Daily Mashriq

پاکستانی مؤقف کی تائید پر بھارت کی بوکھلاہٹ

پاکستانی مؤقف کی تائید پر بھارت کی بوکھلاہٹ

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے بجا طور پر کہا ہے کہ کشمیریوں کو گھروں میں نظر بند کیا جاسکتا ہے، ان کی آوازوں کو اپنے گھر اور سرزمین میں نہیں سنا گیا ہو لیکن آج ان کی آواز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سنی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ کشمیر عالمی سطح پرمتنازع علاقہ ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس نے ایک مرتبہ پھر مقبوضہ کشمیر سے متعلق قراردادوں کی توثیق کی ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے مقبوضہ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دینے کا بھارتی دعویٰ مستردتو ہو ہی گیا اجلاس میں برسوں بعد تنازعہ کشمیرکا ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر آنا اور اس پربحث، کشمیر کے سرد پڑتے مسئلے کا ایک مرتبہ پھر احیاء ہے جو بھارتی حکومت کی غلطی کی وجہ سے اُجاگر ہوا اور ایک مرتبہ پھر دنیا کو کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے غور کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اپنے ہی ہاتھوں کشمیر کے مسئلے کو ایک مرتبہ پھر عالمی طور پر اُجاگر کرنے اور خود اپنے گھر میں آگ لگا دینے کی غلطی پر مودی سرکار کا تلملانا دلچسپ امر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہارپاکستان کی سفارتی کامیابی اور مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی مؤقف کو عالمی برادری کی طرف سے وقعت دینا ہے۔سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے نے بتایاکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔خیال رہے کہ پاکستان کے مطالبے پر مسئلہ کشمیر پر غور کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل(یو این ایس سی)کا تاریخی مشاورتی اجلاس ہوا تھا۔یہ 50 سال میں پہلا موقع تھا جب خصوصی طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تنازع پر غور کیلئے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔اقوام متحدہ میں چین نے موقف اختیار کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا معاملہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک طویل عرصے سے ہے لیکن اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔چینی مندوب کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے چارٹر، قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کوبھارت کا داخلی مسئلہ تسلیم نہ کرنے اور کشمیر کے تنازعے کو عالمی برادری کی طرف سے حل کرانے کی ذمہ داری کا عندیہ دینے اوربھارت کا اس پر مزید بحث وتمحیض پر آمادگی سے بھارت کو جس خجالت اور ناکامی کا سامنا ہوا اس خفت کو مٹانے کیلئے یا پھر عالمی برادری کو دبائو کا شکار بنانے کیلئے بھارت کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی میں تبدیلی کرنے کے اشارے سے از خود اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ بھارت سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے دبائو اوراضطراب کا شکار ہے۔ بھارت کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے پاکستان کا ردعمل واضح ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارت پاکستان کے درمیان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر وتسلط پر شدید کشیدگی کا عالم ہے بھارتی وزیر دفاع کا یہ کہنا کہ بھارت اب تک جوہری ہتھیاروں کو پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے، تاہم مستقبل میں کیا ہوگا اس کا انحصار حالات پر ہے۔بھارتی وزیر دفاع کا بیان دو ایٹمی ممالک کے درمیان خطرات کے انتہا کو چھونے کا پتہ دے رہا ہے جس کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہئے۔ کشمیر کا تنازعہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہمیشہ سے کشیدگی کا باعث رہا ہے جسے حل کئے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں۔ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ بھارت پر زور دے کہ وہ اپنے اُٹھائے گئے تمام اقدامات فوری طور پر واپس لے اور مقبوضہ کشمیر کا درجہ بحال کیا جائے جس کے بعد اس مسئلے کے حل کیلئے دونوں ملک بامقصد مذاکرات کرکے باقی معاملات نمٹائیں۔بھارت ایٹمی جنگ کی دھمکی دے کر جس راہ پر چل نکلا ہے اس راستے کی کوئی منزل نہیں سوائے اجتماعی عالمی تباہی کے۔ بہتر ہوگا کہ بھارت اس سے باز آئے اور ہوش کے ناخن لے ۔ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کیلئے اور کشمیر کے تنازعے کے حل کیلئے جتنا جلد ممکن ہوسکے اقدامات کرکے جنوبی ایشیاء کو تباہی سے بچائے اور ساتھ ہی عالمی امن کو متاثر ہونے نہ دیا جائے۔ بھارت کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان بھی برابر کا ایٹمی ملک ہے اور ہماری مسلح افواج پوری طرح چوکس اور تیار ہیں ہماری پوری قوم دفاع وطن کیلئے کٹ مرنے سے ذرا بھی نہیں کتراتی جس کا بھارت کو بخوبی علم ہے۔ بھارت کی جانب سے کسی بھی دھمکی اور اقدام کا بروقت 'فوری اور مؤثر جواب دیا جائیگا اس میں بھارت کو کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ بھارت جوہری اسلحہ کے استعمال کی دھمکی دے کر مقبوضہ کشمیر میں بدترین مظالم سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا اور نہ ہی اس سے وہاں پر انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں پر پردہ پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں