Daily Mashriq

سلیٹ اور بلیک بورڈ

سلیٹ اور بلیک بورڈ

اب تو سلیٹ کی جگہ کاپی اور بال پین استعمال ہوتے ہے اور بلیک بورڈ کی جگہ وائٹ بورڈ نے یا کمپیوٹر نے لے لی ہے۔ لیکن ہمارے بچپن میں ابتدائی اور ثانوی درجے کی کلاسوں میں سلیٹ اور بلیک بورڈ کا استعمال عام تھا۔ سلیٹ کالے پتھر کی پتلی سی تختی ہوتی تھی بعد ازاں لوہے کی چادر پر کالا رنگ چڑھا کر اسے سلیٹ بنایا جاتا تھا اور بلیک بورڈ لکڑی کا تختہ ہوتا تھا جس پر کالا رنگ کیا ہوا ہوتا تھا۔ بعد ازاں کلاسوں میں ایک دیوار کے کچھ حصے کو سیمنٹ لگا کر اس پر کالا رنگ کر دیا جاتا تھا۔ سلیٹ پر لکھنے کے لیے ایک پتھریلی پنسل استعمال کی جاتی تھی اور بلیک بورڈ پر چاک سے لکھا جاتا تھا۔ سلیٹ پر لکھے کو ذرا سا گیلا کرکے صاف کیا جاتا تھا اور بلیک بورڈ پر چاک سے لکھے ہوئے کو ڈسٹر سے صاف کر لیا جاتا تھا۔ ادھر صفائی ہوئی اور سلیٹ اور بلیک بورڈ نوبرنو۔ پہلے جو کچھ لکھا تھا وہ ختم۔ اب تعلیمی اداروں میں وہ رواج ختم ہو گیا ہے۔ لیکن قومی اسمبلی میں گزشتہ روز سلیٹ اور بلیک بورڈ کا ذکر آیا تو بچپن یاد آ گیا۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے حکمران مسلم لیگ کے بارے میں کہا کہ اس کی سلیٹ صاف نہیں ہے۔ اس پر وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اگر ہماری سلیٹ صاف نہیں تو آپ کا بلیک بورڈ بھی صاف نہیں۔ دونوں کا اشارہ ایک دوسرے کی نازیبا کارکردگی کی طرف تھا۔ اب اگر آج یہ تلاش کیا جائے کہ حکمران مسلم لیگ کی سلیٹ پر کیا تحریر ہے اور اپوزیشن پیپلز پارٹی کا بورڈ کن رازوں کا امین ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے صرف بلیک بورڈ کا ذکر ہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ کے ذمے بہت سے جرائم ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے 1972ء میں اپنے والد مرحوم خواجہ رفیق کے قتل کا ذکر بھی کیا اور سوال کیا کہ انہیں کس نے کیوں قتل کیا تھا۔ خواجہ رفیق مسلم لیگ ن کے گرم جوش لیڈر تھے اور پیپلز پارٹی کے بہت بڑے نقاد تھے۔ 1972ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور انہیں دن دیہاڑے لاہور میں قتل کر دیا گیا تھا ۔ بڑا اندوہناک واقعہ تھا۔ اس کے بعد پیپلزپارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو شہید کی حکومت ختم ہوئی۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء کا دور آیا جس کے لیے پیپلز پارٹی کے سبھی مخالفین کے پاس نرم گوشہ تھا۔ یہ گیارہ سال گزرے تو مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی باری باری حکومتیں بنیں۔ پھر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کا زمانہ آیا۔ پھر سابق صدر آصف علی زرداری کے دور میں پانچ سال پیپلز پارٹی برسراقتدار رہی۔ اب خواجہ سعد رفیق کی مسلم لیگ ن کی حکومت آئی جو گزشتہ ساڑھے تین چار سال سے برسراقتدار ہے۔ لیکن خواجہ سعد رفیق کے منہ سے پبلک فورم پر آج خواجہ صاحب کے قتل کا ذکر سنائی دیا ہے۔ وہ بھی پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ کے طعنے کے جواب میں۔ ان کے بیان سے یہ تاثر آشکار نہیںہوا کہ انہوں نے والد مرحوم کا قتل برداشت کر لیا یا معاف کر دیا ہے۔ معاف کر دیا ہوتا تو شاید وہ یہ بات زبان پر نہ لاتے۔ کتنے مظلوم ہوتے ہیں ہمارے سیاسی لیڈر اور کتنی ظالم ہوتی ہے سیاسی پارٹیوں کی اقتدار حاصل کرنے ' اقتدار میں رہنے کی خواہش۔ ایک خواجہ رفیق ہی نہیں بہت سے لوگ سیاسی مخالفت (جسے دشمنداری کہنا زیادہ مناسب ہوگا) کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کو بھی عدالتی قتل قرار دیا جاتا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو دن دیہاڑے ایک بڑے پبلک جلسہ میں قتل کر دیا گیا۔ اس سے نچلی سطح کے سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد قتل ہو چکی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے دور حکومت کے اواخر میں لاہور میں قلعہ گوجر سنگھ کی عمارت کی تیسری منزل پر چڑھ کر پیپلز پارٹی کے جیالوں کو دن دیہاڑے قتل کیا گیا۔ اس روز گورنر ہاؤس لاہور میں پیپلز پارٹی کے جیالوں کی ایک بڑی تعداد جمع تھی۔ انہوں نے بھٹو شہید سے کہا کہ وہ لاہور کی سڑکوںپر پی این اے (مسلم لیگ ن سمیت اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد) کے مسلح لوگوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس پر انہیں منع کرتے ہوئے بھٹو شہید نے کہا تھا کہ وہ ملک میں خانہ جنگی نہیں چاہتے۔ ان کی حکومت ختم ہوئی اور وہ خود تختہ دار تک پہنچے۔ لیکن سیاسی جماعتوں کے ان کارکنوں پر ان مظالم کا کیا ہوا جن کا آج تعارف بھی سلیٹ اور بلیک بورڈ پر موجود نہیں۔ جو سیاست کی تاریک راہوں میں مارے گئے۔ پتہ نہیں پیپلز پارٹی کے بلیک بورڈ اور مسلم لیگ ن کی سلیٹ کا سائز کیا ہے لیکن ان پر ثبت تحریروں کی فہرست بہت طویل ہے۔ان تحریروں میں اختیارات کا ناجائز استعمال ' فائدہ رسانی اور نقصان رسانی ' غلط بخشیوں اور حق تلفیوں کی طویل فہرست شامل ہے۔ یہ سب کچھ اتنا ظاہر اور معلوم تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے حامی ہونے کی وجہ سے محلوں میں دشمنیاں پڑ گئیں۔ لوگوں کے رشتے ٹوٹ گئے۔ آخر میثاق جمہوریت ہو گیا ۔ محترمہ بے نظیر شہید جب قتل ہوئیں تو میاں نواز شریف نے انہیں اپنی بہن کہا۔ لیکن اس سے پہلے ایک دور ایسا بھی تھا جب یہ دونوں ایک دوسرے کو پاکستان کے لیے خطرناک اور سیکورٹی رسک قرار دیا کرتے تھے۔ کتنے مظلوم ہوتے ہیں ہمارے سیاسی لیڈر اور کتنی ظالم ہوتی ہے اقتدار حاصل کرنے' قائم رکھنے کی خواہش ۔ سلیٹ ' بلیک بورڈ کی تحریر نہایت آسانی سے نئی تحریر کے لیے صاف ہو جاتی ہے ۔ خواجہ سعد رفیق ایک دن پہلے تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کے اسمبلی میں بیان دینے کے آڑے آ گئے۔ اگر شاہ محمود قریشی اسمبلی میں یہ کہہ دینے میں کامیاب ہو جاتے کہ وزیر اعظم نواز شریف ایوان میں آکر پاناما انکشافات کے حوالے سے اپنے اور اپنے وکیل کے بیانات کا تعلق واضح کریں تو یہ کہاں لکھا جاتا؟ سلیٹ اور بلیک بورڈ تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے حساب سے بھری پڑی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ایوان اسمبلی کی دیوار گریہ کے سپرد ہو جاتا جس پر بے شمار کہانیاں ' احتجاج' طعنے اور چیلنج پہلے ہی موجود ہیں۔ خواجہ صاحب نے اگلے ہی روز اپنے کہے پر معذرت بھی کر لی اور شاہ محمود قریشی کو موقف بیان کرنے کی اجازت بھی دے دی۔

متعلقہ خبریں