Daily Mashriq

بھارت کی اشتعال انگیزیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ

بھارت کی اشتعال انگیزیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ

بھارتی فوج کی آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر نکیال سیکٹر میں ایک بار پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سکول وین کو نشانہ بنانے کا واقعہ قابل صد مذمت ہے۔ بھارت کی جانب سے نکیال سیکٹر میں کنٹرول لائن سے ملحقہ دیہات موہڑہ' بھوئیل' دھروتی' گھمب' منجہ کیری اور نارہ کی سول آبادی پر بلا اشتعال گولہ باری کا مسکت جواب دینا پاک فوج کی ذمہ داری تھی جسے بخوبی نبھایاگیا۔ فوجی لائحہ عمل کی ضرورت و اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن ہمارے تئیں کنٹرول لائن پر حالات میں بہتری لانے کے لئے صرف یہ کافی نہیں ہوگا بلکہ اس مقصد کے لئے دونوں حکومتوں کے درمیان سفارتی ذرائع اور بات چیت بھی کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن پر سیز فائر معاہدے کے احترام سے اس امر کی ابتداء کی جانی چاہئیے مگر صورتحال یہ ہے کہ 2016ء میں بھارت لائن آف کنٹرول پر تقریباً ایک سو بیاسی جبکہ ورکنگ بائونڈری پر اڑتیس مرتبہ سے زائد سیز فائرنگ معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے ۔گزشتہ دنوں بھارت اور پاکستان کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ کے بعد صورتحال میں قدرے بہتری آئی تھی مگر بھارتی فوج نے ایک مرتبہ پھر اس کی خلاف ورزی کرکے اشتعال کی کیفیت پیدا کردی ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جب بھی حالات بہتر ہوتے ہیں دونوں ملکوں میں کوئی نہ کوئی بات ہوجاتی ہے جس کے باعث غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور فضا مکدر ہو جاتی ہے ۔حقیقت پسندانہ امر بہر حال یہی ہے کہ اس طرح کی صورتحال دہائیوں سے چلی آرہی ہے۔ جنرل باجوہ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ دسویں کور کے کمانڈر کی حیثیت سے انہوں نے سرحد ی صورتحال میں برداشت اور تحمل سے ہی کام لیاہے۔ تحمل وبردباری کی پالیسی سے اختلاف دونوں ممالک کے درمیان حالات میں کشید گی بڑھانے کے اقدامات کی حمایت ہوگی اور اگر بھارت کو ترکی بہ ترکی جواب نہ دیا جائے تو آئے روز وہ سرحدی خلاف ورزیوں میں اضافہ سے گریز کرنے والا نظر نہیں آتا او ر اگر تحمل سے کام نہ لیا جائے تو دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے حالات میںدونوں ملکوں کے درمیان مفاہمانہ مذاکرات ہی صورتحال کا تقاضا ہیںجس کے نتیجے میں سرحدی صورتحال میں بہتری آئے۔دونوں حکومتوں کے درمیان سفارتی روابط اور بیک ڈور ڈپلومیسی سے کام لیا جائے اور دونوں حکومتیں کشیدگی میں کمی لانے پر اتفاق کرلیں تو یہ ایک بہتر صورت ہوگی ۔دنیا کے ممالک کے درمیان سنگین سے سنگین اختلافات کا حل جنگ اور طاقت کا استعمال کبھی ثابت نہیں ہوا ہے بلکہ سرحدوں پر لڑی جانے والی جنگ کا نتیجہ بھی مذاکرات کی میز پر نکل آتا ہے ۔بھارت کے حق میں بہتر یہی ہوگا کہ وہ جتنی جلدی ہوسکے ہتھیاروں کی زبان استعمال کرنے کی بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرے اور کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں