Daily Mashriq


نیا پاکستان… دو گزارشات

نیا پاکستان… دو گزارشات

وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج پاکستان میں اچھی طرز حکمرانی متعارف کرانا ہے۔ جس طرح ماضی میں حکومتیں چلتی رہی ہیں اُس سے یکسر مختلف اپروچ کے ساتھ اُمور مملکت کو چلانا قطعاً مشکل ٹاسک نہیں ہے ‘ شرط مگر یہ ہے کہ خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ تمام حکومتی عمال بروئے کار ہوں۔ عمران خان کے پاس ویژن بھی ہے اور پکا ارادہ بھی‘ ان شاء اللہ اول دنوں میں ہی عوام کو حقیقی تبدیلی کا احساس ہو جائے گا۔

اگرچہ کرنے والے بہت سے کام ہیں لیکن عوام کو نئے پاکستان کے تصور کے ساتھ کھڑا کرنے کے لیے فوری طور پر دو محاذوں پر پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے۔ اول ‘ عوام پر لاگو اُن تمام ڈائریکٹ اور اِن ڈائریکٹ ٹیکسز کا خاتمہ جو بلا جواز ہیں اور جنہیں ماضی کی حکومتوں نے آمدن اخراجات کا توازن قائم رکھنے کے لیے ظالمانہ عوام پر لاگو کیا تھا۔ پٹرول پر حکومت کا ظالمانہ ٹیکس اس کی ایک بھیانک مثال ہے۔ دنیا بھر میں سیلز ٹیکس نافذ ضرور ہے لیکن اس کو اندھا ٹیکس شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کی زد میں آنے والا کوئی امیر ہے یا غریب فرد‘ یہ ٹیکس ہر شخص پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس کا نفاذ جیسے ہے اُس سے تو یوں لگتا ہے کہ یہ اندھا ہونے کے ساتھ ساتھ گونگا اور بہرا بھی ہے۔ آمدنی پر ٹیکس وہ واحد ٹیکس جسے شہریوں پر لاگو ہونا چاہیے مگر حکومت اپنے شہریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے دیگر ٹیکسز کا نفاذ بھی کر سکتی ہے۔ پاکستان میں لحاظ کا کلچر نہیں ہے۔ یہاں حکومتی اللے تللے اور آمدن اخراجات کا میزان حکمرانوں کی ترجیح رہتا رہا ہے چاہے عوام کی زندگیوں میں کیسی ہی تکلیفیں پیدا ہوں۔ عمران خان کو اس سے مختلف پاکستان کی بنیاد رکھنی ہے۔ میری رائے ہے کہ عمران خان اپنی پہلی تقریر میں کم از کم یہ اعلان ضرور کریں کہ وہ پٹرول اور یوٹیلٹی بلوں کی مد میں عوام سے وصول کی جانے والی حکومتی ناجائز کمائی ختم کرتے ہیں تاکہ عوام کو فوری ریلیف ملے اور انہیں احساس ہو کہ عوام کا ہمدرد رہنما کیسا ہوتا ہے۔ عمران خان کے اس اعلان کا اثر یہ ہوگا کہ عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے اور معاشرے میں موجود ٹیکس چوروں کا محاسبہ ہو گا۔ عمران خان یہ بات اپنے جلسوں اور پروگراموں میں کہتے رہے ہیں کہ ٹیکس بڑھانے کی بجائے ’’ٹیکس نیٹ‘‘ بڑھائیں گے۔ ایف بی آر کی کرپشن روک لی جائے تو آٹھ سو ارب روپے قومی خزانے میں آ سکتے ہیں چنانچہ نئے پاکستان میں ’’پرویزی حیلوں‘‘ کی بجائے نئے خطوط پر کام کرنا ہو گا۔

