Daily Mashriq


شخصیت پرستی اور بُت پرستی

شخصیت پرستی اور بُت پرستی

دنیا میں دوقومی نظریات فطرت کی طرف سے ہے، یہ ساری کائنات سوائے انس وجن کے اللہ تعالیٰ کے حکم کے فرمانبردار اور مطیع ہے۔ انس وجن کو عقل کی بیش بہا نعمت سے نواز کر مکلف بنایا گیا تو ان دونوں میں سے بعض فرمانبردار اور بعض نافرمان ہو کر دو قوموں میں بٹ گئے۔ حدیث کا مفہوم بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ دنیا میں دو ہی قومیں ہیں، ماننے اور تسلیم ورضا والے اور نہ ماننے والے اور اللہ کے حدود سے بغاوت کرنے والے۔

جو لوگ اللہ تعالیٰ اور خاتم النبیینؐ کو آخری اور کامل وجامع پیغمبر ونبی تسلیم نہیں کرتے وہ اپنی انفرادی واجتماعی زندگی اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق گزارتے ہیں۔ نبی اکرمؐ کی بعثت سے قبل ساری دنیا میں مختلف صورتوں اور شکلوں میں شخصیت پرستی اور بت پرستی جاری تھی۔ مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے اندر اور صفا ومروہ پر بہت ہی بت تھے۔ اسی طرح دنیا میں اور بھی ملکوں اور خطوں میں یہ سلسلہ جاری تھا۔

آپؐ نے قرآن وسنت کی صورت میں انسانیت کو جو نظام زندگی عطا فرمایا وہ ہر لحاظ سے ہر قسم کی شخصیت پر ستی اور بت پرستی سے خالی تھا اور فتح مکہ کے موقع پر ’’حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور بے شک باطل مٹنے والا ہے‘‘۔ اس کیساتھ ہی جہاں جہاں اسلام پہنچا انسانیت ظاہری اور باطنی لحاظ سے ہر قسم کی شخصیت پرستی اور بت پرستی سے منزہ ومطہر ہوتی چلی گئی۔ دنیا میں نبی اکرمؐ سے نہ کوئی بڑی شخصیت ہے اور نہ قیامت تک آسکے گی لیکن آپؐ لوگوں سے فرمایا کرتے تھے کہ ’’مجھے بادشاہ یا شہنشاہ کے الفاظ سے مخطاب نہ کرو‘‘۔ آپؐ کی عاجزی (عبدیت) اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند تھی کہ معراج شریف کے موقع پر آپؐ کو ’’عبد‘‘ (بندہ) کہہ کر مخاطب فرمایا، کیونکہ اللہ کے نزدیک بندگی (عبدیت) سب سے بڑا درجہ ہے۔

لیکن دنیا آپؐ کے عہد مبارک سے جتنی دور سرکتی چلی گئی، انسانیت کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ وہ انسانیت جس کو آپؐ کی تعلیمات نے زنجیروں سے آزاد کرا کر شرف وتکریم سے نوازا تھا، دوبارہ قدم قدم پر انسان، انسان کے ہاتھوں مختلف ناموں اور شکلوں میں غلامی اور پابندیوں میں یوں جکڑ گیا کہ آج دنیا میں بھی شخصیت پرستی اور بت پرستی یوں عام ہوگئی ہے کہ انسان اپنا شرف کھو بیٹھا ہے۔ آمریت اور ڈکٹیٹرشپ میں لوگ خوف اور طمع کے سبب آمر کی شخصیت پرستی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ سلسلہ تاریخ انسان میں فرعون، نمرود وشداد سے شروع ہوا تو پندرہویں اور سولہویں صدی کے مغربی بادشاہوں اور آمروں سے ہوتے ہوتے ایشیا کے مسلمان ملکوں کے بادشاہوں تک جاری رہا۔ بیسویں صدی کے جدید دور میں رضا شاہ، صدام حسین، حسنی مبارک، معمر قذافی، اسد اور مشرقی وسطیٰ کے موجودہ بادشاہوں تک یہی سلسلہ وشخصیت پرستی جاری وساری ہے۔

آج اکیسویں صدی میں ہندوستان اور دنیا کے بعض دیگر ملکوں میں عملی بت پرستی یا اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کی پوجا کے علاوہ جمہوریت کے نام پر سیاسی پارٹیوں کے بڑوں کی صورت میںہر پارٹی کے ورکروں کے ہاں شخصیت پرستی اس قدر زوروں پر ہے کہ ورکروں کو اپنے سیاسی رہنما میں کوئی خامی اور کمزوری نظر نہیں آتی اور اگر نظر آبھی جائے تو بقول شاعر ’’ستا بے وفائی مِہ پہ وفا منلے دہ‘‘ کے مصداق اُس کی عقیدت میں کوئی فرق پیدا نہیں کرتی۔اس وقت مغربی سیکولر جمہوریت بذات خود ایک بہت بڑا بت بن کر عوام اور جمہور سے اپنی پرستش کرا رہا ہے، یہ پرستش اس وقت اتنی گہری اور ہمہ گیر ہوچکی ہے کہ کوئی اور دوسرا نظام نظروں میں جچتا ہی نہیں، بت پرستی اور شخصیت کی ایک اور قسم بھی تاریخی اور قدیم ہے۔ یہ ہے مالداروں کی شخصیت پرستی لفظ مال کے معنی میں یہ مفہوم موجود ہے کہ یہ عام لوگوں کو اپنی عبادت اور پرستش پر بہت جلد مائل کرتی ہے اور مالدار (الاماشاء اللہ) بغاوت پر مائل ہو کر لوگوں کو اپنی شخصیت کا گرویدہ بنانے کیلئے کوشاں ہوتے ہیں۔ اس لئے اسلام نے دنیا کے مال ومتاع کو غرور (دھوکہ وفریب) کہا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اس نکتے کو کس قلندرانہ انداز میں واضح فرمایا ہے

یہ مال ودولت دنیا یہ رشتہ وپیوند

بتان وہم وگماں لا الہ الا اللہ

لیکن بہرحال اس وقت دنیا میں عام طور پر جو بت پرستی رائج ہے وہ مال کے بت کی ہے اور بہت پرکشش اور طاقتور ہے۔ آج دنیا میں مال کو بھگوان کا درجہ دیا جاتا ہے اور اس کو لوگ لا الہ الاالمال۔۔ کی حد تک پوجنے لگے ہیں۔ قرآن نے اسے اَلھٰکُمُ التَّکاثُر حَتیٰ زُرتُمُ المَقَابِر یعنی قبر میں جانے تک اس بت کی پوجا میں مشغول رہتے ہیں۔

پاکستان میں تو شخصیت پرستی اور دولت پرستی کے علاوہ اکابر پرستی اور مذہبی لبادے میں شخصیت پرستی سب سے بڑھ کر ہے۔ آپ اسلامی دنیا میں چکر لگا کر پھریں، ہندوستان، پاکستان، ایران وعراق کے علاوہ دیگر ملکوں میں اصطلاحات مذہب کے نام پر قدم قدم پر لوگوں کو جکڑا ہوا ہے۔پاکستان میں تو زندہ پیر اور مزاروں کے میلے لگے ہوئے ہیں۔ مشکلات، بیماریوں اور تنگ دستیوں میں مبتلا عوام ہر موڑ پر پہاڑوں کے دامن اور چوٹیوں پر بیٹھے مشکل کشا اور مسیحا لوگوں کا جم غفیر اپنے گرد جمع کئے رہتے ہیں، علامہ اقبالؒ نے اپنے دور میں بھی یہی بات کی تھی

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

متعلقہ خبریں