Daily Mashriq

مہنگائی کے مثبت پہلو

مہنگائی کے مثبت پہلو

سیانوں کا قول ہے کہ پانی کے آدھے گلاس کو آدھا خالی کہنے کی بجائے اگر اسے آدھا بھرا کہا جائے تو اس سے فشار خون میں ا ضافہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ آج ہم اس کلیے قاعدے کے مطابق مہنگائی کے افادی پہلوئوں پر کچھ روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔ لیکن آج کی تحریر کا عنوان دیکھتے ہی آپ پہلے سے یہ فیصلہ نہ کر بیٹھیں کہ یہ معاشیات کے موضوع پر ثقیل قسم کا کوئی مضمون ہے جس پر مہنگائی کے اسباب و علل پر کوئی بحث ہوگی اور ملک کی معاشیات پر اس کے مثبت پہلو بتائے جائیں گے جیسے کہ عموماً سرکاری جائزوں اور بجٹ کی تقریر میں ہر بجٹ کو عوام دوست کہہ کر پیش کیا جاتا ہے چاہے اس میں آئس کریم پر ٹیکس ہی کیوں نہ لگایا گیا ہو۔ ہم نہ تو معاشیات کے ماہر ہیں اور نہ اقتصادی امور کے بارے میں کچھ علم رکھتے ہیں۔ ہم بھی کل پرسوں تک آپ کی طرح مہنگائی سے سخت نالاں تھے۔ یہ تو ہمیں تھوڑی دیر پہلے پتہ چلا کہ مہنگائی تو ہماری روحانی تربیت کی ایک آسمانی دلیل ہے۔ چنانچہ ہمیں اس پر سیاپا کرنے کی بجائے اقتصادی ماہرین کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے قوم کی روحانی ترقی کے لئے اتنا آسان اور تیر بہدف نسخہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ علامہ اقبال نے جیسے اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پا جانے کا نسخہ دریافت کیا تھا ہمارے ملک کے معاشی منصوبہ سازوں نے بھی قوم کو مہنگائی کی بھٹی میں تپا کر انہیں کندن بنانے کا پورا بندوبست کردیا ہے۔ یہ انکشاف ہم پر چند لمحے پہلے ہوا کہ مہنگائی کی حالیہ لہر ایک ایسی آزمائش ہے جسے اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے نیک بندوں کے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔یہ انکشاف ہم پر کچھ یوں ہواکہ کل دوستوں کی ایک محفل میں حسب معمول اشیاء صرف میں روزافزوں اضافہ زیر بحث تھا۔ ایک صاحب نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ قرب قیامت کی اس سے بڑی نشانی اور کیا ہوسکتی ہے کہ کل تک بازار میں بھنڈی 100روپے کلو تک فروخت ہوتی رہی اور فروٹر کی قیمت آج سو روپے درجن ہے۔ یعنی ایک فروٹر آٹھ روپے کا۔ ا س طرح 100روپے کلو بھنڈی کا اگر حساب لگایا جائے تو ایک انچ بھنڈی دو روپے میں پڑتی ہے۔ ایک حضرت کافی دیر سے سر جھکائے یہ گفتگو سن رہے تھے۔ اچانک انہوں نے سرخ و مخمور آنکھیں کھولتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ہرکام میں کوئی نہ کوئی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔ جن لوگوں کی سوچ محدود ہے وہ ان مصلحتوں کو کیا سمجھے؟ ہم نے اس مرد خود آگاہ سے ان کے ارشادات کی وضاحت چاہی تو انہوں نے کڑک کر کہا کہ پہلے لاحول پڑھ تاکہ تمہارے ذہن کو شیطانی وسوسوں سے نجات مل جائے' تمہارا ایمان تازہ ہو جائے۔ اس نکتے پر ان سے بحث کی گنجائش موجود تھی لیکن اس طرح مہنگائی پر شروع ہونے والی گفتگو ہمارے ایمان کے لئے خطرہ بن سکتی تھی۔ چنانچہ ہم نے خواہ مخواہ شہادت گہر الفت میں قدم رکھنے سے احتراز کیا اور حضرت کی تسلی کی خاطر اپنے پہلے سے تر و تازہ ایمان کی ترائی کرتے ہوئے باآواز بلند دل کی گہرائیوں سے لا حول پڑھ کر شیطان سے امان کی دعا مانگی۔ جب حضرت کو ہمارے با ایمان ہونے کا پوری طرح یقین ہوگیا تو ان کے چہرے پر ایک ملکوتی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور انہوں نے ایک مجذوبانہ کیفیت میں فرمایا کہ مارکیٹ میں جب کوئی چیز مہنگی ہو جائے تو ہمیں اس پر کڑھنے اور سرکار کی معاشی پالیسیوں پر تنقیدکی بجائے یہ یقین رکھنا چاہئے کہ یہی معیشت ایزدی ہے کہ خدا کے گنہگار بندوں کو ان اشیاء کے استعمال سے پرہیز لازمی ہوگیا ہے۔

اس طرح قدرت نے از خود ہم کو تزکیہ نفس کا موقع فراہم کردیا ہے۔ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تم بڑی آسانی سے اپنے نفس امارہ کے گلے پر چھری پھیر سکتے ہو۔

اگر لاکھوں برس سجدے میں سرمارا تو کیا مارا

بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا

نفس امارہ کے مارنے کی ترکیب' نسخہ اور ا صول بتانے کے بعد حضرت نے مہنگائی کا دوسرا مثبت پہلو یہ بیان کیا کہ ایسی تمام اشیاء کا استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے جو تمہاری قوت خرید سے باہر ہوں۔ حضرت در اصل یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ مہنگی اشیاء کے مضر صحت ہونے کی اس آسمانی دلیل کے باوجود اگر کوئی نفس امارہ کے بہکاوے میں اسے خریدے تو اس سے نہ صرف اس کے بیمار ہونے کا خطرہ بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے بلکہ مہنگی اشیاء کی خریداری ایک طرح کی فضول خرچی بھی ہے۔ حضرت نے مہنگائی کی جو صوفیانہ توجیہہ فرمائی اس سے ہماری من کی آنکھوں کا کھلنا تو یقینی تھا افسوس اس بات پر ہوا کہ حضرت کے ارشادات سے پہلے ہم مہنگائی کو آسمانی آفت کیوں سمجھتے رہے۔ یہ ہماری جہالت اور نادانی تھی جس کی وجہ سے مہنگائی کے افادی پہلو ہم سے پوشیدہ رہے۔ حضرت کی ان باتوں سے ہم پر یہ انکشاف ہوا کہ مہنگائی تو ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے جب بھنڈی اور فروٹر نہ خرید سکتے تو یہ دراصل اپنی نفسانی خواہشات کی قربانی ہوتی ہے۔ اس وقت یہ ایک وسوسہ دل میں ضرور پیدا ہوا کہ مہنگائی کا الزام تو ذخیرہ اندوزوں اور سمگلروں پر لگایا جاتا ہے کیا وہ ہماری روحانی تربیت پر مامور ہیں۔ خیر ہم اس وسوسے کے ازالے کے لئے دوسری کسی ملاقات پر حضرت سے راہنمائی طلب کریں گے۔ فی الوقت تو ہم اپنے وفاقی وزیر خزانہ کی بصیرت کے دل و جان سے قائل ہوگئے کہ وہ ہر سال بجٹ میں قوم کی روحانی تربیت کی منصوبہ بندی کرتے ہیں ۔ کیا میں نے جھوٹ بولا۔

متعلقہ خبریں