Daily Mashriq

نصف صدی بعد

نصف صدی بعد

یقینا یہ پاکستان کی ایک بڑی کامیابی قرار پاتی ہے کہ نصف صدی کے بعد کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اُجاگر ہوگیا جس کیلئے پاکستان کو خاصی تگ ودو بھی نہ کرنا پڑی، بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے عوام کیساتھ جو ہاتھ کیا اسی نے عالمی برادری کی توجہ اس طرف مبذول کرا دی تھی، پاکستان کیساتھ چین بھی مودی کے اس سفاکانہ فیصلے سے متاثر ہوا تھا کیونکہ چین کا لداخ کی جانب کچھ علاقوں پر ملکیت کا دعویٰ ہے، بھارتی ڈکیتی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ چین بھی کسی طور پیچھے نہیں ہٹے گا۔ بھارت کی جانب سے اس ڈکیتی کے بعد جو ٹھنڈے ٹھنڈے انداز پاکستان کی حکومت کی جانب سے نظر آئے تو اس سے پاکستانی عوام کو تشویش تو ہوئی مگر جب سب سے پہلے عالمی سطح پر چین نے لداخ کے حوالے سے اپنا پرجوش ردعمل ظاہر کیا تو اس سے یہ اطمینان ہوا کہ پاکستان اس میدان میں تنہا نہیں کھڑا، اس کا ہم قدم چین بھی ہے جس کے خود بھی کشمیر سے مفادات وابستہ ہیں، یاد رہے کہ چین دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی پاسپورٹ پر چین کا ویزہ جاری نہیں کرتا اس کیلئے الگ سے دستاویزات استعمال کرتا ہے کیونکہ وہ کشمیر کو بھارت کا حصہ ہی تسلیم نہیں کرتا جبکہ پاکستان بھارتی پاسپورٹ پر ہی مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ویزہ جاری کرتا ہے۔ عالمی ردعمل شروع میں جو سامنے آیا تھا وہ مایوس کن تھا اور اس کے اثرات پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی پر گہرے نظر آرہے تھے، تبھی انہوں نے سلامتی کونسل جانے سے متعلق بیان دیا تھا کہ وہاں کوئی ہمارے لئے پھولوں کے ہار لیکر کھڑا نہیں ہوا ہے۔ سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس میں یہ تسلیم کیا جانا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے یہ متنازعہ معاملہ ہے جس کا حل ہونا ضروری ہے۔ یقیناً اس سے مقبوضہ کشمیر میں محصور کئے جانے والے عوام کو حوصلہ ملے گا۔ سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس کا کریڈٹ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو جاتا ہے جنہوں نے مایوس وزیرخارجہ کو حوصلہ دلایا اور پاکستان کیلئے اپنی بہترین صلاحیتوں کیساتھ لابنگ کی جس کے نتیجے میں وزیرخارجہ پاکستان کے خط پر سلامتی کونسل کا مشاورتی اجلاس طلب کیا گیا، اجلاس کی راہ میں بھارت کے نمائندے نے اپنی مقدور بھر مساعی کی مگر ناکامی رہی۔ اس ناکامی کو دیکھتے ہوئے بھارتی لابی نے پاکستان کی مستقل نمائندہ ملیحہ لودھی کیخلاف میڈیا مہم کا آغاز کیا تاکہ پاکستان میں ان کیلئے مشکلات پیدا ہوں اور پاکستانی عوام میں نفرت کو بھڑکایا جا سکے۔ ایک جعلی تصویر جاری کی گئی جس کے بارے میں یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ان کے بیٹے فیصل کی ایک ہندو خاندان کی لڑکی سے شادی کی تصویر ہے اور یہ ہندو خاندان انتہاپسند ہندو تنظیم آر ایس ایس سے تعلق رکھتا ہے اور اسی حوالے سے مودی کا حامی اور قریب بھی ہے، یہ درست ہے کہ ملیحہ لودھی کے بیٹے فیصل نے بھارت کے ایلیٹ کلاس کے خاندان کی لڑکی اوریگا گھمبیر سے شادی کی ہے اور اس نے اپنا مذہب بھی تبدیل نہیں کیا صرف اپنے نام کیساتھ شیروانی کا لاحقہ لگایا ہے جو عموماً شادی کے بعد خواتین اپنے شوہر کے حوالے سے نام میں اضافہ کیا کرتی ہیں۔ اس خاندان کے جدامجد کا تعلق بھارت سے ہے تاہم ملیحہ لودھی کی بہو کے والدین اور وہ خود بھی برسوں سے بھارت نہیں گئے۔ ملیحہ لودھی کی سمدھن کیشی گھمبیر ایک بڑی متحرک سوشل ورکر ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا پر ان کے متحرک رہنے کے بارے میں معلومات ملتی ہیں جہاں کیشی گھمبیر نے ملیحہ لودھی کے بیٹے کو اپنا داماد بنایا وہاں وہ اپنے بیٹے کیلئے کراچی سے تعلق رکھنے والی پاکستان کے ایک مالدار ترین اور بااثرخاندان کی بیٹی بیاہ کر لائی ہیں جس کا نام شرمین ہے۔ شرمین کی ایک بہن ماہین کریم کے نام سے فیشن ڈیزائیننگ اور مہنگے کپڑوں کا برانڈ چلاتی ہیں، شرمین کا اپنے خاندان سے ملنے جلنے کیلئے پاکستان آنا جانا رہتا ہے، ملیحہ لودھی کے بارے میں بھارتی لابی نے جو پروپیگنڈہ شروع کیا اس میں شرمین کا حوالہ نہیں دیا کیونکہ ملیحہ لودھی کو اس کی عمدہ لابی پر بدنام کرنا مقصود ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس میں جو کامیابی پاکستان نے حاصل کی ہے کرشمہ ہے کیونکہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کیساتھ شملہ معاہدہ کیا تھا اس میں یہ طے پایا تھا کہ دونوں ممالک اپنے تنازعات اور اختلافات باہمی بات چیت سے طے کریں گے جس کے بعد دونوں ممالک پابند ہو گئے کہ وہ کسی مسئلہ کو حل کرنے کیلئے کسی اور پلیٹ فارم پر نہیں جائیں گے، اس بنیاد پر پاکستان مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ سمیت کسی بھی بین الاقوامی فورم پر اُٹھانے سے لاچار رہا۔ بھارت نے جو کشمیر کی ڈکیتی کی ہے اس کی منصوبہ بندی تو بظاہر خوب سوچ سمجھ کر کی مگر کشمیر کے عوام جن کے بارے میں دنیا کو معلوم ہی نہیں ہے کہ گزشتہ سترہ اٹھارہ روز سے کشمیری عوام بھارتی فوج کے مکمل حصار میں گھیرے ہوئے ہیں ان پر کیا بیت رہی ہے کیونکہ دنیا سے ان کا رابطہ کاٹ دیا گیا ہے، تاہم جو اطلاعات مل رہی ہیں وہ یہ کہ لوگ بھوک وپیاس سے نڈھال ہو چکے ہیں، بازار مکمل طور پر بند پڑے ہیں، قریہ قریہ بھارتی فوج کا قبضہ وپہرہ ہے۔ کسی کو گھر سے نہیں نکلنے دیا جاتا، نوجوانوں کو بھارتی فوجی اُٹھا کر لے جاتے ہیں، نوعمر لڑکوں کو اُٹھاتے وقت ان پر بے تحاشا تشدد کرتے ہیں، نوجوان لڑکیوں کی تحقیر کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت نے جس منصوبہ بندی سے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کی سعی بد کی وہ اس سے سنبھلنے والی نہیں ہے، مودی نے بھارت کو اسرائیل کے مقام لاکھڑا کیا ہے اور مقبوضہ کشمیر فلسطین بنا ڈالا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں امن وامان تہ وبالا ہوکر رہ جائیگا جس کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھارت کے ہی حصے بخرے ہو جائیں۔ روس نے بھی افغانستان میں فوجیں گھسیڑ کر قبضہ کا خواب دیکھا تھا، نتیجہ یہ رہا کہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا،

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں