Daily Mashriq

طالبان امریکہ سے براہ راست مذاکرات چاہتے ہیں

طالبان امریکہ سے براہ راست مذاکرات چاہتے ہیں

افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان' روس اور ایران کا افغان طالبان پر ان کے بقول ''تباہ کن تاثیر'' تشویش کا باعث ہے۔ واشنگٹن میں وزارت دفاع میں بریفنگ دیتے ہوئے جنرل نکولسن نے کہا کہ باہر سے طالبان کی حمایت سے افغانستان میں امن و استحکام کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ پاکستان کے بارے میں امریکی فوجی اور سیاسی رہنماؤں کے الزامات کوئی نئی بات نہیں لیکن اس مرتبہ امریکی جنرل نے روس اور ایران کو پاکستان سے نتھی کیا ہے۔ جنرل نکولسن کے بیان کے بعد کابل میں روس کے سفیر الیگزینڈر مانتیسکی اور افغانستان کے لیے روس کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلیوف نے باضابطہ طور پر طالبان کے ساتھ رابطوں کی تصدیق کی۔ روسی سفیر نے طالبان سے سیاسی رابطوں سے متعلق کہا کہ افغانستان میں امریکا کی سربراہی میںنیٹو افواج کی ناکامی اور داعش کے بڑھتے ہوئے خطرات کی وجہ سے روس نے طالبان سے سیاسی رابطے بڑھائے ہیں تاکہ اپنے مفادات اور سفارتی مشنز کا تحفظ کیا جا سکے۔ روسی سفیر نے صدر بارک اوباما کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ افغانستان میں طالبان کا خاتمہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر اوباما کے امن کی بحالی میں ناکامی اور داعش کے خطرے کے باعث روس کے لیے طالبان سے سیاسی تعلق مجبوری ہے۔ ایران کے طالبان سے سیاسی رابطے بھی امریکہ کو منظور نہیں۔ امریکا کی منطق بھی عجیب ہے کہ خود اپنے مغربی اتحادیوں سے مل کر خودمختار ملکوں پر مختلف بہانوں سے خود چڑھائی کرے اور دوسرے ممالک کے امن اور استحکام کے لیے کام کرنے کی پالیسی پر تشویش کا اظہار کرے۔ امریکہ کو تشویش کی بجائے ہر اس اقدام کی حمایت کرنی چاہیے جو افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے پاکستان اور افغانستان کے دو طرفہ اور افغانستان ' چین ' پاکستان اور امریکہ کے چار ممالک کے گروپ کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیںتو اگر دوسرے ممالک اور وہ بھی علاقائی اور اہم ممالک ' تو ان کوششوں کو سراہنا چاہیے۔ اگر امریکہ برملا اظہار کرتا ہے کہ فوجی طاقت کے استعمال سے 16سالوں میں طالبان کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا تو امریکا کیوں جنگ کی بجائے سیاسی عمل کے لیے آگے نہیں آتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان مسئلے کا حل صرف امریکا اور افغان حکومت کے پاس ہے لیکن ان دونوں نے اب تک کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی ہے۔ اس سال ستمبر میں افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان امن معاہدے کو نافذ نہیں کیا جا سکا کیونکہ معاہدے میں سب سے اہم حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو اقوام متحدہ اور امریکا کی دہشت گردوں کی فہرستوں سے نکالا نہیںہے۔ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سلامتی کونسل کو باضابطہ خط لکھا گیا ہے تاہم اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے گزشتہ ہفتے کہا کہ طالبان امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات چاہتے ہیں تاکہ غیر ملکی افواج کی واپسی کے لیے طریقہ کار پر بات چیت کی جائے۔ سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے طالبان کی حکومت کو گرایا تھا۔ اس لیے طالبان امریکا سے پہلے براہ راست مذاکرات چاہتے ہیں۔ طالبان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کابل حکومت کے پاس اختیارات نہیں اور اختیار امریکا کے پاس ہے۔ افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے طالبان کو بھی اپنے اس موقف پر غور کرناپڑے گا کیونکہ مسئلے کا حل افغانستان نے تلاش کرنا ہے۔ باوجود اس کے کہ حزب اسلامی کے امن معاہدے پر عمل کرنے پر پیش رفت سست ہے لیکن مسئلے کا حل بین الافغانی مذاکرات میں ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں افغان حکومت کو درست مشورہ دیا ہے کہ طالبان کو باضابطہ مذاکرات کی دعوت دیں اور اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات بھی کریں ۔ پاکستان کا یہ موقف درست ہے کیونکہ اس وقت تک افغان حکومتی رہنماؤں کے بیانات صرف میڈیا تک محدود نظر آتے ہیں۔ امریکا اور افغان حکومت کو روس اور ایران کے سیاسی کردار کا خیر مقدم کرکے خطے کے ان دو اہم ممالک کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنا چاہیے۔ افغانستان میں جنگ کی طوالت خطے کے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اس لیے پڑوسی ممالک کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی بجائے ان کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ 

متعلقہ خبریں