Daily Mashriq

یوٹرن یا مثبت فیصلہ!

یوٹرن یا مثبت فیصلہ!

کرکٹ میں نا ممکن کو ممکن اور کینسر ہسپتال بنانے کا کارنامہ سرانجام دینے والے عمران خان نے جب سیاست کی پرخار وادی میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا تو یہاں بھی پاکستانیوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا لیکن گزشتہ صدی کے آخری عشرے میں سیاست میں وارد ہونے والے عمران خان شروع شروع میں جوڑ توڑ، سوچ اور دلیل اور ''میں اچھا، تو برا''۔۔ کے اس میدان میں کچھ خاص مقام بنانے میں ناکام رہے۔ اور پھر جب سابق صدر پرویز مشرف نے جمہوریت پر شب خون مارا تو سیاست تو کچھ عرصے ،کے لیے تھم ہی گئی تھی لیکن پھر جنرل پرویز مشرف نے خود کو آئینی حیثیت دینے کے لیے ریفرنڈم کروانے کا اعلان کردیا۔ ریفرنڈم اگر چہ آئینی طور پر ایک جائز کام ہے لیکن بدقسمتی سے مملکت خداداد میں اس آئینی کام کے حصے میں کبھی نیک نامی نہیں آئی ۔ لیکن پتہ نہیں عمران خان نے سابق آمر کے اس اقدام کی نہ صرف حمایت کی تھی بلکہ جہاں بھی موقع ملا تو پرویز مشرف کے حق میں بولنے سے نہیں کتراتے۔ شاید کپتان سابق صدر اور ان کے اس وقت کے اقدام کو ٹھیک سمجھ رہے تھے۔ لیکن کچھ عرصے بعد جب عمران خان کو حقائق اور حالات دونوںکا ادراک ہوا تو انہوں نے نہ صرف مشرف سے خود کو دور کردیا بلکہ ریفرنڈم میں ان کی حمایت پر پشیمانی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تسلیم کرلیا۔ وقت گزرتا گیا اور پھر اکتوبر دوہزار گیارہ میں پی ٹی آئی مینار پاکستان کے سائے میں ایک بڑے جلسے کے ساتھ سیاسی افق پر ایسے نمودار ہوئی کہ بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں کی چمک اس کے سامنے ماند پڑگئی ۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ عمران خان وزیراعظم بن جائیں گے لیکن نتائج اس کے برعکس آئے اور سادہ اکثریت کے ساتھ نواز شریف تیسری بار ملک کے وزیراعظم بن گئے۔ کپتان نے نتائج تو تسلیم کرلیے لیکن ساتھ ہی دھاندلی کا شور بھی مچانے لگے اور بالآخر انہوں نے وزیراعظم سے استعفیٰ لینے کے لیے چو دہ اگست دوہزار چودہ سے اسلام آباد کے ڈی چوک پر دھرنا دیا جو مسلسل ایک سو چھبیس روز جاری رہا۔عمران خان دھرنے کے دوران مسلسل پارلیمنٹ کو جعلی اور اس کے ارکان کو چور کہتے رہے لیکن پھر جب وہ دھرنا ختم کرنے کے مہینوں بعد قومی اسمبلی میں آئے تو بہت سے لوگوں نے ان کے اس اقدام کو یوٹرن کا نام دے دیا۔ اور تو اور اس دوران تحریک انصاف کے اسمبلی ارکان نے استعفے بھی جمع کرائے تھے لیکن کیا کہئے ان کی خوش قسمتی کہ اسپیکر نے ان کے استعفے منظور نہیں کیے۔۔۔۔ لیکن لوگوں کا کیا کیاجائے کہ انہوں نے اس کو بھی یوٹرن کا نام دے دیا۔ دھاندلی کے خلاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کامطالبہ بھی کپتان کا تھا لیکن اس کے بننے اور کام شروع کرنے کے بعد کپتان نے کہا کہ اس کا وقت گزر چکا ہے اور پھر پینتیس پنکچر والی بات کون بھول سکتا ہے جسے بعد میں خان صاحب نے اپنی رائے قرار دیا تھا۔ اسی طرح دھرنے کے دوران عمران خان نے بجلی کے بلز جلا کر سول نافرمانی کا اعلان تو کیا لیکن وہی بجلی اور سوئی گیس استعمال کرتے رہے اور پتہ نہیں کہ بائیکاٹ ختم کرنے کے بعد پی ٹی آئی کے قومی اور پنجاب اسمبلی کے ارکان نے اپنی تنخواہیں عطیہ کی تھیں یا نہیں کیونکہ کپتان نے سب کو اپنی تنخواہیں عطیہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اور تو اور دوہزار تیرہ کے انتخابات سے قبل جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی بطور چیف الیکشن کمشنر تعیناتی پر نہ صرف اعتماد کا اظہار کیا تھا بلکہ ان کی غیرجانبداری کو بھی سراہا لیکن پھر الیکشن کے بعد عمران خان نے ان پر تنقید کے ایسے نشتر برسائے کہ فخرالدین جی ابراہیم نے اپنی سیٹ ہی چھوڑدی۔ اسی طرح پختونخوا میں احتساب کمیشن کے ڈی جی جنرل ریٹائرڈ حامد خان کو لے تو آئے لیکن پھر وہ اختیارات میں کمی کی شکایت پراپنا عہدہ چھوڑ گئے۔اسی طرح جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین کے بارے میں بھی سرد مہری سے کام لیا گیا۔ایک وقت تھا کہ خان صاحب شیخ رشید کو اپنا چپڑاسی بھی رکھنے کو تیا ر نہ تھے لیکن پتہ نہیں کیوں وہ آج کل ان کے مشیر بنے بیٹھے ہیں۔امپائر کی انگلی کے حوالے سے بھی بالآخر خان صاحب کی طرف سے یو ٹرن سے ملتا جلتا کچھ سامنے آیا۔اسلام آباد کو لاک ڈائون کرنے نکلے تو نہ صرف کشتیاں جلا دیں بلکہ دھرنے کو اپنا آخری دھرنا قرار دے دیا لیکن پھر خشکی کے راستے بنی گالہ پہنچ گئے۔پانامہ پر کمیشن کا مطالبہ کیا لیکن پھر کہا کہ سپریم کورٹ ہی فیصلہ کر ے یااور پھر یہ بھی فرمایا کہ فیصلہ یا استعفیٰ آنے تک پارلیمنٹ نہیں جائیں گے، فیصلہ یا استعفیٰ تو نہیں آیا لیکن خان صاحب پارلیمنٹ پہنچ گئے۔بہت سوں کے خیال میں یہ ایک اچھا اور جمہوریت پرور اقدام ہے لیکن کچھ لوگ اس کو بھی مشہور زمانہ یا خان صاحب سے منسوب یو ٹرن کا نام دے رہے ہیں۔اور پھر ان کاموں اور اقدامات کی وجہ سے اس تاثر کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ پی ٹی آئی سیاسی طور پر میچور ہے اور نہ اس کے فیصلوں میں تسلسل یا کوئی منصوبہ بندی ہے۔لیکن میرے خیال میں ان سب تاثرات کو زائل کرنے کیلئے تحریک انصاف کے ساتھ اب بھی موقع ہے کہ وہ پختونخوا پر بھر پور توجہ دے اور عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرے تا کہ ایسا نہ ہو کہ کل لوگ ان کی حکومت کو بھی یو ٹرن کا نام دے دیں۔ ہاں اگر کوئی مجھ سے پارلیمنٹ جانے کے حوالے سے پوچھے تو میں اس کو مثبت یو ٹرن کا نام دونگا۔ باقی فیصلہ آپ کا!

متعلقہ خبریں