Daily Mashriq


لاہور: مکان سے ماں بیٹی کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا معمہ حل

لاہور: مکان سے ماں بیٹی کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا معمہ حل

لاہور: کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) نے ایک مکان سے خاتون اور ان کی بیٹی کی لاش ملنے کا معمہ حل کرتے ہوئے 3 روز بعد قتل کے الزام میں مقتولہ کے بھائی کو گرفتار کرلیا۔

خیال رہے کہ لاہور کے علاقے کچہ جیل روڈ پر واقع ایک مکان سے عائشہ بی بی اور ان کی 5 سالہ کم سن بیٹی آمنہ کی پھندہ لگی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جبکہ ان کا 2 سالہ بیٹا احمد لاپتہ تھا۔

بعدازاں لائٹن پولیس نے مقتولہ کے بھائی قیصر کی مدعیت میں نامعلوم قاتل کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تھا جس کے بعد دہرے قتل کا یہ مقدمہ تفتیش کے لیے سی آئی اے کو منتقل کردیا گیا تھا۔

ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ سی آئی اے نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مقتولہ کے بھائی عثمان کو گرفتار کرلیا تھا۔

اور دورانِ تفتیش اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے یہ انتہائی قدم اسلیے اٹھایا کہ عائشہ نے اسے منشیات خریدنے کے لیے پیسے دینے سے انکار کردیا تھا۔

عہدیدار کے مطابق عائشہ حسین مدنی نامی شخص کی دوسری بیوی تھی جو ہفتے کے 5 دن ثمن آباد کے علاقے میں اپنی پہلی بیوی کے ساتھ الگ گھر میں رہتا تھا اور وقوعے والے روز بھی پہلی اہلیی کے گھر میں تھا۔

پولیس عہدیدار کا کہنا تھا کہ ملزم نے پہلے اپنی بہن اور بھانجی کو نشہ آور ادویات دی اور پھر گلا گھونٹ کر قتل کردیا۔

جس کے بعد اس نے گھر کو باہر سے لاک کیا اور 2 سالہ احمد کو اپنے ہمراہ لے گیا وہ ایک ہیلمٹ پہن کر سرگنگا رام ہسپتال پہنچا اور احمد کو ایک وارڈ کے واش روم میں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔

سراغ رساں کے مطابق اطلاع ملنے پر پولیس نے بچے کو برآمد کر کے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کردیا۔

ان کے مطابق دہرے قتل کی واردات کا اس وقت علم ہوا جب خاتون کے دوسرے بھائی قیصر کے بار ہا کال کرنے پر عائشہ کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

جس کے بعد وہ مقتولہ کے گھر پہنچا اور ناگوار بو محسوس ہونے پر اس نے پولیس کو اطلاع دی جنہوں نے موقع واردات پر پہنچ کر ماں اور بیٹی کی مسخ شدہ لاشیں برآمد کیں۔

عہدیدار کے مطابق کچی جیل روڈ اور سر گنگا رام ہسپتال میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں نے ملزم کو پکڑنے میں پولیس کو مدد فراہم کی۔

متعلقہ خبریں