Daily Mashriq


حال دل

حال دل

وقت کے ڈھیروں موضوعات ہیں دو چار دس کالم کیا دفتر لکھے جاسکتے ہیں۔ پچھلے چند گھنٹوں سے شدید ذہنی دبائو ہے۔ بنا اجازت پولیس اہلکاروں کا گھر میں داخل ہونا زبردستی کی تلاشی اور پنجابی برانڈ بد تمیزی کے واقعہ نے تلخی بھر دی ہے۔ کیا کرائے دار ہونا جرم ہے؟ جرم ہے تو ریاست ہر شخص کو ذاتی مکان فراہم کردے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس پولیس گردی کی وجہ کیا تھی۔ ایسا بھی نہیں کہ کبھی پولیس اور اس کی چیرہ دستیوں سے واسطہ نہیں پڑا۔ 45 سال کے صحافتی سفر میں انگنت بار یہ سب دیکھا بھگتا۔ ان سطور کے لکھے جانے سے چند گھنٹے قبل ایک بار پھر بھگت لیا۔ چادر و چار دیواری کا تقدس اب کسی گالی سے کم نہیں۔ پنجاب پولیس کا خمیر ہی کج روی‘ تھڑدلے پن‘ بد تمیزی سے گندھا ہے۔ اس صورتحال پر کسی کے دروازے پر فریاد نہیں کی تو اس کی وجہ یہی ہے کہ بیٹی کا باپ بزدل ہوتا ہے۔ البتہ ایک کڑوا سچ یہ ہے کہ کسی سی آئی اے سٹاف کے اہلکاروں کی بے شرمی بھری بد تمیزی کی وجہ سے پہلی بار یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ میں اس ملک میں رہنے پر مصر کیوں ہوں۔ جہاں قانون بے لگام‘ انصاف جنس بازار اور قانون کے رکھوالے بد تمیز ہیں۔ فقیر راحموں نے دو تین حاضر سروس افسروں کے نام بتائے کہ ان سے بات کرلو‘ منع کردیا۔ اس کی ضرورت کیا ہے۔ چند کرچیاں ہیں عزت نفس کی انہیں سمیٹنے کی کوشش میں پوریں زخمی ہوگئی ہیں۔ طوفان بد تمیزی کے اختتام پر کی جانے والی معذرت سے وہ گھائو بھر سکتے ہیں جو لگ گئے؟ اس عہد نفساں میں اور چند سانس جی کر کیا کریں گے۔ ساڑھے چار عشرے بیت گئے مساوات‘ شخصی آزادی اور احترام پر لکھتے بولتے۔ ہم جو سماج بدلنے کا خواب آنکھوں میں سجائے عملی زندگی کے میدان میں اترے تھے جدوجہد کے اکارت ہونے اور تعبیروں کے چوری ہونے پر نوحہ خوانی کا حق تو رکھتے ہیں یا یہ بھی بدعت حسنہ ہے؟

پولیس میرے گھر میں داخل ہی کیوں ہوئی۔ اس گھر میں جہاں چار ہزار سے چند سو اوپر کتابوں کے سوا کچھ نہیں۔ میرے ہر سوال کے جواب میں نکے وڈے تھانیداروں کی بد تمیزی بھری گفتگو تھی یا پھر آئیں بائیں شائیں۔ کسی کو دوش دینا روا سمجھتا ہوں نا بلا وجہ کا الزام لگانا نہ یہ ڈھکوسلے گھڑنے کی ضرورت ہے کہ یہ آوازوں کو قید کرنے والوں کی کارستانی۔ لیکن جو ہوا اچھا نہیں ہوا۔ سفید پوش شخص ہوں۔ قلم مزدور‘ لڑنے بھڑنے اور ادھم مچانے کے فن سے قطعی ناواقف۔ یہ عرض کر سکتا ہوں کہ اس طرح کی پولیس گردی کی آئی جی سید کلیم امام کے ہوتے ہوئے کم از کم مجھے توقع نہیں تھی۔ اپنے ہی گھر میں (گھر کرائے کا ہے) نصف گھنٹے سے زیادہ حبس بے جا میں رہا۔ بیمار اہلیہ اور 103بخار میں مبتلا بیٹی کی حالت دگرگوں دیکھی۔ کسی انصاف فروش کے پاس فریاد لے جانے یا کسی تعلق دار افسر کا دروازہ کھٹکھٹانے سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ حال دل اپنے پڑھنے والوں سے شیئر کرلوں۔ سو یہی کر رہا ہوں۔ رعونت‘ تکبر‘ بد تمیزی کے جن چلتے پھرتے کرداروں سے آج نصف گھنٹے کے لئے کہ واسطہ پڑا اس سے چار اور کے لوگوں کا آئے دن واسطہ پڑتا ہے۔ قلم مزدور انوکھی یا آسمانی مخلوق نہیں۔ قاعدے قواعد جب موم کی ناک ہوں‘ جہاں ایک سپاہی پوری بستی کو ہانک کر لے جانے کی طاقت رکھتا ہو وہاں سب کچھ ممکن ہے‘ نا ممکن پر کوئی بحث نہیں۔ اس ملک میں رہنے کی قیمت تو بہر طور کم سے کم یہی ہے کہ قانون کے رکھوالے اور دوسرے طاقتور لوگ شریف آدمی کی عزت نفس مجروح کریں۔

دکھ اور اذیت سے بھرے ان لمحوں میں مجھے فقیر راحموں نے کہا۔ شاہ جی! یہ تھرڈ ورلڈ کے دوسرے ملکوں سا ایک ملک ہے۔ بھولی بھینس کو انارکلی کی شاموں اور پولیس اہلکاروں کو عزت نفس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

عجیب مخلوق ہے۔ اب کچھ دیر سے شاہ لطیف بھٹائی کا دیوان کھولے بیٹھا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ عباس خلیفہ کی طرح حکم صادر کروں فقیر راحموں کو ستون سے باندھ دیا جائے شاہ جورھالو (دیوان شاہ لطیف) اس کے سر پر اس وقت تک مارا جاتا رہے جب تک دیوان یا فقیر کے سر مبارک میں سے ایک چیز راہی ملک عدم نہ ہو جائے۔ پھر یاد آیا ایک سفید پوش محنت کش عسکری کے بیٹے کو خلیفہ بغداد جتنے اختیارات ملیں گے بھی کیوں۔ بالائی سطور ہمزاد نے پڑھ لی ہیں کچھ رہا ہے شاہ جی۔ زندگی زمانے کے ڈھب سے بسر کرتے تو آج ہم دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر پرسہ نہ دے رہے ہوتے۔ بات درست تو ہے لیکن عمل بہت مشکل ہے۔ جس ڈھب سے 4ماہ کم 60سال جی لئے ہیں اس میں تبدیلی کیسے ممکن ہے۔ پرانی کہاوت ہے عادتیں سروں کے ساتھ جاتی ہیں۔ سو ہماری عادتیں بھی پختہ ہیں۔ اب پھر سے تعمیر ممکن ہے نا نیا سفر شروع کرنے کا وقت‘ جو ہیں جیسے ہیں ہم ہیں اور حالات۔ دونوں ایک دوسرے کو بھگت لیں گے۔ زندگی رہ ہی کتنی گئی ہے؟ چند سانس‘ ماہ یا سال۔ یہ بھید تو خالق ارض و سماں ہی جانتا ہے۔حرف آخر یہ ہے کہ پچھلے کئی گھنٹوں سے سوچ رہا ہوں جس طوفان بد تمیزی کو برداشت کرگیا ہوں اس سے اگر کسی عام آدمی کا واسطہ پڑتا تو اس کی حالت کیا ہوتی۔ اچانک حاذق یاد آئے۔ وہی شاعر حاذق جس نے کہا تھا ’’ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں تم ان حالات میں جی کیسے رہے ہو؟ تو میں جواب میں کہتا ہوں۔ جیسے تم سب۔ البتہ ایک فرق ہے۔ میں اپنی بات کہنے کا حوصلہ رکھتا ہوں اور تم غلاموں کے ریوڑ کی طرح آنکھیں بند کئے محض لاٹھی کی ٹپ ٹپ پر ناک کی سیدھ میں چلتے جا رہے ہو۔‘‘

متعلقہ خبریں