Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

سلمہ بن کحیلؒ کہتے ہیں کہ میں نے 3آدمیوں کے سوا کوئی ایسا عالم نہیں دیکھا جو اللہ کی رضا کے لئے علم حاصل کرنے والا ہو: عطاء بن ابی رباحؒ‘ طائوس بن کیسانؒ اور مجاہدبن جبرؒ۔ یہ 97 ہجری کا زمانہ ہے۔ کعبہ شریف لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ دنیا کے ہر کونے سے لوگ یہاں آئے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کا خلیفہ سلیمان بن عبدالملک بھی بار گاہ رب العالمین میں حاضر ہے۔ اس وقت خلیفہ کی حالت وہی ہے جو اس کی رعایا کے کسی عام فرد کی ہے۔ خلیفہ کے پیچھے پیچھے اس کے دو بیٹے بھی ہیں۔ خلیفہ جیسے ہی طواف سے فارغ ہوا اس نے اپنے خاص آدمیوں سے ایک کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی کی: تمہارا وہ ساتھی کہاں ہے؟ جناب عالی! وہ تو سامنے اس جگہ نماز ادا کر رہا ہے۔ اس نے مسجد کے مغربی کونے کی طرف اشارہ کیا۔ خلیفہ اس آدمی کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ بدستور اپنی نماز میں ہے اور نہایت خشوع و خضوع سے رکوع و سجود میں مشغول ہے۔ لوگ اس نمازی کے پیچھے اور دائیں بائیں بڑی کثرت سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ خلیفہ بھی مجلس کے آخری حصے میں جہاں جگہ ملی بیٹھ گیا اور اس کے بیٹے بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوا تو وہ ایک حبشی تھا۔ اس نے دائیں جانب متوجہ ہو کردیکھا تو خلیفہ بھی لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ خلیفہ نے اسے سلام کیا۔ اس نے بھی اسی طرح جواب دیا۔ اب خلیفہ آگے ہوا اور اس نے حج کے مناسک کے بارے میں ایک ایک مسئلہ پوچھنا شروع کیا۔ وہ بڑی تفصیل سے ہر مسئلہ کا جواب دے رہے ہیں۔ ان کے جواب کے بعد کوئی تشنگی باقی نہیں رہتی۔ جب خلیفہ کے سوالات ختم ہوگئے تو وہ اٹھے اور انہوں نے بیٹوں سے کہا: اٹھو بیٹا! چلیں وہ تینوں اٹھے اور مسعیٰ کی جانب چل دئیے۔ ابھی وہ صفا مروہ کی طرف راستے ہی میں تھے کہ بیٹوں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی:اے مسلمانو! غور سے سنو:اس مقام میں کوئی شخص عطاء بن ابی رباحؒ کے سوا فتویٰ جاری نہ کرے۔ اگر وہ میسر نہ ہوں تو پھر ابن ابی نجیحؒ فتویٰ دیا کریں گے۔ دونوں بیٹوں میں سے ایک نے والد سے سوال کیا:ابا جان! امیر المومنین کا گورنر اعلان کرتا ہے کہ ان دونوں کے سوا کوئی فتویٰ نہ دے اور ہم فتویٰ لینے کے لئے ایک ایسے شخص کے پاس آتے ہیں جو نہ تو خلیفہ کی پرواہ کرتا ہے نہ ان کے لئے مناسب تعظیم کا اظہار کرتا ہے۔ خلیفہ سلیمان بیٹے سے کہتا ہے:میرے بچے! جس شخص سے ہم نے مسائل پوچھے اور جس کے سامنے آ پ نے ہماری کمزوری دیکھی وہ عطاء بن ابی رباحؒ ہی تو تھے۔ وہ مسجد حرام کے سب سے بڑے مفتی اور اس عظیم منصب پر سیدنا ابن عباسؓ کی مسند کے وارث ہیں۔ خلیفہ نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا: میرے بچو ! علم حاصل کرو کہ علم ہی کے ذریعے نچلے درجے کے لوگ عزت و شرف کے اعلیٰ مراتب حاصل کرلیتے ہیں اور گمنام لوگ معروف ہو جاتے ہیں اور اسی کے ذریعے غلام بادشاہوں ے مراتب تک جا پہنچتے ہیں۔

(صورمن حیاۃ التابعین)

متعلقہ خبریں