Daily Mashriq

خود کو پہچان لو تو بہتر ہے

خود کو پہچان لو تو بہتر ہے

آپ نے آدھا تیتر آدھا بٹیر کی ضرب المثل یا محاورہ سنا ہوگا۔ اس ضرب المثل کو مزید وضاحت کیساتھ بیان کرنے والے ایک دوسری ضرب المثل میں کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا جیسے الفاظ دہراتے ہیں اور جب یہ بات کوئی شاعر کہنا چاہتا ہے تو وہ 

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

جیسے افاعیل وتفاعیل کے پیرائے میں بیان کرنے لگتے ہیں۔ یہ اور اس سے ملتی جلتی باتیں ایسے لوگوں کے متعلق کہی جاتی ہیں جو نصیب دشمناں اپنی اصل نسل کو بھول کر یا اس سے تعلق ختم کر کے

سدا ایک ہی رخ ناؤ نہیں چلتی

چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھرکی

کی روش اپنا لیتے ہیں حالانکہ مولانا الطاف حسین حالی کی اس باغیانہ نصیحت کے برعکس دانائے راز نے بڑے واضح الفاظ میں ہوا کے رخ پر چلنے والے مصلحت اندیش لوگوں کو کہا ہے کہ

ملت کیساتھ رابطہ استوار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

جو لوگ اپنی تہذیب اور ثقافت کو کم تر سمجھنے کے نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں وہ اپنا اصل چھپانے کی خاطر اس پر بیگانی یا بدیسی تہذیب وثقافت کا ملمع تھوپ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی کو اپنے بچھڑے ہوئے بیٹے کی یاد ستا رہی تھی سو وہ اس سے ملنے وہاں چلا گیا جہاں وہ ماڈرن تہذیب کے لوگوں میں گڈمڈ ہو کر زندگی گزا ر رہا تھا۔ باپ کی وضع قطع اور بول چال دیہاتیوں جیسی تھی جو فیشن ایبل بیٹے کیلئے باعث شرم تھی سو اس نے اپنے باپ کے دیہاتی پن کے عیب کو چھپانے کیلئے اپنے دوستوں سے انگریزی زبان میں کہا کہ ’’یہ ہمارا نوکر ہے‘‘۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اتنی انگریزی تو اس کو ملنے آنے والا اس کا والد بھی سمجھتا ہے۔ سو اس نے بیٹے کی اس بات کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے اس کے دوستوں سے کہا کہ میں اس کا نوکر نہیں اس کی اس ماں کا نوکر ہوں جو اس کو اتنا بھی نہ سکھا سکی کہ باپ کو نوکر نہیں کہتے۔ یہ بات سن کر ماڈرن تہذیب وثقافت کے دلدادہ بیٹے یا اس کے دوستوں نے کس ردعمل کا اظہار کیا اس پر کلام نہیں، بس اتنا بتانا مقصود ہے کہ اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت سے دوری اس ثقافتی ورثہ سے چشم پوشی کے مترادف ہے جس کے حوالہ سے آج 18اپریل کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں عالمی ثقافتی ورثہ کا دن منایا جا رہا ہے۔ ورثہ کے معنی میراث یا ترکہ بتلائے جاتے ہیں۔ ورثہ یا ترکہ اس مال ومتاع کو کہتے ہیں جو

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

کے مصداق کوئی داعی اجل کو لبیک کہہ کر اپنے وارثوں یا لواحقین کیلئے چھوڑ جاتا ہے۔ اب اس ورثہ کی قدر کرنا اور اس کا درست استعمال کرنا ان لواحقین کی ذمہ داری بن جاتی ہے جو مال ومتاع اپنے آباء کے چلے جانے کے بعد وراثت میں حاصل کرتے ہیں۔ ورثہ یا وراثت کی متعدد قسمیں گنوائی جا سکتی ہیں۔ جن میں اجتماعی ورثہ اور انفرادی ورثہ دو بڑی قسمیں ہیں۔ اجتماعی ورثہ میں قومی ورثہ اور لوک ورثہ کے علاوہ عالمی ورثہ مشہور اقسام ہیں۔ ورثہ کیساتھ جب ثقافتی ورثہ کا سابقہ یا لاحقہ نتھی ہوتا ہے تو اس کے دائرہ معنویت کی تخصیص کر دیتا ہے جس سے مراد ایسی تہذیب وثقافت لی جاتی ہے جو دنیا کی قومیں اپنے آباء سے حاصل کرتی ہیں۔ مثلاً عادات واطوار، رسم ورواج ، کھیل کود، شعر وادب وغیرہ، ثقافتی ورثہ کی ان اقسام کو آبائی اقدار بھی کہا جاتا ہے جو وقت اور زمانے کیساتھ بدلتی رہتی ہیں اور بعض اوقات بدلاؤ کی یہ صورت اتنی تشویشناک ہو جاتی ہے کہ دانائے راز پکار پکار کرکہہ اُٹھتے ہیں کہ

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمیں پر ہم کو آسماں نے دے مارا

ہمارے ہاں ثقافتی ورثہ کو تلاش کرکے اسے محفوظ کرنے یا اس کی نمائش کا اہتمام کرنے کا کام لوک ورثہ کے قومی ادارے کے سپرد ہے، اس سلسلہ میں اس کی کیا کارکردگی ہے یہ الگ موضوع بحث ہے، محکمہ آثار قدیمہ بھی ہمارے تاریخی اور تہذیبی ورثہ کو محفوظ کرنے کے کام میں مگن ہے، ہمارے عجائب گھروں میں ہمارے قومی ورثہ کے نادر اور تاریخی نمونے نمائش کی غرض سے سجا کر رکھے گئے ہیں جس سے آنے والی نسلوں کو بیتے دنوں کی تہذیب وثقافت اور اپنے پرکھوں کے رہن سہن کے طور طریقوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے اور ہم یہ جان پاتے ہیں کہ کل اور آج کی تہذیب وتمدن میں کیا فرق ہے، تہذیب وثقافت اور رہن سہن کے یہ اندازصرف ماضی کے جھروکوں میں نظر نہیں آتے، ایک مقام سے دوسرے مقام کی بود وباش کے انداز میں تفاوت بھی اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ قریہ قریہ پنپنے والے ثقافتی انداز اس تہذیب وثقافت کا پتہ دیتے ہیں جو کسی مقام کے لوگوں نے اپنے آباؤاجداد سے ورثے میں پائی ہیں، ہمارے ماضی بعیدکی تہذیب وثقافت میں گندھارا تہذیب کے آثار قدیمہ کے علاوہ موہنجو داڑو اور ٹیکسلا میں دریافت ہونے والے قومی ثقافتی ورثہ کو عالمگیر شہرت اور درجہ حاصل ہے۔ ہمارا ثقافتی ورثہ جہاں اور جس نوعیت کا ہو ہمارے اجتماعی شعور کی عکاسی کرنے کے علاوہ ہماری اجتماعی پہچان کا بہت بڑا ذریعہ ہے جس سے واقفیت اور جسے محفوظ رکھنا ہمارا ملکی اور ملی فریضہ ہے

اس سے پہلے کہ لوگ پہچانیں

خود کو پہچان لو تو بہتر ہے

متعلقہ خبریں