتوں اور تبادلہ خیال میں گزرے تین دنوں کے سفر نے بہت تھکا دیا۔ اس سفر کے ہم سفروں میں مبشر علی فاروق ایڈوکیٹ اور احمد سرفراز ایڈوکیٹ زندہ دل نوجوان ہیں گو ان کے اندر کا وکیل ہر قدم پر چھلانگ لگا کر برآمد ہونے کی کوشش کرتا رہا لیکن مجموعی طور پر انہوں نے اپنے بزرگ دوست کا مان بہت رکھا۔ حویلی لکھا میں گزری شب کے دوران پنجاب کے ایک سابق وزیراعلیٰ میاں منظور احمد وٹو کی جوڑ توڑ سے بھری سیاست کے خوب تذکرے ہوئے۔ اس دوران وٹو صاحب کا مشہور زمانہ قول بھی یاد آگیا۔ پنجاب میں نون لیگ کا تختہ الٹ کر مخلوط حکومت بنی تو انہوں نے کہا ’’وٹوؤں کے پاس تو بھینس آجائے وہ واپس نہیں کرتے وزارت اعلیٰ کیسے واپس کر دیں گے‘‘۔ حرف آخر یہی ہے بارشوں کے موسم کے ٹلنے کا فوری امکان نہیں اس لئے معصوم وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی بات مان لیجئے اللہ سے اپنے اور (حکمرانوں کے بھی) گناہوں کی معافی مانگ لیجئے۔

متعلقہ خبریں