Daily Mashriq

ہم ایک ہیں

ہم ایک ہیں

ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس پھونس کی شامت آجاتی ہے۔ یہی حال ہم ستم ماروں کا ہے۔ جس وقت عمران خان وزیراعظم نہیں بنے تھے، وہ ووٹ حاصل کرنے کی غرض سے سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ''ہم اپنے ملک میں پرائی جنگ لڑ رہے ہیں'' انتخابی مہم کے دوران ان کی زبان سے ادا ہونے والے اس قسم کے جملے اس وقت سو فیصد سچ ثابت ہوتے جب ہم خودکش بمباروں کے ناگہانی حملوں کی زد میں آنے والوں کی لاشیں اُٹھا رہے ہوتے یا میڈیا پر ان کی دلخراش چیخیں سن رہے ہوتے۔ اس دوران اوپر تلے رونما ہونے والے واقعات کے بعد ہمارے حکمران ایک آدھ مذمتی بیان دیکر ہاتھیوں کی اس لڑائی میں کچلے جانے والے شہریوں کیساتھ اپنی ہمدردیاں جتانے لگتے اور ہمیں یوں محسوس ہونے لگتا جیسے وہ ہمارے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہوں اور جب وہ دھماکوں کی زد میں آکر اپنی جان گنوانے والوں کی مالی امداد کر رہے ہوتے تو ہمیں شہید اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین کو ان کے سروں کی اونی پونی قیمت دیتے نظر آتے۔ ایسے میں عمران یہ بات کرکے ہماری دکھتی رگ پر اُنگلی رکھ لیتے کہ ہم اپنے ملک میں پرائی جنگ لڑ رہے ہیں ان کی یہ بات بہتوں کا دل جیتنے کا باعث بنتی اور یوں سب عمران خان کو وزیراعظم پاکستان بنانے والوں کی دوڑ میں شامل ہوجاتے۔ ان دنوں ہم سادہ لوح لوگوں تک یہ خبر نہیں پہنچی تھی کہ ہم جنہیں رہبر یا رہنما سمجھ رہے ہیں وہ لٹیرے ہیں۔ وہ اپنے دوراختیار واقتدار میں نہ صرف ملک اور قوم کی دولت کو لوٹ کر بیرون ملک بھیج رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت کو عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کی دلدل میں پھنسا کر ملک اور قوم کو غریب سے غریب تر بنانے اور قومی دولت لوٹ کر اپنے آپ کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس حکمت عملی کو وہ سیاست ہی نہیں اپنی سیاست کی اساس سمجھتے تھے۔ ہم نیند کے ماتوں کی آنکھیں اس وقت کھلیں جب پانامہ لیک کے انکشافات کی خبریں ہم تک پہنچنے لگیں۔ ملک اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت پر اپنی سیاست کی دکان چمکانے والوں کو اپنے کئے پر پشیمان ہونے کی بجائے اپنی دولت پر اتنا غرور اور گھمنڈ تھا کہ وہ افواج پاکستان کے علاوہ ملک کی عدلیہ تک کو اپنا زرخرید غلام سمجھنے لگے تھے۔ دولت کے یہ پجاری ان سے بات بے بات پنگا لینے لگے۔ وہ عوام جنہیں ہم ہاتھیوں کی لڑائی میں بوٹے پودے گھاس پھونس اور جھاڑیاں کہہ چکے ہیں اگر ملک میں چھڑنے والی پرائی جنگ میں کچلے جارہے تھے تو پانامہ کیس کے لیک ہونے کے بعد بیٹھے بٹھائے اداروں اور سیاستدانوں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں ایک بار پھر کچلے جانے لگے ملک کے سیاستدانوں نے قانون ساز اسمبلیوں کے بل بوتے پر خود ہی تیار کئے تھے احتساب عدالتوں کے شکنجے، جن میں پھنس کر وہ حکومت یا عوام کی منتخب قیادت کو چیخ چیخ کر گالیاں دینے لگے اور اس کوشش میں سردھڑ کی بازی لگاتے رہے کہ کوئی ایسی صورت نکلے جو ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے کے جواز کو روک سکے۔ بہت چیختے اور چنگھاڑتے رہے یہ لوگ لیکن قانون اپنے لمبے ہاتھوں کی بالادستی ثابت کرنے میں کبھی اور کسی صورت بھی پیچھے نہ ہٹا۔ دہائی ہے سرکار دہائی ہے۔ بڑی سخت مہنگائی ہے، تاجر تھے صنعت کار تھے زردار تھے جو ذخیرہ اندوزی، مصنوعی گرانی اور زر ودولت کے اُتار چڑھاؤ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے کارن مقروض قوم کے بچے بچے کی زبان پر روپے کی قدر کے کم ہونے کا رونا آیا۔ پٹرول گیس بجلی اور آٹا دال کی مہنگائی کے شکوے اُبھرے لیکن چیخنے والی قوم کی منتخب قیادت ملک میں چھڑنے والی پرائی لڑائی کے حریفوں کو پچھاڑنے کے بعد قومی دولت کو لوٹنے والوں سے پائی پائی کا حساب لینے کی لڑائی لڑنے لگی۔ ابھی یہ لڑائی اپنے انجام کو پہنچنے نہ پائی تھی کہ ایسے میں بھارت کی مودی سرکار نے اپنے ملک کے آئین کی دھجیاں اُڑانے کے علاوہ اقوام متحدہ کی اس قرارداد کو روند ڈالا جس میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جانے کیوں اقوام متحدہ اس وعدے کو ایفا کرنے کی بجائے غیرمعینہ مدت تک ٹالتی رہی۔

ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

کب تک ہاتھیوں کی اس لڑائی میں ہمارے پھول اور پھلواریاں تاراج ہوتی رہیں گی۔ ہم نے اپنا جشن آزادی مظلوم کشمیریوں کے نام کر دیا۔ پندرہ اگست کو یوم سیاہ مناکر تاریخ حریت کشمیر کے اوراق میں ایک نیا صفحہ لکھ دیا۔ پندرہ اگست کو نہتے عوام کے ظلم وستم کو دیکھ کر ان کے یوم آزادی کو یوم سیاہ منا کر ان کے جور وجفا کا سیاپا کرنے لگے۔ اللہ! کب تک جاری رہے گی نفرتوں کی یہ خونخوار جنگ، ہائے کہ ابھی ابھی سلامتی کونسل کے سوچکار سر جوڑ کر بیٹھے بھی نہ تھے کہ اُڑا دیا گیا ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کوئٹہ کچلاک کی سجدہ گاہ کے پاکباز نمازیوں کو، جو ہاتھیوں کی لڑائی کی زد میں آنے والی پھول اور پتیوں کی طرح بکھر گئے، کشمیریو! ہم کل تک پرائی لڑائی لڑ رہے تھے آج تمہاری لڑائی لڑنے کا قرض چکا رہے ہیں کہ

اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں

سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ہم ایک ہیں

متعلقہ خبریں