Daily Mashriq


تان توڑ تان جوڑ موسیقی اور بے سروں کا تذکرہ

تان توڑ تان جوڑ موسیقی اور بے سروں کا تذکرہ

یہ سوشل میڈیا بھی بڑی کمال چیز ہے۔ بعض اوقات ایسی ایسی پوسٹیں اس پر سامنے آتی ہیں کہ بندہ اش اش ( عش عش غلط العوام ہے مگر درست وہی ہے یعنی اش اش) کر اٹھتا ہے۔ اگرچہ کچھ بہت ہی ’’آزاد خیال‘‘ لوگ کبھی کبھی انتہائی نا مناسب تبصرے کرکے ہم جیسے احتیاط پسندوں کے منہ کا مزہ خراب کردیتے ہیں لیکن احتیاط کا دامن تھامے رکھنے والوں کے تبصرے دل خوش کردیتے ہیں۔ اب پاکستان کے ایک سینئر صحافی اور اینکر نے آج کل ملک کے تقریباً تمام چینلز پر دکھائے جانے والے ایک نغمے پر جو ہے تو علامہ اقبال کے کلام پر مشتمل مگر اسے موسیقی کی کس صف میں رکھا جائے یہ ایک الگ سوال ہے‘ اتنا خوبصورت تبصرہ کیا ہے کہ صورتحال وہی اش اش کرنے والی بن گئی ہے۔ مرتضیٰ سولنگی نے پہلے تو اپنی ٹویٹ میں سوال اٹھایا ہے کہ ’’ تین بھدے اور بے سرے بندے کئی دنوں سے ہر چینل پر اقبال کی روح کو تڑپا رہے ہیں۔ خدا بندے سے خود پوچھے‘ بتا تیری رضا کیا ہے؟؟ اور اس کے بعد اپنی ہی ٹویٹ پر مزید تڑکا لگاتے ہوئے جواب بھی دے دیا ہے کہ ’’ خدا ان بے سروں سے پوچھے بتا تیری سزا کیا ہے؟‘‘۔

اس پر ایک لطیفہ یاد آگیا ہے ‘ موسیقی کی ایک محفل میں مقابلے کے لئے بہت سے لوگ آئے تھے جیتنے والے کے لئے بہت بڑا انعام مقرر تھا‘ انہی میں ایک انتہائی بے سرا اور بھدی آواز والا بھی شامل تھا۔ مقابلے کے اختتام پر اسے دو انعامات دے کر رخصت کیاگیا۔ کسی نے اس سے پوچھا کہ تمہیں دو انعام کس لئے دئیے گئے تو اس نے بڑے فخر سے کہا‘ ایک تو مجھے گانا گانے پر ملا جبکہ دوسرا انعام مجھے چپ کرنے پر دیا گیا۔ گویا مقابلے کے منتظمین نے اسے یہ کہہ کر چپ کرایا کہ

سات سروں کا بہتا دریا

تیرے نام۔۔۔۔ تیرے نام

محولہ تینوں’’ بے سرے‘‘ فنکاروں کا قصہ یہ ہے کہ کبھی ان کے فن کا بھی توتی بولتا تھا یعنی جب آتش جوان تھا کا دور تھا تو مرحوم جنید جمشید نے ایک بینڈ بنایا تھا جس کا نام تھا وائٹل سائنز ‘یہ اس کا حصہ تھے بعد میں ان میں اختلافات پیدا ہوگئے اور یہ سب الگ ہوگئے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو یہ زعم تھا کہ بینڈ صرف اسی کی وجہ سے چلتا ہے۔ بہر حال ہر ایک نے کسی نہ کسی طور پر اپنی حیثیت منوانے کی جدوجہد جاری رکھی۔ ایک ملک سے باہر چلا گیا‘ دوسرے نے یہاں قسمت آزمائی جاری رکھی‘ جنید جمشید نے تو تبلیغ کے راستے پر چلتے ہوئے نعت خوانی میں بڑا نام کمایا جبکہ دوسرے اپنی اپنی ہیئت کذائی کے حوالے سے بھی خاصے مشہور ہوگئے اور اپنی وضع قطع ایسی بنا کرسامنے آگئے کہ ان کے گانوں سے زیادہ ان کا سٹائل نئی پود کو متاثر کرتا رہا اور جن نئے بچوں نے بے ہنگم یعنی مغربی موسیقی کے میدان میں قدم رکھا انہوں نے وضع قطع بھی انہی کی طرح اختیار کرکے موسیقی کو’’ متاثر‘‘ کرنا شروع کردیا۔ یوں ملک کے اندر ’’ انکل ڈیمیج‘‘ والا ایک نیا طبقہ پیداہوگیا ۔

موسیقی کے میدان میں استاد تان توڑ‘ تان جوڑ کا کردار اصل میں بعض ملٹی نیشنل اداروں نے سنبھال رکھا ہے۔ پہلے یہ ادارے کھیلوں کے میدانوں پر قابض تھے اور دنیا بھر میں مختلف کھیلوں کے فروغ میں بعض سگریٹ ساز اور شراب کا کاروبار کرنے والے اداروں کی اجارہ داری تھی مگر عالمی سطح پر سگریٹ نوشی کینسر کا باعث بنتی ہے اور شراب نوشی سے انسان نقصان اٹھاتا ہے جیسے سلوگن ایجاد ہونے کے بعد جب نشریاتی اداروں پر ان کے اشتہارات پر پابندی عائد کی گئی تو اس کے بعد مشروبات کے بعض عالمی اداروں نے نہ صرف کھیلوں کے فروغ کے ساتھ اپنا تعلق جوڑا بلکہ پاکستان میں بے ہنگم موسیقی کو فروغ دینے میں بھی یہ ادارے اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اس وقت ایک مشروباتی ادارہ پاکستان میں موسیقی کے مختلف بینڈز کے مابین مقابلہ Batle of Bands کے نام سے چلا رہا ہے۔ یہ پروگرام بھی مختلف چینلز پر نشر ہو رہے ہیں جبکہ دوسرا مشروباتی ادارہ اپنا موسیقی کا سٹوڈیو قائم کرکے پاکستان کے سریلے اور بے سرے فنکاروں کے تعاون سے ماضی کے مقبول گیتوں کا حشر نشر کروا رہا ہے۔ وہ جو بیٹل آف بینڈز کا پروگرام ہے اس میں واقعی ملک کے کئی گروپ جس طرح بے ہنگم شور مچا کر نئی نسل کے لئے عجیب الخلقت قسم کی موسیقی سامنے لا رہا ہے اس کے نتیجے میں امید ہے کہ بے چارے روایتی موسیقی سے روزی روٹی کمانے والے جلد ہی یا تو ملک چھوڑ کر بھاگ جائیں گے یا پھر کشکول گلے میں لٹکا کر بھیک مانگنے پر مجبور ہوں گے کیونکہ نئی نسل کے ان استادان تان توڑ ‘ تان جوڑ قسم کی مخلوق کے آگے تو وہ پانی بھرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔

رہ گئے وہ دوسری قسم کے موسیقی دان تو اس سٹوڈیو میں پرانے مقبول گانوں کا جو حشر کیا جا رہاہے اس سے تو خود موسیقی اور یہ نغمے بھی ایک روز پناہ مانگنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ مجھے یاد ہے ریڈیو کی ملازمت کے دوران ایک دفعہ جب پروموشن کے لئے پروڈیوسروں کے انٹرویوز کئے جارہے تھے تو میری باری آنے پر اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل نے جو بورڈ کے چیئر مین تھے مجھ سے پوچھا کہ علامہ اقبال کے کلام کو سننے والوں کے لئے زیادہ مقبول بنانے کے لئے آپ کے پاس کیا تجاویز ہیں ‘ ساتھ ہی انہوں نے یہ کہہ کر پابندی لگائی کہ خدا کے لئے موسیقی کا تذکرہ کرتے ہوئے قوالی کی بات مت کرنا کیونکہ قوالوں نے علامہ اقبال کا جو حشر کیاہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اس وقت تو جو جواب مجھ سے بن پایا تھا دے دیا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ خود میں اس جواب سے مطمئن نہیں تھا۔ اب توچاہتاہوں کہ جو حشر آج کے یہ ’’انکل ڈیمیج‘‘ قسم کے موسقی بینڈز والے پرانے نغموں اور کلام اقبال کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں ان سے تو قوال پھر بھی اچھے تھے۔ مرزا محمود سرحدی نے بھی تو کہا تھا نا کہ

شیروانی تو پہن لوں کہ ہوں شاعر لیکن

اس سے ڈرتاہوں کہ قوال سمجھ لے نہ کوئی

متعلقہ خبریں