افغانستان میں دہشت گردی کی نئی لہر

18 اگست 2018

گزشتہ پانچ دنوں کے دوران افغانستان میں غزنی سے کابل تک نصف درجن افسوسناک واقعات میں 200 سے زیادہ مرد و زن اور معصوم بچے دہشت گردی اور اقتدار طلبی کا رزق بنے۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے حوالے سے جہاں چند سوال بہت اہم ہیں وہیں اس امر کی جانب توجہ دلانا بھی از بس ضروری ہے سرحد کے دونوں طرف بعض پشتون قوم پرست زمینی حقائق سے منہ موڑ کر پاکستان اور پاکستانی اداروں پر سستی الزام تراشی کے فیشن کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ صد افسوس کہ الزام تراشی میں مصروف حضرات یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں سر فہرست ہے۔ پچھلے 30سالوں کے دوران 80ہزار کے قریب پاکستانی دہشت گردوں کا نشانہ بنے‘ اقتصادی طور پر پاکستان کو چار کھرب ڈالر کے لگ بھگ نقصان پہنچا۔ ان حقائق کے ہوتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشی کا مطلب تو یہ ہوگا کہ خود پاکستان کے اندر جو خون بہا اس کا ذمہ دار پاکستان ہی ہے۔ ہماری دانست میں دکھ و مصائب کے ان لمحات میں انسانیت کی خدمت‘ انسانی اتحاد کے قیام اور موت کے سوداگروں سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ غزنی سے کابل تک موت کا رزق ہوئے افغانوں کا دکھ ہر زندہ ضمیر اور صاحب اولاد پاکستانی نہ صرف محسوس کرتا ہے بلکہ اس کی مذمت میں بھی پیش پیش ہے۔ ایسے میں پاکستان پر بھونڈی الزام تراشی میں مصروف عناصر در حقیقت قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کی شناخت کو چھپانے کے مجرمانہ فعل کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ کابل میں تعلیمی ادارے پر خود کش حملہ ہو یا افغانستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے ہوا جانی نقصان اس کے ذمہ داروں اور کٹھ پتلیوں کے آقائوں کے عزائم کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی المیوں پر نفرت کی تجارت کرنے کی بجائے ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرین کی دلجوئی اور ان کے خاندانوں کی بحالی کے لئے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ افغانستان میں جنونیت اور اقتدار طلبی کے اسیر سارے فریق افغانوں کی نسل کشی کے ذمہ دار ہیں۔ مودبانہ درخواست یہ ہے کہ ہمیں متحد ہو کر امن و انسانیت کے دشمنوں کو بے نقاب کرنا چاہئے تاکہ موت کا کاروبار بند ہوسکے۔

پختونخوا کے نو منتخب وزیر اعلیٰ کا عزم صمیم

تحریک انصاف کے جناب محمود خان بھاری اکثریت سًے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے۔ خیبر پختونخوا کی انتخابی روایات کے برعکس تحریک انصاف کو صوبہ میں دوسری مرتبہ کامیابی اور حکومت سازی کاموقع ملا ہے۔ جناب محمود خان ایسے وقت میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے ہیں جو گزرے دنوں کے مقابلہ میں زیادہ مشکل ہیں اور عملیت پسندی کے متقاضی‘ بد قسمتی سے ان کے انتخاب والے دن ہی سپریم کورٹ میں صوبہ کے ہسپتالوں کے حوالے سے ایک کیس کی سماعت کے دوران معزز جج صاحبان نے طبی سہولتوں اور ہسپتالوں میں صفائی کی ناقص صورتحال پر پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کی کارکردگی بارے کچھ سوالات اٹھائے۔ نو منتخب وزیر اعلیٰ کو دیگر معاملات پر تو توجہ دینا ہی ہوگی لیکن اولین توجہ انہیں طبی سہولتوں کی عام آدمی کو فراہمی اور ہسپتالوں میں صفائی و انتظامی صورتحال کو بہتر بنانے پر مرکوز کرنا ہوگی۔ یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا کے بڑے مسائل میں سے اہم ترین مسئلہ دہشت گردی ہے۔ پچھلی اڑھائی تین دہائیوں کے دوران دہشت گردی سے صوبے کو گہرے گھائو لگے‘ ہزاروں انسان اپنی جانوں سے گئے۔ نو منتخب وزیر اعلیٰ کو وفاقی اور صوبائی اداروں کے باہمی تعاون سے ایسی انسداد دہشت گردی پالیسی وضع کرنا ہوگی جس پر عمل سے کم سے کم وقت میں صوبہ امن و امان کا گہوارہ بن سکے۔ اس کے لئے از بس ضروری ہے کہ قوانین پر سختی سے عمل ہو۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہو تاکہ پختونخوا کا وہ چہرہ پھر سے بحال ہو جس کے بارے ملک میں ہمیشہ یہ تاثر عام رہا کہ خیبر پختونخوا ملک کے دیگر حصوں کے مقابلہ میں سماجی روایات اور سیاسی شعور کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے۔ اپنے انتخاب کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے ان کا یہ کہنا خوش آئند ہے کہ وہ حزب اختلاف اور میڈیا کو ساتھ لے کر چلیں گے تاکہ صوبہ کی بھرپور اور مثالی خدمت کی جاسکے۔

مزیدخبریں