دوسرا کام جو فوری طور پر کرنے والا ہے وہ عوام کو انصاف کی فراہمی ہے۔ عمران خان کی حکومت میں بھی اگر انصاف کا وہ گھسا پٹا نظام چلتے رہنا ہے تو پھر ہمارا خدا ہی حافظ ہے۔ عمران خان یونین کونسل کی سطح پر جج بٹھانے کی اپنی خواہش پوری کرنے کا اہتمام کر لیں تو عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کاخواب شرمندۂ تعبیر ہو جائے گا۔ عدالتی انفرا سٹرکچر میں وسعت اور خواہ مخواہ کی مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کے لیے فوری طور پرقانون سازی و دیگر اقدامات لینے کی اشد ضرورت ہے۔ جو معاشرے انصاف پر قائم ہو جاتے ہیں اور جہاں انصاف کی فراہمی کسی تردد کے بغیر ہوتی ہے وہ ہر لحاظ سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ ماہرین معیشت بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیںکہ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے کسی ملک کا شفاف اور انصاف کی فوری فراہمی والا عدالتی نظام ایک بنیادی فیکٹر ہے جو سرمایہ کاروں کے لیے کشش کا باعث بنتا ہے۔ پرانے پاکستان میں عدالتی نظام طاقتور کو تحفظ دینے کا باعث بنتا آ رہا ہے جس کی وجہ سے معاشرتی اور معاشی خرابیاں پیدا ہوئیں اور عوام عدم تحفظ کا شکار رہے۔ عمران خان نے جس نئے پاکستان کی نوید سنائی ہے اُس میں ریاست مدینہ کے اُصولوں پر معاشرہ تعمیر کرنے کی بات اور ریاست مدینہ کے بنیادی اصول قانون کی حکمران اور عدل پر مبنی معاشرہ کا قیام تھا۔ عمران خان اپنی تقریروں میں خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول مبارک بیان کرتے رہے ہیں کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔ پاکستانی معاشرے میں تو ہر طرف ظلم ہی ظلم ہے۔ ظلم کے اس نظام کو ختم کر کے عدل کا نظام قائم کرنا عمران خان کی ترجیح اول ہونی چاہیے اور یہ فوری کرنے والا کام ہے۔ اس ضمن میں انتظار کرنا اور یہ سوچنا کہ بتدریج یہ ٹھیک ہو جائے گا قطعاً درست اپروچ نہ ہو گی۔ پہلے دن سے ہی اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور چند ہفتوں کے اندر عمران خان کو تمام رکاوٹیں دور کر کے پاکستان میں نظام عدل کا ایک فعال اور بہترین سیٹ اپ بنانا ہو گا تاکہ پاکستان میں قانون کی حکمران صحیح معنوں میں قائم ہو سکے اور معاشرہ عدم تحفظ کے خوف سے باہر نکل سکے۔ ماضی کی حکومتوں کی غلط حکمرانی کی وجہ سے پاکستان مسائل کی دلدل میں بُری طرح پھنس چکا ہے لہٰذا ان مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان یہ سمجھ کر تمام چیلنجز سے نبرد آزما ہو جائیں کہ انہیں حکومت ہی صرف سو دن کی ملی ہے۔

عمران خان خوش قسمت ہیں کہ عدلیہ اور فوج کی ہائی کمان کی جانب سے پاکستان کو درپیش مسائل پر کافی فکرمندی پائی جاتی ہے چنانچہ یہ ادارے حکومت کی معاونت میں پیش پیش ہوں گے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کی آرزو میں پورا پاکستان عمران خان کی پشت پر کھڑا ہے اس لیے انہیں دلیری کے ساتھ بڑے فیصلے کرنے چاہئیں اور انقلابی جذبے کے ساتھ بروئے کار آنا چاہیے۔ اب بڑے بڑے جلسوں میں نعروں اور پرجوش خطابات کا وقت گزر چکا عملی میدان سامنے ہے۔ اپنے وعدوں اور دعوئوں کو عملی جامہ پہنا کر عوام کو جو خواب دکھائے اور امیدیں دلائی ہیں انہیں پورا کرنا ہوگا۔ ناکامی اور اپنے وعدوں سے انحراف کی صورت میں عوام مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں گر جائیں گے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عمران خان کو توفیق عطا فرمائے اور وہ پاکستانی قوم کے سچے مسیحا ثابت ہوں۔

متعلقہ خبریں