Daily Mashriq

بالآخر مردم شماری کی تاریخ آگئی

بالآخر مردم شماری کی تاریخ آگئی

وزیر اعظم محمد نواز شریف کے زیر صدارت بالآخر قومی مفادات کونسل کے اجلاس میں 15مارچ سے مردم شماری شروع کرنے پر اتفاق کے بعد ملک میں تقریباً بیس سال بعد مردم شماری کی را ہ ہموار ہوگئی ہے۔ قانونی طور پر ہر دس سال کے بعد ملک میں مردم شماری کرانے کی ضرورت ہے جس کو مختلف وجوہ کی بناء پر ملتوی کیا جا تا رہا۔ پاکستان میں آخری مردم شماری1997ء میں ہوئی تھی۔ اس طرح اب یہ عمل 20 سال بعد دوبارہ ہوگا۔حکومت نے نو سال کی تاخیر کے بعد ملک میں مردم شماری آئندہ برس 15 مارچ سے شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں حکومت پر شدید دباؤ ڈالا تھا جس کے بعد اس تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ مردم اور خانہ شماری اکٹھی کی جائے گی۔ اجلاس کے بارے میں وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ مردم شماری دو مرحلوں میں مکمل کی جائے گی۔پاکستان میں آخری مردم شماری 1998ء میں ہوئی تھی۔ اس طرح اب یہ عمل اگلے سال بعد دوبارہ ہوگا۔ملک میں مردم شماری کے عمل میں تاخیر کی وجہ سے بلوچستان میں پشتونوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا تھا۔حکومت کا موقف تھا کہ چونکہ فوج کئی محاذوں پر سرگرم تھی اس لیے وہ مردم شماری کے عمل کے تحفظ کے لیے فوجی فراہم کرنے سے قاصر ہے۔حکومت پر مردم شماری کے انعقاد میں طویل تاخیر پر نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرون ملک بھی تنقید ہوتی رہی ہے۔اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی نے بھی گزشتہ دنوں پاکستان میں مردم شماری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی وجہ سے ملک کی آبادی کی نسل کی بنیاد پرتازہ ترین تفصیل حاصل نہیں ہو سکی۔جنیوا میں حکومت پاکستان کی جانب سے ملک میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے کوششوں کی رپورٹ کے جائزہ کے بعد اپنی رپورٹ میں کمیٹی نے پاکستان میں جلد از جلد اہم مردم شماری کا بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں خانہ شماری و مردم شماری اکٹھے کرنے کا اقدام اس لئے بھی ضروری تھا کہ پہلے کی طرح خانہ شماری اور بعد ازاں مردم شماری کے لئے وقت نہیں تھا اورویسے بھی خانہ شماری اور مردم شماری الگ الگ کرنے میں اضافی وسائل اور وقت کا لگنا فطری امر تھا۔ بہر حال اگر ایسا نہیں اور خانہ شماری اور مردم شماری کے لئے الگ الگ افراد کو بھی ذمہ داری دی جاتی ہے تو بھی ان کے اکٹھے جانے سے کام مربوط ہوگا اور سیکورٹی کے انتظامات دو دو مرتبہ کی بجائے ایک ہی وقت کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ہمارے تئیں ملک میں فوج کی نگرانی میں انتخابات کے انعقاد پر زور دینے کی ضرورت نہیں۔ وزیر اعظم کے زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بھی اس حوالے سے کوئی تفصیلات طے نہیں کی گئیں۔ البتہ بعض علاقوں میں سیکورٹی کی وجوہات اور بعض علاقوں میں عوام کے اعتماد کے لئے اس عمل میں فوج کو شریک یا شامل کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ مردم شماری کے اعداد و شمار پر اعتراضات اور تحفظات کے مواقع کم سے کم کئے جائیں۔ بیس سال بعد ہونے والی مردم شماری میں مختلف نسلوں اور دیہی و شہری آبادی کے اعداد و شمار میں ناقابل یقین تبدیلی کے امکانات ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان میں اس حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ مستزاد بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بھی توجہ طلب ہے اس لئے بلوچستان میں مردم شماری فوج کی نگرانی ہی میں مناسب ہوگی۔ چونکہ پنجاب کی آبادی اور سندھ کی دیہی و شہری آبادی کے معاملات بھی حساس ہیں اس لئے یہاں ان کے معاملات کے پیش نظر سامنے آنے والے غیر متوقع اعداد و شمار پر ممکنہ تحفظات کے اظہار کے پیش نظر یہاں بھی قابل اعتماد اداروں کی زیر نگرانی مردم شماری و خانہ شماری کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں جو جو مقامات سیکورٹی کے حوالے سے حساس ہوں وہاں پر بھی سیکورٹی کے قابل اعتماد انتظامات کرنے ہوں گے جس کے لئے ایف سی کی خدمات کافی ہونی چاہئیں یا پھر زیادہ حساس مقامات پر فوج کی خدمات کے حصول کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ چونکہ ملک بھر میں دو مراحل میں مردم شماری کا انعقاد ہونے کی منظوری دی گئی ہے جس کی ممکنہ وجہ عملے کے حصول میں آسانی کے ساتھ ساتھ حفاظتی عملے کے حصول میں آسانی مطلوب ہو۔ ملک میں مختلف النسل افراد کی تعداد کا تعین اور اقلیتوں کی صحیح تعداد کا علم ہی کافی نہ ہوگا بلکہ مردم شماری کے نتائج سامنے آنے کے بعد اس کے تناسب سے وسائل کی تقسیم اور عوام کی ضروریات اور سہولتوں کی منصوبہ بندی جیسے اہم امور کی بھی انجام دہی آسان ہوگی۔ اولاً صحیح اعداد و شمار کا حصول ضروری ہے جبکہ ثانیاً ان اعداد و شمار کی روشنی میں وسائل و سہولیات کی فراہمی اس سے زیادہ اہم ہوں گے۔ ملک کی آبادی کے درست اعداد و شمار کی روشنی میں انصاف کے ساتھ وسائل کی تقسیم اورعوام کو سہولیات دینے کو یقینی بنایا جائے تب جا کر ہی ملک میں استحکام آئے گا اور عوام کو اطمینان ہوگا کہ ان کو ان کے حصے کا حق مل رہا ہے۔

متعلقہ خبریں