Daily Mashriq


سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد

سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد

شہید قوم کا اثاثہ ہیں ‘ ان کی یاد دشمن کے عزائم کے خلاف قوم کے عزم صمیم کو پختہ تر کرتی ہے ۔ تین سال پہلے آرمی پبلک سکول پشاور میں دشمن نے قوم کے نونہالوں پر جو بہیمانہ حملہ کیا تھا اور 131طلبہ اور سکول کی پرنسپل اور ٹیچرز سمیت 144عزیز ہموطنوں کو سفاکی اور درندگی کا نشانہ بنایا تھا اس سانحہ کی یاد آج بھی ساری قوم کے دلوں میں تازہ ہے۔ اس سانحہ کے بعد دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عوام ‘ پاک فوج اور سویلین اتھارٹی نے مزید جوش و ولولے کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کیں۔ ان کے نتیجے میں آج اس سانحہ کے تین سال بعد آرمی پبلک سکول پشاور اور ملک کے دیگر تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں پہلے سے زیادہ عروج پر ہیں۔ دہشت گردی تقریباً نابود ہو چکی ہے ۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کوہاٹ میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران سانحہ آرمی پبلک سکول کے حوالے سے کہا کہ اس بہیمانہ واقعہ کے بعد ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور ہماری فوج نے جس طرح متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اس جنگ کے نتیجے میں ہم نے دہشت گردی کو شکست دی اور آج ہمارے تمام سکول اور مساجد محفوظ ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ہمارے معصوم بچوں اور ان کے بہادر والدین کی عظیم قربانی رائیگاں نہیں گئی ، اس کی یاد دلوں سے محو نہیں ہو سکتی ، یہ مادرِ وطن کی محبت کے غیر متزل لز جذبے کی علامت ہے۔ آرمی پبلک سکول پشاور میں ایک دعائیہ تقریب منعقد کی گئی ۔فاتحہ خوانی میں کور کمانڈر پشاور ‘ ایف سی کے انسپکٹر جنرل ‘ اسٹیشن کمانڈر اور دیگر افسروں ‘ شہداء کے والدین ‘ ان کے بھائی بہنوں ‘ آرمی پبلک سکول کے بچوں نے شرکت کی اور شہداء کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے بعد دہشت گردوں کے خلاف جنگ میںتیزی آئی آپریشن ضرب عضب کے ذریعے فاٹا میں ان کے ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ آج فاٹا میں امن بحال ہو چکا ہے۔ ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں اگرچہ ختم نہیں ہوئیں تاہم بہت کم اور خال خال ہی رہ گئی ہے۔ باچا خان یونیورسٹی ‘ کوئٹہ کی سیشن عدالت کے باہر اور سیہون شریف درگاہ پر بم دھماکوں میں کئی سو ہموطن شہید ہوئے تاہم آپریشن ضرب عضب کے باعث ہزیمت کے باوجود دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ان کے بچے کھچے عناصر کے خلاف آپریشن رد الفساد جاری ہے۔ اور کوئی ہفتہ ایسا نہیں جاتا جب دہشت گردوں کے سہولت کار گرفتار نہیں ہوتے اور ان کے قبضے سے اسلحہ کی کھیپ برآمد نہیں ہوتی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آپریشن ضرب عضب کی ایک بڑی کامیابی کے باوجود جنگ جاری ہے اور جیسے کہ حکام بالعموم کہتے رہتے ہیں کہ یہ جنگ آخری دہشت گرد کے کیفر کردار تک پہنچنے تک جاری رہے گی۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اس کے چند پہلوؤں پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔(۱)۔ آپریشن رد الفساد کے کامیابی سے جاری رہنے کے باوجود دشمن کہیں نہ کہیں حملہ آور ہو جاتا ہے ۔ اس کے محرک ہمسایہ ملک میں پاکستان سے فرار ہو کر جانے والے پناہ گزیں دہشت گرد ہیں جن کے بھارتی خفیہ ایجنسی کے ساتھ رابطے ہیں جو انہیں اسلحہ‘ سرمایہ ‘ تربیت اور رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ان حملہ آوروں کے راستے بند کرنے کے لیے پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی ضروری ہے جس پر کام شروع ہو چکا ہے تاہم اسے تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔ (۲)۔ان حملہ آوروں کی دوسری پناہ گاہ پاکستان میں مقیم لاکھوں افغان باشندے ہیں جن کی روزانہ دونوں ملکوں کے درمیان آمد ورفت جاری رہتی ہے اور جن کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں کون دہشت گرد وں کا سہولت کار ہے اور کون روز گار کا پرامن متلاشی ۔ لہٰذا ان افغان باشندوں کو ان کے اپنے ملک میں جلد از جلد بھیجا جانا ضروری ہونا چاہیے۔ حکومت کو ان دونوں کاموں پر ترجیحی توجہ دینی چاہیے۔ (۳)۔ دہشت گردوں کے سہولت کار جہاں کہیں موجود ہیں باور کیا جاتا ہے ان سب کا سراغ لگانا محض خفیہ کار اداروں کی افرادی قوت سے بہت زیادہ ہے۔ اس لیے پوری قوم کا دہشت گردی پر مسلسل متوجہ رہنا ضروری ہے۔ جب حکام کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے تو عوام میں ایک گونہ اطمینان ہو جاتا ہے اور ہمہ وقت نگران رہنے کی طرف توجہ کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے عوام کو سہولت کاروں کی نشاندہی میں شامل کرنے کے لیے‘ کہ یہ بنیادی طور پر ان کا مسئلہ اور ان کا ملک ہے‘ یہ ضروری ہونا چاہیے کہ مقامی قیادت ‘ بلدیاتی ادارے آئمہ مساجد اور تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ وہ مشتبہ افراد کی نشاندہی کریں اور حکام کو اطلاع دیں ۔ یہ مقامی قائدین اس بات سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں کہ ان کے علاقے میں کون اجنبی آ کر آباد ہوا ہے یا کس کی حرکات یا اس کے مہمان مشکوک ہیں۔ (۴)۔ دہشت گردی ایک عرصے سے ملک میں جاری ہے، پہلے زیادہ تھی اب کم ہو گئی ہے۔ اس میں فوج ‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام بے گناہ شہریوں سمیت 60ہزار سے زیادہ افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ان شہداء کے ورثاء کو اور زخمی ہونے والوں کو مختلف ادارے مختلف پیمانے پر امدادی رقوم یا زراشک شوئی ادا کرتے ہیں۔ ایسے بھی واقعات بیان کیے جاتے ہیں کہ اس امداد کے اعلان کے بعد یہ کئی ماہ تک یا بالکل ادا نہیں کی جاتی۔ جان سب کی یکساں قیمتی ہوتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کے نتیجے میں شہید یا زخمی ہونے والوں کو یکساں مناسب امداد دی جائے۔ یہ شہید اور زخمی ساری قوم کے شہید اور زخمی ہیں۔ ان کی امداد کسی ادارے یا کسی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہونے کی بجائے ساری قوم کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ بہتر ہو گا کہ کوئی پالیسی مرتب کی جائے ‘ کوئی ادارہ قائم کیا جائے اور اس کے ذریعے انہیں مناسب امداد بہم پہنچانا یقینی بنائے جائے۔

متعلقہ خبریں