Daily Mashriq

سبکدوش وموجودہ بیوروکریسی کیخلاف تحقیقات

سبکدوش وموجودہ بیوروکریسی کیخلاف تحقیقات

مختلف تحقیقاتی اداروں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہنے والے سابق اور موجودہ افسران کے اثاثوں کی تحقیقات کا عمل اگر روایتی نہیں اور اس کے نتیجے میں بد عنوانیوں کے شواہد اکٹھے کر کے سابق وموجودہ عہدیداروںکو احتساب کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے تو یہ احسن ہوگا ماضی کے تجربات کے تناظر میں اس امر کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے کہ نتیجہ خیز ہوں اس طرح کی تحقیقات کے دوران ملی بھگت دے دلا کے معاملہ ختم کرنا یا پھر اس قسم کی تحقیقات کرنے والوں کی اپنی کوئی غرض شامل ہونا خارج ازامکان نہیں ہوتا۔ بعض تحقیقات تو شروع ہی نیک مقاصد کیلئے نہیں ہوتے۔ ہمارے نمائندے کی رپورٹ وسیع ہونے کے باوجود محدود اسلئے ہے کہ اتنے بڑے تحقیقاتی عمل کے عندئیے میں صرف ایک مبینہ بدعنوانی کا حوالہ دیا گیا ہے دیگر محکموں، پراجیکٹس اور دفاتر میں اعلیٰ عہدیداروں نے کیا کرپشن کی اور ان کیخلاف کیا ممکنہ تحقیقات ہوسکتی ہیں اس کا کوئی حوالہ نہیں بہرحال تشنہ لبی کے باوجود مقام اطمینان امر یہ ہے کہ صوبے میں سول بیوروکریسی اور اعلیٰ پولیس افسران کیخلاف تحقیقات ہورہی ہیں جس کے دوران اعلیٰ افسران کی غیرملکی جائیدادوں، بے نامی جائیدادوں اور اثاثہ جات کا انکشاف ہوا ہے اس حوالے سے جتنا جلد ثبوت حاصل کرکے ان افراد پر مقدمات قائم کئے جائیں اتنا بہتر ہوگا۔ اس رپورٹ کی روشنی میں خوش آئند امر یہ ہے نظر آتا ہے کہ قومی احتساب بیورو انسداد رشوت ستانی اور فضائی تحقیقاتی ادارہ بیک وقت تحریک کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور بڑے وسیع پیمانے پر تحقیقات ہورہی ہیں جن کے نتیجہ خیز نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ متعلقہ اداروں کے سربراہوں اور افسروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تحقیقات کی نگرانی کیساتھ متعلقہ ٹیموں کو دباؤ، دھونس اور دھمکیوں سے بچائیں۔ ہمارے تئیں اس قسم کی تحقیقات کے دائرہ کار کو وسعت دی جانی چاہئے اور نیم خودمختار اداروں، سرکاری جامعات اور اس قسم کے دیگر اداروں میں منافع بخش اور قوت واختیار کے مسندوں پر فائز رہنے والے تمام لوگوں کے اثاثوں کی بھی چھان بین کی جائے جامع تحقیقات کا موقع نہ بھی ملے تو سرسری معلومات حاصل کرنے پر بھی بہت سی ایسی باتیں اور شواہد سامنے آئیں گی جس سے ان عناصر کیخلاف مقدمات بنائے جا سکیں۔

ڈینگی، علاج اور تدارک میں غفلت

ڈینگی بخار کی تشخیص کیلئے ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں 4سو روپے کی فیس مقررکرنے کے باعث رواں برس پشاور میں ڈینگی سے متاثرہ سینکڑوں افراد نے سرکاری ہسپتالوں کے برعکس نجی ہسپتالوں سے علاج کیلئے رجوع عوام کی دہلیز پر صحت سہولتوں کی فراہمی کے دعوؤں کی پوری طرح نفی ہے۔ واضح رہے کہ پشاور کے مختلف علاقوں تہکال، پشتہ خرہ، سفید ڈھیری اور بڈھ بیر کے دیہات میں دو برس قبل ڈینگی نے وبائی صورتحال اختیار کی تھی جس کیلئے محکمہ صحت کی جانب سے تشخیصی ٹیسٹ کی سہولت اور علاج مفت کی گئی تھی تاہم رواں برس کیلئے محکمہ صحت کی جانب سے احتیاطی تدابیر جاری کرنے کے علاوہ کسی قسم کی سرگرمی نہیں ہوئی۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈینگی سے متاثرہ افراد کے اعداد وشمار جمع کرنے اور مریضوں کی نگرانی کے سلسلے میں کہیں پر کنٹرول روم قائم نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے صوبہ بھر سے ڈینگی رپورٹنگ کا نظام موجود نہیں۔ دوسری طرف ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں ڈینگی کی مفت تشخیص کی سہولت بھی ختم کردی گئی ہیایک ایسے مرض کو جس کے پھیلنے سے ہزاروں زندگیوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں اور اس پر قابو پانا ممکن نہیں ہوتا اس کی ابتدائی طور پر تشخیص اور روک تھام کی تدابیر اختیار کرنا ہی بہتر حکمت عملی ہوتی ہے۔ جاری صورتحال میں اس حوالے سے سنگین غفلت ثابت ہے جس کا حکومت کو فوری نوٹس لینے اور جملہ حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس امر کا بھی سختی سے نوتس لینے کی ضرورت ہے کہ عوام کو علاج کی سہولت کیوں فراہم نہیں کی گئی اور اس کی ذمہ داری کن پر عائد ہوتی ہے۔

معصوم کلی کو مسلنے والے درندوں کو جلد گرفتار کیا جائے

مردان میں ایک مرتبہ پھر نہایت ہی کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا واقعہ نہایت دلخراش اور رنج دہ ہے۔ وقفے وقفے سے اس طرح کے واقعات کا اعادہ معاشرے کے انحطاط کا ہی علم نہیں ہوتا بلکہ شہریوں کی بھی غفلت کا مظہر ہے جو کسی مشکوک سرگرمی اور شخص کو دیکھتے ہوئے بھی نہ تو چونک اُٹھتے ہیں اور نہ ہی ان سے پوچھنے اور روکنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ معاشرے میں قانون کا خوف ختم ہونے کی بڑی وجہ قانون کا غیرمؤثر نفاذ اور اس قسم کے درندوں کو عدالتوں سے سخت سزاء کا نہ ہونا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ تھانہ صدر مردان کے علاقہ جانبازنرے کی اس معصوم کلی کو مسلنے والوں کا جلد سراغ لگا لیا جائے گا اور ان کو قرار واقعی سزا بھی دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں