Daily Mashriq

بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں

بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں

بحث نئی تو نہیں کہ اس قسم کے تجربات سے ہم پہلے بھی گزر چکے ہیں، تاہم ان دنوں پرانے اور ناکام تجربے کو دوہرانے کی بحث پھر چل پڑی ہے، اس بحث کو بعض میڈیا چینلز کے ساتھ وابستہ کچھ اینکرز بھی آگے بڑھا رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک چینل اس حوالے سے خاصا سرگرم ہے ، محولہ میڈیا چینل کے بارے میں کچھ سینہ بہ سینہ چلنے والی افواہیں بھی زیر گردش ہیں کہ اس کے پیچھے کی ایک مضبوط لابی موجود ہے ، اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان افواہوں میں کہاں تک صداقت ہے اور ان افواہوںکی ’’حقیقت‘‘ کیا ہے، جبکہ جس رفتار سے صدارتی نظام دوبارہ رائج کرنے کا بیانیہ آگے بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اتنی ہی قوت سے اس کی بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے مخالفت بھی شدیدتر ہوتی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا چینل تو نہایت وثوق سے یہ دعوے کررہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ہی اگلے چند ماہ میں اسمبلیاں توڑنے اور ملک میںصدارتی نظام لانے کا اعلان کرنے والے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ سیاسی رہنما ایسی کسی کوشش کیخلاف ڈٹ جانے کے بیانات دے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کا تو تازہ ترین بیان گزشتہ روز ہی ایک بار پھر سامنے آیا ہے جب وہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں احتساب عدالت میں پیش ہوئے اور ایک صحافی نے سوال کیا کہ صدارتی نظام کی باتیں ہو رہی ہیں، کیا کہیں گے؟ آصف زرداری نے کہا کہ ہم تو نہیں اس کے قائل، کوشش کرنے دو، ان کو ہم روکیں گے، سابق صدر آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان میں نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، میں سمجھتا ہوں صورتحال دن بدن بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ اس سے پہلے صدارتی نظام کی مراجعت کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری، اے این پی کے سربراہ اور دیگر سینئر اکابرین کے علاوہ کچھ اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی مسلسل بیانات دیئے جن میں صدارتی نظام کے احیاء کی کوششوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ گزشتہ ہی روز بی این پی (مینگل) کے سربراہ نے بھی اس حوالے سے جو کچھ کہا ہے وہ قابل توجہ کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نظام کو چھیڑا گیا یعنی پارلیمانی نظام کو لپیٹنے کی کوششیں کی گئیں تو (خدانخواستہ، خاکم بدہن) ملک کے ٹکڑے ہونے کے خدشات پیدا ہوجائیں گے۔ غرض صدارتی نظام کی وکالت کرنے والوں کو انہوں نے خبردار کر دیا ہے کہ وہ اس سوچ کو تج دیں تو بہتر ہے، ادھر جو لوگ صدارتی نظام کی شد ومد سے حمایت کر رہے ہیں ان میں سے ایک تجزیہ کار جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ موصوف کو جنرل مشرف کے مسلط کردہ وزیراعظم شوکت عزیز کے پی آر او ہونے کا شرف بھی حاصل رہا اور ان دنوں ایک بہت بڑے چینل کے پروگرام رپورٹ گارڈ کے پینل کا حصہ بھی ہیں جہاں وہ سابق حکمرانوں کیخلاف دل کا غبار خوب خوب نکالتے رہتے ہیں اور اس میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ موصوف کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ انہوں نے بھی فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس میں صدارتی نظام کی ’’خوبیاں‘‘ بیان کرتے ہوئے ایسے لگتا ہے کہ دنیا جہان کی تمام خوبیاں صدارتی نظام جبکہ تمام تر خرابیاں اور برائیاں پارلیمانی نظام میں موجود ہیں۔ غرض آج کل ملک میں نظام حکومت کے حوالے سے جو بحث چل رہی ہے اس میں ہر شخص اپنی صوابدید کے مطابق حصہ ڈال رہا ہے، اس دو طرفہ ’’فکری جنگ‘‘ پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ

اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے

دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں

سوال مگر یہ بھی تو پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ فضول کی بحث نہیںہے؟ اور کیا ایک ایسے موقع پر جب حکومت ہر طرف سے (اپنے دعوؤں اور وعدوں کے حوالے سے) ناکامی کی مکمل تصویر نظر آتی ہے اس قسم کی لاحاصل بحث چھیڑنا کیا ملک وقوم کو درپیش اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش نہیں ہے؟ ذرا غور سے دیکھیں تو ملک میں پارلیمانی نظام کے خاتمے اور صدارتی نظام کو دوبارہ رائج کرنے کیلئے کیا صرف کسی ایک شخص کی ذاتی خواہش ہی کافی ہے اور وہ ایک انتظامی حکم کے ذریعے یہ سب کچھ اتنی آسانی سے کردے گا گویا پرانے اساتیری داستان کی طرح الہ دین کا چراغ رگڑ کر برآمد ہونے والے جن کو حکم دے کر ناممکن کو ممکن بنا لیا جاتا تھا! ظاہر ہے پارلیمانی نظام کے خاتمے اور صدارتی نظام کو رائج کرنے کیلئے نہ تو الہ دین کا چراغ رگڑنا کافی ہے نہ کسی شخص، طبقے یا گروہ کی خواہش پر ایسا کرنا ممکن ہے جبکہ اس کیلئے صرف اور صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ آئین میں دوتہائی اکثریت سے ترمیم کی جائے جو موجودہ سیاسی صورتحال میں ممکن ہے ہی نہیں، اس لئے کہ موجودہ حکومت توخود بعض چھوٹے گروپوں کے تعاون سے اقتدار سنبھالے ہوئے ہے اور جب تک آئین میں ترمیم کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی اور لیگ(ن) کی حمایت اسے حاصل نہ ہو جائے، آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جب آصف زرداری اور دیگر حزب مخالف کی جماعتیں اچھی طرح یہ جانتی ہیں تو اتنا واویلا کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے؟ ہاں ایک اور طریقہ بھی ہے جو ماضی میں صرف اور صرف ’’طالع آزما‘‘ ہی کرتے رہے، مگر اللہ کا کرم ہے کہ اب وہ حالات نہیں رہے۔ اس لئے اب یہ بحث بند ہونی چاہئے یا پھر جو لوگ صدارتی نظام کے گن گاگا کر اس کی افادیت ثابت کرنے میں مصروف ہیں وہ ذرا وضاحت فرما دیں کہ بغیر آئینی ترمیم کے یہ کیسے ممکن ہوسکے گا؟

بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں

کچھ باغباں ہیں برق وشرر سے ملے ہوئے

متعلقہ خبریں