Daily Mashriq

دنیا کے نرالے دستور

دنیا کے نرالے دستور

خاتم النبیینۖ کی بعثت سے قبل دنیا کا جو حال تھا وہ کم وبیش یہی تھا جو آج کی دنیا کا ہے۔ فرق بس انتا ہے کہ اُس وقت جاہلیت کو سائنسی علوم وفنون کی مدد حاصل ودستیاب نہ تھی اور آج سائنس اپنے عروج پر ہے۔ اسلئے علماء نے اُس زمانے کی جاہلیت کو قدیم جاہلیت اور آج کی جاہلیت کو جدید جاہلیت کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ سید قطب مرحوم نے جدید جاہلیت کے اُٹھائے گئے سوالات کے جوابات پر مشتمل کتاب ''اسلام اور جدید ذہن کے شبہادت'' اسی تناظر میں لکھی تھی۔ نبی کریمۖ نے جب اس جاہلیت کے خاتمے اور انسانیت کو اُس کا صحیح مقام یاد دلانے کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ہدایات کی روشنی میں بت پرستی اور اس کے معاشرے پر مضراثرات مٹانے کیلئے ''توحید'' کا درس دینا شروع کیا تو مکہ کے بڑے بڑے سردار آپۖ کے مخالف بن گئے۔ نبی اکرمۖ نے مضبوط اور ٹھوس دلائل کیساتھ توحید رسالتۖ اور آخرت کے بارے میں تعلیمات پیش فرمائیں اور بت پرستی کو ہر رنگ سے باطل ثابت کیا لیکن مسئلہ، انا، ضد اور مفادات کا تھا لہٰذا ابوجہل، ابولہب، امیہ بن حرب، عقبہ بن ابی معیط جیسے بڑے سردار کسی صورت حق کی بات ماننے کے روادار نہ ہوئے۔ وقت گزرتا گیا، سرکار دوعالمۖ ایک تناور وسایہ دار صنوبر کی طرح دکھائی گئی راہ مستقیم پر گامزن رہے۔ یہاں تک کہ آخرکار آپۖ کے قتل کا منصوبہ تیار ہوا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا اذن ہوا۔

مکی دور کے تیرہ برسوں کی جدوجہد وریاضت اور تحمل وبرداشت کے بعد بھی مکہ کے ضدی اور ہٹ دھرم لوگ نبی اکرمۖ ہی کو دوش دینے سے باز نہ آئے اور جب مکہ مکرمہ کو چھوڑا تو سراقہ جیسے لوگوں کو انعام کی لالچ میں آپۖ کے پیچھے دوڑایا۔ مدینہ طیبہ میں آپۖ کی دس برس کی حیات مبارکہ کا ایک ایک لمحہ جن عظیم ذمہ داریوں سے عبارت ہے وہ تاریخ کے طلباء سے مخفی نہیں۔ دس برسوں میں ریاست طیبہ کی بنیادیں معاشرے کی تشکیل، اسلام کی اشاعت اور سب سے بڑھ کر یہودیوں کے مضبوط اور فارغ البال قبائل کے درمیان مسلمانوں کی حفاظت کے انتظامات، میثاق مدینہ اور ان سب کے بعد ان دس ہی برسوں میں ستائیس غزوات لڑنا اور ایسی حالت میں لڑنا کہ غزوۂ تبوک کو ناسازگار مالی حالات کے سبب غزوہ العسرہ کا نام ملا لیکن اس کے باوجود کم وبیش سارے غیرمسلم سکالر اور مؤرخ اسلام پر جو الزامات لگاتے ہیں اُن میں سے ایک بڑا بے بنیاد الزام یہ ہے کہ اسلام جارح دین ہے تلوار کے زور پر پھیلا ہے حالانکہ اسلام کی محنت تئیس سال پر مبنی تاریخ سے صاف ظاہر ہے کہ آپۖ اور صحابہ کرام نے دفاعی جنگیں لڑی ہیں۔ غزوۂ بدر سے جنگ یرموک تک سب دفاعی جنگوں کا تسلسل ہے اور اسلام کے امن کیلئے خواہش اور طلب کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم کی ستائیس غزوات میں مسلمان اور غیرمسلم کل ملا کر 1018 آدمی کام آئے ہیں۔

