Daily Mashriq


پنجہ یہود کی کامیابی کا راز

پنجہ یہود کی کامیابی کا راز

پوری دنیا میں اس وقت یہودیوں کی تعداد ایک کروڑ سے کم ہوگی مگر ان یہودیوں کی دنیا کی70فیصد تجارت پر کنٹرول ہے اور پوری دنیا میں یہودیوں کی سینکڑوں ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں۔ ان میں مشہور برانڈ کی کولڈ ڈرنکس، صابن، میک اپ کا سامان، خشک دودھ، کھانے پینے کی روزمرہ کی اشیاء، الیکٹرانکس آلات اور کمپیوٹر سامان وغیرہ شامل ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو اس وقت نوبل انعام حاصل کرنے والے یہودیوں کی تعداد180 ہے جبکہ اس کے برعکس پورے عالم اسلام میں سائنس میں نوبل انعام یافتہ مسلمانوں کی تعداد2 ہے۔ ڈاکٹر سٹیفن کہتے ہیں کہ انہوں نے یہودیوں کی عادات واطوار کا مشاہدہ کرنے کیلئے 2سال اسرائیل میں گزارے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہودیوں کی عادات واطوار اور زندگی کے طور طریقے دنیا کی دوسری قوموں سے بہت مختلف ہیں۔ گوکہ یہودیوں کو اللہ تعالیٰ نے خداداد صلاحتیں نہیں دیں مگر یہ لوگ اپنی محنت کے بل بوتے پر دوسری قوموں سے ممتاز ہیں۔ ڈاکٹر سٹیفن کہتے ہیں کہ یہودی بچے کی پیدائش کیساتھ ہی اس کی تربیت شروع کرتے ہیں اور یہ تو حقیقت ہے کہ ماں کی عادات وسکنات بچے کی صلاحیت، قابلیت اور شخصیت پر ا ثرنداز ہوتی ہیں۔ یہودی مائیں حمل کے دوران ریاضی کے سوالات حل کرنا شروع کرتی ہیں۔ اسی دوران وہ خوش رہتی ہیں۔ ڈاکٹر سٹیفن کہتے ہیں کہ حمل کے دوران مائیں میتھ کی کتاب اٹھائے ہوئے ہوتی ہیں اور سوالات حل کرتی رہتی ہیں۔ ڈاکٹر سٹیفن کہتے ہیں کہ میں نے ایک ماں سے پوچھا کہ آپ میتھ کے سوالات کیوں دیکھتی ہیں تو انہوں نے کہا تاکہ بچہ لائق اور ذہین ہو۔ حمل کے دوران عورتیں دودھ، مچھلی، بادام اور کھجور کا استعمال کرتی ہیں۔ ساتھ ساتھ وہ مچھلی کا تیل بھی استعمال کرتی ہیں۔ وہ کھانا کھانے سے پہلے پھل کھاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے پھل کھانے سے بچہ ذہین اور لائق ہوتا ہے۔ 9مہینے تک وہ بچے پر پوری محنت کرتی ہیں۔ مسلمانوں میں بھی ایک رواج تھا کہ عورتیں نفل کرکے دودھ پلاتی تھی اور سائنس سے ثابت تھا کہ مسلمانوں کے بچے ذہین ہوتے تھے۔ یہودی بچوں کو کارٹون، فلموں اور دوسری فضول سرگرمیوں سے دور رکھا جاتا ہے۔ اسرائیلی اور یہودی بچوں میں بچپن میں سب سے زیادہ توجہ جسمانی تعلیم پر دی جاتی ہے۔ تیراندازی، نیزہ بازی، گھوڑ سواری، گھوڑ دوڑ، اونٹ ریس یہودی بچپن ہی سے اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں حالانکہ ماضی میں یہ مسلمانوں کے مشاغل ہوا کرتے تھے۔ کلاس1 سے لیکر6 تک جب بچوں کی عمریں چھ سے گیارہ سال ہوتی ہیں تو ان کو بزنس، میتھس اور سائنس کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کو عبرانی، عربی اور انگریزی زبانیں بھی سکھائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر سٹیفن کا کہنا ہے کہ جب میں نے اسرائیلی بچوں کا موازنہ کیلی فورنیا کے بچوں سے کیا تو امریکی بچے اسرائیلی بچوں سے 6سال پیچھے تھے۔ اسرائیل میں ہر بچے کو 17سال تک فری تعلیم دلائی جاتی ہے، 90فیصد ادارے حکومت خود چلا رہے ہیں جبکہ 10فیصد پر پرائیویٹ لوگوں کا کنٹرول ہے۔ وہ بچوں کو بچپن سے کلچر، سیاست اور دوسرے دنیاوی اُمور سکھاتے ہیں۔ اسرائیل میں بچوں کو ریسرچ 10ویں جماعت سے شروع کی جاتی ہے جبکہ ہمارے ملک میں ایم فل اور پی ایچ ڈی لیول پر ریسرچ اور تحقیق شروع کی جاتی ہے۔ سیکنڈری ایجوکیشن لیول کے بعد اسرائیل کا تقریباً ہر طالب علم اسرائیل ڈیفنس فورسز میں شامل ہوتا ہے جبکہ بیچلرز لیول پر ہر لڑکے کو فوج میں2 سے3سال تک لگانا پڑتا ہے۔ بزنس فیکلٹی میں طالب علموں کے گروپ کو منافع بخش پراجیکٹس تیار کرنے کا کہا جاتا ہے، ہر گروپ میں 10طالب علم ہوتے ہیں اور اگر کوئی گروپ 1ملین ڈالر منافع نہیں کماتا تو ان کو ماسٹر کی ڈگری نہیں دی جاتی۔ اسرائیل میں پڑھے لکھے لوگ نوکری پر توجہ نہیں دیتے بلکہ وہ بزنس کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ نوکری ڈھونڈنے کے بجائے نوکری دیتے ہیں۔ عالمی تجارتی ادارے وبیو میٹرک کے مطابق اسرائیل کی چھ یونیورسٹیاں ایشیا کے100یونیورسٹیوں میں ٹاپ پر ہے جبکہ اسرائیل کی چار یونیورسٹیاں دنیا کی150 یونیورسٹیوں میں ٹاپ پر ہیں۔ سگریٹ کے سب مشہور زمانہ اور زیادہ بکنے برانڈ اسرائیلی ہیں مگر اسرائیل میں سگریٹ پینے پر پابندی ہے۔ نیویارک میں یہودیوں کا ایک مرکز جیوش کنٹری سنٹر ہے۔ یہ یہودیوں کے فلاح وبہبود کیلئے کام کرتا ہے، اگر کسی کے پاس ملک کی ترقی کیلئے کوئی منصوبہ ہے تو ان کو یہاں اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے امداد دی جاتی ہے۔ ڈاکٹرز حضرات بھی ہسپتالوں میں نوکری نہیں کرتے بلکہ ان کو تعلیم کیلئے قرضے دئیے جاتے ہیں۔

دوسری طرف مسلمان ممالک میں باوجود قدرتی وسائل و معدنی دولت کی فراوانی کے ان کے دگرگوںحالات پر غور کریں تو صرف ایک ہی وجہ نظر آتی ہے وہ ہے جدید علوم سے دوری ۔ مسلمان ممالک کے خود غرض رہنمائوں ماسوائے ایک دو کے کسی نے بھی اپنے عوام کو جدید علوم سے روشناس کرانے کے لئے کوئی سعی نہیں کی۔ سب اپنے عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ سب اپنے اقتدار کے دوام کے لئے مغربی آقائوں کی آشیر باد کے طلب گار ہیں جبکہ مغرب تو خود یہود کے پنجوں میں جکڑا ہوا ہے۔ بقول علامہ اقبال

تیری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں

فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے

متعلقہ خبریں