وطن اہم یا اقتدار

18 اگست 2018

مجھے پاکستانی عوام یعنی اپنے لوگوں اورخاص کر اپنے ماجوں گاموں سے بہت محبت ہے۔ پاکستانی عوام نے قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کے لئے جو قربانیاں دی ہیں وہ بے مثال و بے نظیر ہیں۔ یہ عوام ہی کے خون پسینے کی کمائی ہے جس سے پاکستان کی معاشیات رواں دواں ہے۔ کیا بہتر حالات ہوتے اگر ہمارے بڑوں کے ہاتھوں عوام کے ٹیکسوں اور عوام کے نام پر آئی ایم ایف سے لئے گئے قرضوں کی رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے دبئی‘ لندن‘ سنگا پور اور سوئس بنکوں میں نہ جاتی۔

2001ء سے لے کر آج تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس عظیم قوم کے لوگوں( عوام) پر جو گزری اس کی خبر اللہ تعالیٰ کو ہے اور ان لوگوں کو ہے جن پر گزری ہے۔ اس جنگ میں پاکستانی عوام کے خون چکاں حالات کی تاریخ جب لکھی جائے گی تو مورخ کو بھی کئی بار خون دل میں انگلیاں ڈبونا پڑیں گی۔ اب تو بہت ساری چیزیں گرد و غبار میں دھندلائی نظر آتی ہیں۔ لہٰذا صحیح پتہ نہیں چلتا لیکن اس کے باوجود ہمارے عوام زندگی جیتے ہیں۔ خوشی غم‘ کاروبار ‘ لشٹم پشٹم ہی سہی قافلہ سخت جاں محو سفر ہی ہے۔ ایسے میں ان کی بنیادی ضروریات بھی کچھ زیادہ نہیں۔ ہماری قوم بہت صابر و شاکر قوم ہے۔ دیہاتوں میں کھیتوں کھلیانوں میں سردی گرمی میں کام کرتے ہوئے مزدوروں اور زمینداروں کو دو وقت کی روٹی اور چائے اور دو تین عام سے کپڑوں کے جوڑے دستیاب ہوں تو اللہ کا صبح و شام شکر ادا کرتے ہوئے پوری زندگی اپنے کاموں میں جتے رہتے ہیں۔ لیکن ہماری حکومتیں ان غریبوں کو روزی روٹی کمانے کے مواقع تو کیا فراہم کرتیں کرپشن اور مالی بدعنوانیوں اور اقرباء پروری سے ان کے منہ سے نوالہ چھینا اور ان کی اولاد کو تعلیم و صحت کے بنیادی حق سے محروم کردیا اور پھول جیسے بچوں کو صبح صبح کوڑاکرکٹ کے ڈھیروں سے روزی کے حصول کے لئے پلاسٹک چننے پر مجبور کردیا۔

لیکن اس کے باوجود خط غربت سے نیچے یا خط غربت کے عین اوپر پوری زندگی گزارنے والے ہر سال اپنی جھونپڑیوں پر سبز ہلالی پرچم لہرانا نہیں بھولتے۔ سوشل میڈیا پر ایک بچے کی تصویر نے تو مجھے سوچنے پر مجبور کردیا کہ وہ اپنی پرانی سائیکل کے کیرئیر پر کباڑ کی بوری اور آگے ہینڈل پر سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے بہت سرور کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں ہے۔

وہ لوگ جو پاکستان کی بدولت کروڑوں اربوں کے مالک ہیں شاندار کوٹھیوں میں رہتے ہیں اور چمچماتی لگژری گاڑیوں میں پھرتے ہیں اور بالخصوص سیاستدان جو ایم این ایز اور ایم پی ایز بننے کے بعد سرکاری گاڑیوں میں سالانہ لاکھوں روپے کا پٹرول اور ڈیزل مفت پھونکتے ہیں کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ان کے بچوں نے بھی شاندار کوٹھیوں پر ہلالی پرچم کبھی لہرایا ہے۔سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والی یہ نسلیں اور پوری زندگی عیش و نعم میں پلتے بڑھتے ان نوجوانوں کو پاکستان کی قدر و قیمت کیا معلوم ہے؟ کیا ان کو معلوم ہے کہ یہ خوبصورت ملک ہمیں کالی کملی والے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خاک پاہ مبارک کے صدقے میں ملا ہے۔ کتنے لوگوں کو معلوم ہے اور اس پر ایمان و ایقان ہے کہ پاکستان کی تخلیق صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی مانند ایک معجزہ ہے۔ لہٰذا خبردار‘ الحذر! جس کسی نے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی یا ارادہ کیا اللہ اسے معاف نہیں کرے گا۔

پاکستان کی قدر و قیمت مضبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں سے پوچھیں۔ تب ان لوگوں کو شاید احساس ہو سکے جنہوں نے ساری عمر پاکستان کے طفیل خوب عیش و عشرت او اس دنیا می جنت نظیر زندگیاں گزاریں اور گزار رہے ہیں۔ مجھے آج آصف علی زرداری یقینا بہت اچھے لگے جب محترمہ بے نظیر کی شہادت پر بھی انہوں نے پاکستان کھپے کانعرہ بلند کیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت پر ان کی اولاد میں سے کسی نے بھی پاکستان کے خلاف ایسی بات کبھی نہیں کی جیسی آج کل بعض سیاسی رہنمائوں کی زبانوں پر صرف اس لئے ہے کہ عوام نے ان کو پانچ برسوں کے لئے اسمبلی سے باہر رہ کر وطن عزیز کی خدمت کے بارے میں پلاننگ کرنے کا موقع دیا۔

شاید ان لوگوں کو پاکستان تب اچھا لگتا ہے جب وہ اقتدار کے سنگھا سنوں پر براجمان ہوں اور وہ جہاں بھی جائیں بادشاہوں کی طرح ان کا استقبال ہو اور اگر تھوڑی دیر کے لئے ان کو اقتدار کی گدی سے اتارا جائے تو ان کو ملک سے غرض ہے اور نہ عوام سے۔ اسی لئے تو کبھی ڈان لیکس اور کبھی ممبئی پر حملوں کے ڈانڈے اپنے ہی ملک کی افواج کے ساتھ ملانے سے بھی نہیں چوکتے۔ حالانکہ ملک تو آخر اپنا ہے ملک سلامت ہو‘ عوام پائندہ رہیں‘ اقتدار پھر بھی مل سکتا ہے۔

مزیدخبریں