پاکستان کے قیام کی بھی یہی داستان ہے جونہی انگریز حکمران بنا، ان سو سالوں کے اندراندر ہندوستان میں مسلمانوں کا جینا حرام ہوگیا۔ اسی کے پیش نظر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے انگریز کو جنگ کے سبب کمزور کراکر مسلمانان ہند کو آزادی کے حصول کا موقع فراہم کیا تو ہندو سیاستدانوں کی بھرپور کوشش تھی کہ مسلمانان ہند جانے نہ پائیں لیکن مسلمان کے بزرگ، علماء اور اکابران سو برسوں کے دوران ہندو سیاستدانوں اور 1937ء میں ڈیڑھ برس تک قائم کانگریسی حکومت میں بخوبی پھانب چکے تھے کہ ہندوستان میں مسلم اکثریتی علاقوں میں خودمختاری حاصل کئے بغیر مسلمان نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ممکن نہیں۔ ہندوستان کے مسلمان خودمختاری کے طلبگار تھے لیکن تنگ نظر ہندو اُن کو یہ حق دینے پر راضی نہ ہوا اور خود ہی مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کو تقسیم ہند اور پاکستان سے تعبیر کرایا۔ تب اللہ کی مشیت سے تحریک پاکستان برپا ہوئی اور قلیل مدت میں پاکستان قائم ہوا۔ وہ دن اور آج کا دن پاکستان کی دشمنی ان کے سینوں سے نہ نکل سکی۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے بعد بھی ان کے دلوں کی آگ ٹھنڈی نہ ہوسکی۔ تین جنگیں مسلط کروا کر بھی ان کے کلیجے میں ٹھنڈک نہ پڑی اور اب مقبوضہ وکشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کیلئے 370کو ختم کرکے مودی نے اپنی دانست میں 70 برسوں کا کام 70دنوں میں کرنے کا تمغہ سینے پر سجا کر آر ایس ایس کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے ذریعے جو آگ ہندوستان کے دامن کو لگ گئی ہے اُس کا پہلا نتیجہ ناگالینڈ کی آزادی کے اعلان کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اُنہوں نے 14اگست کو اپنا ترانہ اور جھنڈا لہرا کر آزادی کا اعلان کیا ہے۔ کشمیر، پاکستان اور ساری دنیا میں آرٹیکل370 کے خاتمے کیخلاف احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں اور مودی خود پچاس برس بعد مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل تک پہنچانے کا سبب بنا ہے۔ بنگلہ دیش کے قیام پر چین کے وزیراعظم چواین لائی نے کہا تھا ''اندرا گاندھی نے کانٹوں کی فصل بوئی ہے طوفانی سے کٹے گی''۔ دنیا نے اندرا اور راجیو کا انجام دیکھا۔ اب مودی نے چنگاریوں کی فصل بوئی ہے آگ کے دہکتے شعلوں سے کاٹے گا۔ عمران خان بجا کہہ رہا ہے کہ اگر دنیا مودی کے اس ناجائز وغیرقانونی فصل پر خاموش رہی تو اس کا ردعمل ضرور ہوگا اور وہ اس صورت میں بھی ہوسکتا ہے کہ اسلامی دنیا سے مظلوم کشمیریوں کی مدد کیلئے نوجوان اُمڈ اُمڈ کر ٹڈی دل کی طرح آکر کشمیر پر چھا جائیں گے پھر اُس وقت نہ کہنا کہ مسلمان دہشتگرد ہیں کیونکہ آر ایس ایس کے دہشتگردوں کیلئے مجاہدین ہی کی ضرورت ہے کہ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے۔

متعلقہ خبریں