Daily Mashriq

مرحلہ وار آگے بڑھتا جمہوری نظام

مرحلہ وار آگے بڑھتا جمہوری نظام

عمل مرحلہ وار آگے بڑھ رہا ہے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر ز و ڈپٹی سپیکرز کا انتخاب ہو چکا۔ منتخب نظام مسلسل تیسرے دور میں داخل ہوچکا۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں پی ٹی آئی کو حکومت سازی کا حق ہے بلوچستان میں وہ بی اے پی کی اتحادی جبکہ وفاق میں بھی ایک گرینڈ الائنس حکومت سازی کا حق استعمال کرے گا۔ نیا پاکستان بنانے کے وعدے کو اب عملی شکل دینا پی ٹی آئی کی ذمہ داری ہے لیکن اس سے قبل بہت ضروری ہے کہ انتخابی سیاست کی تلخیوں کو دفن کر دیا جائے۔ قرضوں اور مسائل میں دھنسے پاکستان کی قیادت کا بار اب عمران خان کے کاندھوں پر ہے۔ وہ پچھلے پانچ سال کے دوران تواتر کے ساتھ یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ پاکستان پر بیرونی قرضوں کے انبار میں کمی اور کمزور معیشت کو قدموں پر کھڑا کرنے کے لئے وہ بیرون ملک پاکستانیوں کے تعاون سے معرکہ سر انجام دے سکتے ہیں۔ نئی منتخب قیادت کو تین صوبوں اور وفاق میں مضبوط حزب اختلاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کی اپوزیشن اس کی روش پر چلتی ہے یا دستوری دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرتی ہے؟۔ پاکستانی سیاست کا نقشہ تبدیل کرنے میں نئی نسل کابہت بڑا ہاتھ ہے۔بات بات پر بھڑک اٹھنے والی اس نسل کی آنکھوں میں تحریک انصاف نے جو خواب بوئے ہیں ان کی تعبیر دینا واجب ہے۔ سہل پسندی یا روایتی اشرافیہ کا سا انداز حکومت اس نسل کو اپنی قیادت اور جماعت دونوں سے بے زار بھی کرسکتا ہے۔ حکمران اتحاد کے سامنے مسائل ہی مسائل ہیں۔ وسائل کتنے ہیں اور مساوات کے بغیرکیا مسائل حل ہو پائیں گے یہ دونوں باتیں قدم قدم پر پیش نظر رکھی جانی چاہئیں۔ غربت‘ بے روز گاری‘ اقربا پروری‘ طبقات کے درمیان خوفناک حد تک بڑی خلیج اور اہم ترین مسئلہ پڑوسی ممالک سے تعلقات کار میں بہتری لانے کے لئے حکمت عملی کا وضع کرنا ہے۔ ہر قدم پر ایک نیا امتحان ہوگا اور معمولی سی کوتاہی پر حساب چکانے پر تیار مضبوط اپوزیشن کا سامنا بھی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ماضی کے انتخابات کی طرح حالیہ انتخابات کے نتیجے میں بالا دست اشرافیہ کے طبقات کی نظام پر گرفت مضبوط ہوئی ہے۔ الیکٹیبلز کی حب داری کا الزام کسی ایک سیاسی جماعت پر نہیں لگایا جاسکتا۔ انتخابی سیاست مہنگی ہی اتنی ہو چکی ہے کہ سفید پوش طبقات کے فہمیدہ سیاسی کارکن آخری سانس تک کارکن ہی رہیں گے۔ گو پیپلز پارٹی نے سینیٹ اور پھر قومی و صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں اور مخصوص نشستوں کے ذریعے عام طبقات کے باشعور کارکنوں کو ایوانوں میں بھجوا یا اکا دکا یہ کارنامہ دوسروں نے بھی سر انجام دیا مگر یہ امر بھی عیاں ہے کہ مخصوص نشستوں پر طبقاتی اجارہ داری کے ساتھ ساتھ خاندانوں کو نوازنے کی پالیسی رہی‘ ایک دو نہیں درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسلامی نظام کی علمبردار متحدہ مجلس عمل بھی خاندانی نوازشات سے محفوظ نہیں رہی۔ ان حالات میں تحریک انصاف کو حکومت کرنا ہے اور عمران خان کو اس حکومت کی قیادت۔ ان کے سامنے اہم ترین مسئلہ یہ ہوگا کہ انہوں نے اقتدار کے ابتدائی 100دنوں کے لئے جو ایجنڈا دیا اس پر عمل کیسے ہوگا۔ یقینا ان کی جماعت کے تھنک ٹینک حکمت عملی وضع کر چکے ہوں گے۔ ہماری دیانتدارانہ رائے یہی ہے کہ منتخب حکومت کو وقت ملنا چاہئے کہ وہ وعدے پورے کرنے کے لئے پالیسیاں وضع کرے اور عمل بھی۔ حزب اختلاف کو تنقیدی جائزے اور آرا کا جمہوری حق ہے۔ جمہوریت کا حسن منتخب حکومت اور حزب اختلاف ہیں۔ موجودہ حالات دونوں سے اس امر کے متقاضی ہیں کہ وہ اپنے اپنے حصے کا کردار خوش اسلوبی سے ادا کریں۔ پاکستانی سیاست اور مروجہ نظام حکومت ہر دو میں عام آدمی کو دینے کے لئے کچھ اس لئے نہیں ہے کہ سیاسی عمل اور نظام پر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے طبقات کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ پچھلے سالوں کے دوران وفاق پاکستان پر حق حکمرانی استعمال کرنے والوں نے بہت سارے کام کئے لیکن بد قسمتی سے ایک کام بھی ایسا نہیں کر پائے جس سے غربت میں کمی ہوتی۔ ابتر معاشی حالت کی پردہ پوشی کے لئے مسکراتے ہوئے رنگین اشتہارات کی بھرمار رہی۔ میگا پراجیکٹس کا فیض عام آدمی تک نہیں پہنچ پایا بلکہ صنعت کار و تاجر اور کمیشن ایجنٹوں کے وارے نیارے ہوئے۔ تحریک انصاف ان پالیسیوں۔ نظام حکومت کی خرابیوں اور دوسرے معاملات کی سخت گیر ناقد کے طور پر سامنے آئی اور اس نے ہر قدم پر یہ دعویٰ کیا کہ اگر عوام اس پر حکومت سازی کے لئے اعتماد کریں تو وہ ایسا پاکستان تعمیر کرسکتی ہے جو غربت و افلاس اور دیگر سنگین مسائل سے محفوظ ہو۔ تحریک انصاف کے بلند و بانگ دعوئوں پر عمل کا وقت شروع ہوا چاہتا ہے۔ گمبھیر تر ہوتے مسائل دلنشیں تقریروں اور بڑے بڑے جلسوں کے انعقاد سے حل نہیں ہونے اس کے لئے مربوط حکمت عملی اپنانے اور نمود و نمائش سے دستبرداری بہت ضروری ہے۔ پاکستان کے عوام امید بھری نگاہوں سے تحریک انصاف کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ آج کی صورتحال میں تحریک انصاف کو ذمہ دار سیاسی جماعت اور عوام دوست حکومت کاکردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت میں اپوزیشن والی ہنگامی سیاست نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے ٹھوس اقدامات کی جن سے طبقاتی خلیج کم ہو ‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جاسکے۔ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ نو منتخب قیادت اپنے وعدوں کی تکمیل میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گی اور اس امر کو یقینی بنائے گی کہ جو خواب اس نے عوام اور بالخصوص نئی نسل کی آنکھوں میں بوئے ہیں ان کی تعبیر بھی دلا سکے۔ ایسا کیاجانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہاں خواب تعبیروں سے پہلے چوری ہو جانے کا رواج عام ہے۔

متعلقہ خبریں