Daily Mashriq

کوئی کرن کوئی جگنو دکھائی دے تو چلیں

کوئی کرن کوئی جگنو دکھائی دے تو چلیں

کہتے ہیں کہ کتاب تنہائی کا بہترین ساتھی ہے۔ یہ بات تب تک تو بالکل درست تھی جب تک یہ چھوٹا سا آلہ جسے موبائل فون کہتے ہیں ایجاد نہیں ہوا تھا،کیونکہ جب سے جیب میں رکھے ہوئے اس فون نے انٹر نیٹ کی مدد سے پوری دنیا کو ایک کلک کی مدد سے انسان کے سامنے لاکر رکھ دیا ہے لوگ کتابوں کی جگہ اسے اپنی تنہائی کا ساتھی بنانے کو ترجیح دینے لگے ہیں، لیکن اب اس سے بھی لوگ اُکتانے لگے ہیں اور جو لوگ مطالعے کا ذوق رکھتے ہیں وہ مراجعت کرتے ہوئے ایک بار پھر کتابوں سے ناتا جوڑنے کی کوششیںکر رہے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر وقت موبائل فون کی سکرین پر نظریں جمانے سے کئی عوارض لاحق ہونے کے خطرات بھی جنم لے چکے ہیں اور باوجود اس بات کے کہ دنیا کی بیشتر مشہور لائبریریوں میں پڑی ہزاروں لاکھوں کتابیں انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں،کہیں بغیر معاوضے کے اور بعض خاص کتابیں معمولی رقم کی ادائیگی کے عوض،مگر جو لوگ ان سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں،خصوصاً ریسرچ میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں ہر صورت یہ کتابیں نہ صرف ڈائون لوڈ کر نی پڑتی ہیں بلکہ ان کے پرنٹ آئوٹ بھی حاصل کرنا پڑتے ہیں، یوں بات وہیں آکر رک جاتی ہے کہ مسودے کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔اس لئے اگر کتابیں مارکیٹ میں موجود ہوں تو انہیں خرید کر پڑھ لینے سے مطالعے کا ذوق بھی نکھرتا ہے،یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ہاں کتابیں اس قدر مہنگی ہیں کہ ہر شخص انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اوپر سے ملک بھر کے ناشر نہ صرف ان کتابوں کے تخلیق کاروں کا استحصال کرتے رہتے ہیں بلکہ کتابیں خریدنے والوں کو بھی دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں اور وہ یوں کہ کتابیں چھپوانے کیلئے تخلیق کاروں سے خرچہ وصول کرنے کے باوجودگنتی کی چند کتابیں انہیں تھما دیتے ہیں جو وہ بے چارے آگے مفت بانٹ دیتے ہیں جبکہ ناشرین آگے ملک بھر کی کتابیں فروخت کرنے والے دکانداروں کو معمولی کمیشن دیکر کتابیں آگے پوری قیمت پر مہنگے داموں مطالعے کے شوقین افراد پر فروخت کرتے ہیں،مستزاد یہ کہ اگر کتاب مقبول ہوگئی اور دوسرا ایڈیشن شائع کرنا ضروری ہے تو کتاب لکھنے والے کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کی کتاب کا ایک اور ایڈیشن بھی شائع ہوگیا ہے کیونکہ اس پر دوسری اشاعت کے الفاظ لکھے ہی نہیں جاتے، یوں ناشر کی تجوری بھرتی رہتی ہے مگر تخلیق کار کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ہاں ملک میں چند خوش قسمت ایسے ضرور ہیں جن کی کتابیں ''ہاٹ کیک'' کی صورت بکتی ہیں تو انہیں باقاعدہ رائیلٹی ادا کی جاتی ہے۔یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے جس کی وجہ سے ہمارے ہاں ادب کی آبیاری کم کم ہی ہوتی ہے،بلکہ حقیقت کو دیکھا جائے تو یہاں تو درسی کتب بھی انتہائی مہنگی قیمت پر بکتی ہیں اس لئے کہ نہ صرف کاغذ مسلسل مہنگا ہو رہا ہے بلکہ روشنائی، چھپائی، کمپوزنگ، بائینڈنگ اوردیگر معاملات کے اخراجات بڑھتے رہتے ہیں حالانکہ دنیا بھر میں کتابیں انتہائی سستی ہیں اور مغربی ناشرین نے تو اس کا ایک اور توڑ بھی نکالا ہے کہ''پیپر بیک''کے نام سے کتابوں کے سستے ایڈیشن بھی چھاپتے رہتے ہیں جو مجلد کتاب کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت پر مل جاتی ہیں، اس ضمن میں کتابوں کیلئے سرکاری سطح پر سستا کاغذ بھی فراہم کیا جاتا ہے تاکہ سستی ترین کتابیں لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچتی رہیں اور وہ اپنے ذوق مطالعہ کی تسکین کرسکیںاور مرحوم غلام محمد قاصر کی طرح یہ گلہ نہ کریں کہ

لفظوں کا بیوپار نہ آیا اس کو کسی مہنگائی میں

کل بھی قاصر کم قیمت تھا آج بھی قاصر سستا ہے

اتنی لمبی چوڑی تمہید باندھنے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ نیشنل بک فائونڈیشن نے ملک بھر میں کتب میلوں کے انعقاد کا فیصلہ کرتے ہوئے کتابوں پر خریداروں کو40فیصد رعایت دینے کا عندیہ دیا ہے، نیشنل بک فائونڈیشن ایک عرصہ سے اس کارخیر کو انجام دے رہی ہے اور پورے ملک میں اس نے برانچیں قائم کر رکھی ہیں، جہاں کتابوں کا ذوق رکھنے والے باقاعدہ رجسٹریشن کرواکر سستے داموں کتابیں حاصل کرتے رہتے ہیں،ان کتابوں میں نہ صرف ادبی کتابیں شامل ہیں بلکہ دنیا کی اہم کتابوں کے تراجم، کلاسیکی، ادبی، تاریخی، سوانحی اور دیگر موضوعات پر مبنی کتابیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ یوں سرکاری سطح پر قائم یہ ادارہ بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے تاہم نیشنل بک فائونڈیشن جب بھی کتاب میلے کا اہتمام کرتی ہے تو یہ میلے شہر سے بہت دور اور عمومی طور پر حیات آباد کے کسی مقام یا زیادہ سے زیادہ پشاور یونیورسٹی کے آس پاس ہی انعقاد پذیر ہوتے ہیں جہاں تک شہر کے لوگوں کیلئے پہنچنا ایک مشکل امر ہوتا ہے ۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے کے منتظمین شہریا صدر کے کسی مقام یا پھر ان کے درمیان بھی کسی مناسب جگہ پر کتب میلے کے انعقاد پر توجہ دیں، اس ضمن میں نشترہال، آرکائیوز لائبریری یا پھر کسی کالج یاسکول کی انتظامیہ کے تعاون سے بھی اس قسم کے کتب میلوں کا منعقد کرنا ضرور ی ہے، جہاں قریبی علاقوں کے شائقین کتب جاکر نہ صرف سستی کتابیں حاصل کرسکیں بلکہ اس طرح ممکن ہے کہ نیشنل بک فائونڈیشن کے مستقل ممبران میں بھی اضافہ ہوسکے اور یہ نئے ممبران بھی آئندہ فائونڈیشن کی سکیم سے استفادہ کرسکیں،کہ بقول مرحوم مقبول عامر

سفر پہ نکلیں مگر سمت کی خبر تو ملے

کوئی کرن کوئی جگنو دکھائی دے تو چلیں

متعلقہ خبریں