Daily Mashriq

آئس بیچنے والوں کیلئے سزائے موت

آئس بیچنے والوں کیلئے سزائے موت

صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس پیر کے روز ضم شدہ قبائلی ضلع مہمند کے صدر مقام غلنئی میں ہوا۔ کابینہ کے فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی اور مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر نے کہا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا کنٹرول آف نارکاٹکس کی منظوری دی۔ جس کے تحت منشیات اور خصوصاً آئس کے نشے کی روک تھام کیلئے سخت سزائیں تجویز کی گئیں۔ اگر کسی شخص سے برآمد ہونے والے آئس کی مقدار 50 گرام تک ہو تو دو سال تک قید یا جرمانہ دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔ اگر آئس کی مقدار 50گرام سے 100گرام تک ہو تو تین سال تک قید اور پچاس ہزار سے لیکر ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا جبکہ ایک سو گرام سے لیکر ایک کلوگرام آئس رکھنے والے کو سات سال قید اور ایک لاکھ سے لیکر 3لاکھ تک جرمانہ کیا جائیگا۔ ایک کلوگرام سے زیادہ آئس رکھنے والے کیلئے سزائے موت، عمر قید یا چودہ سال کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ جس قوم میںعریانی، فحاشی اور نشہ آور چیزوںکے استعمال کی عادت پڑجاتی ہے اس قوم کی تباہی کیلئے دشمن کی توپوں، ٹینکوں اور ایٹم بموںکی ضرورت نہیں ہوتی، سمجھ لو پھر وہ قوم، ملک اور اس کے نوجوان خودبخود تباہی وبربادی کے دہانے پر ہیں۔ اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں لوگ تقریباً500 میٹرک ٹن آئس پھونک کراپنے آپ کو تباہ وبرباد کرتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو آئس کو انسانی صحت کیلئے انتہائی مہلک نشہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کسی انسان کو جسمانی، ذہنی طور پر اور اس کے رویئے اور خیالات میں انتہائی خراب اور مہلک تبد یلیاں پیدا کرتا ہے۔ آئس ایک کیمیکل میتھام فیٹانین Methamphetanineکی خا لص شکل ہے جس کو عام طور پر حقے، سگریٹ یا قلعی پر رکھ کر پیا جاتا ہے جس کا مقصد ان کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اس سے سکون حاصل کر سکیں گے۔ عام طور پر یہ کسی انسان کو مصنوعی طور پر توانا، طاقتور، پراعتماد اور خوش کر دیتا ہے مگر اس کی خوشی اور پراعتمادی عارضی اور حقائق کے برعکس ہوتی ہے بلکہ یہ ان کیمیکل کا اثر ہوتا ہے جو ایک نشئی کو اس نخو حالت پر لے آتا ہے۔ یہ خوشی عام طور پر کئی گھنٹے یا ایک دن تک ہوتی ہے۔ جب آئس کا نشہ ختم ہوتا ہے تو آئس کا عادی تھکا ہوا، پریشان اور تناؤ کھچاؤ میں رہتا ہے۔ عام طور پر آئس کا نشئی تشدد اور انتہا پسند ہوتا ہے اور اس کے مزاج میں تغیر، رد وبدل اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ اگر آئس پینے والا کسی جرم کا تہیہ کرتا ہے تو وہ اس جرم کے کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا اور کسی قسم کے جرم کیلئے پراعتماد اور پرعزم ہوتا ہے۔ آئس استعمال کرنے والے زیادہ لوگوں کو جسمانی مسائل ہوتے جس میں وزن میں کمی، دل کی انتہائی تیز دھڑکن، علاوہ ازیں اس کو انتہائی مہلک قسم کی خارش ہوتی ہے اور اس کے دانتوں پر کالے نشان پڑ جاتے ہیں اور کچھ عرصے بعد اس کے تمام دانت مضر صحت نشے سے جڑ سے نکل جاتے ہیں۔ آئس استعمال کرنے والوں کو گردوں، پھیپھڑوں کی بیماری، دماغ کا صحیح کام نہ کرنا، زندگی سے بوریت اور بغیر تسلسل اور ڈسپلن کی زندگی گزارنا، معاشرتی معاملات سے لاتعلقی کا اظہار کرنا، بیماریوں کی صورت میں مدافعتی نظام کا انتہائی کمزور ہونا اور یا نہ ہونے کے برابر ہونا، جگر کے امراض اور اس کے علاوہ ذہنی امراض حد سے زیادہ پائے جاتے ہیں جو لو گ آئس کی خرید وفروخت میں ملوث ہوتے ہیں وہ نوجوانوں کو اس کے استعمال کیلئے مختلف طریقوں سے ورغلاتے اور ترغیب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے استعمال سے ذہنی استعداد بڑھ جاتی ہے اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان کے پڑوسی ممالک چین، ایران اور بھارت جو ایفی ڈرین اور دوسرے کیمیکل جس سے ایفی ڈرین بنتا ہے پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ چین جوایفی ڈرین پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے وہاں ایفی ڈرین چین کے صحرا زنگ زیانگ کے علاقے میں اور پاکستان میں یہ جڑی بوٹی بلوچستان کے پہاڑوں پر 500سے لیکر600 فٹ پر پائی جاتی ہے جبکہ بھارت میں ایفی ڈرین جو آئس بنانے میں استعمال ہوتا ہے گنے کے شیرے سے بنایا جاتا ہے۔ جہاں تک میں نے نوٹ کیا ہے تو تمام نشہ آور اشیاء کی سمگلنگ، اس کی مارکیٹنگ اور اس کو فروغ دینے میں مختلف علاقوں کے بااثر فراد اور قانون نافذ کرنے والے شامل ہوتے ہیں۔ کوئی بھی نشہ آور اشیاء کا پولیس اور بااثر لوگوں کی ملی بھگت کے بغیر کاروبار نہیں کر سکتا۔ میں نے یہاں تک نوٹ کیا ہے کہ جیلوں میں بھی نشہ آور اشیاء چرس، ہیروئن اور آئس بکتی ہے۔ ایک بچہ جیل میں تھا جب رہا ہوا تو اس سے پوچھا گیا ہیروئن سے تو آپ کو چھٹکارہ ملا ہوگا۔ اس نے کہا جیل میں آسانی سے یہ چیزیں مل جاتی ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں نشہ آور اشیاء کے مہلک اثرات سے بچنے کے بارے میں ایک مضمون ہونا چاہئے۔ جہاں تک قانون کا تعلق ہے تو قانون تو اس سے پہلے بھی موجود ہے مگر بدقسمتی سے قوانین پر عمل نہیں ہوتا۔ قانون اس وقت اچھا اور مؤثر ہوگا جب اس پر عمل کیا جائے۔

متعلقہ خبریں