Daily Mashriq


فاٹا انضمام محض وعدے نہیں عملی اقدام

فاٹا انضمام محض وعدے نہیں عملی اقدام

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کوہاٹ میں خواتین یونیورسٹی کی تقریب سے اور ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کاکام ن لیگ نے شروع کیا ہے اور ن لیگ ہی اسے مکمل کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرکے دکھائیں گے اور سوسالہ پرانا نظام ختم کرکے دکھائیں گے۔ سوسالہ پرانا نظام ختم کرنے سے ان کی مراد یقینا فاٹا کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنا‘ انہیں ملک کے دیگر شہریوں کے برابر حقوق فراہم کرنا ہے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ ن لیگ کے حالیہ دور حکومت میں ہی فاٹا کے عوام کے انضمام کے دیرینہ مطالبے پر سرتاج عزیز کمیٹی بنائی گئی جس کی سفارشات پر مبنی فاٹا اصلاحات بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی دو بار کوشش ہوئی ۔ لیکن یہ بل تادم تحریر اس کے باوجود قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جا سکا کہ اس کے منظور کرنے پراسمبلی میں موجود دو کے سوا سبھی سیاسی جماعتیں متفق تھیں۔ تقریباً آٹھ ماہ قبل جب یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اس پر بحث شروع ہونے سے پہلے ہی حکومت نے یہ بل واپس لے لیا۔ کہا جاتا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جمعیت العلمائے اسلام ف کے مولانا فضل الرحمان کی ایک ٹیلی فون کال موصول ہونے کے بعد بل واپس لینے کی ہدایت کردی تھی۔ اب فاٹا کے عمائدین اور نوجوانوں کے مطالبہ پر حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ پیر کو بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، ایک ہفتہ میں دونوں ایوانوں سے منظور کروا لیا جائے گا اور ایک ہفتہ تک سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک وسیع کر دیا جائے گا۔ لیکن جس پیر کے دن یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کیا گیا تھا‘ نہیں کیا گیا ۔ حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ بل کچھ ٹیکنیکل وجوہ کی بنا پر پیش نہیں کیا گیا۔ یہ ٹیکنیکل خامیاں دور کرنے کے بعد دو چار روز میں پیش کر دیا جائے گا۔ کوہاٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اپنے پارلیمانی امور کے وزیر کی تائید کی ہے ، یہ نہیں بتایا کہ یہ دو چار روز کب تک ختم ہوں گے۔ جب انہوں نے اس موضوع پر اظہار خیال کیا تو انہیں عوام کو اس بارے میں بھی اعتماد میں لینا چاہیے تھا کہ وہ ٹیکنیکل خرابیاں کیا تھیں ۔ اس ٹیکنیکل خرابی کے جواز نے فاٹا کے عوام میں یہ وسوسے پیدا کردیے ہیں کہ اس بل میں سرتاج عزیز سفارشات میں جو وعدے کیے گئے ہیں ان میں کمی تو نہیں کر دی جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیر اعظم محض وعدوں اور اعلانات کی بجائے وزیر پارلیمانی امور کو ہدایت کریں کہ وہ عملاً یہ بل اسمبلی میں پیش کریں۔

جہانگیر ترین کا مستحسن فیصلہ

سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے بعد جہانگیر خان ترین نے تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ ان کا مستحسن اقدام ہے کہ یہ عدلیہ کے فیصلے کے احترام میں کیا گیا ہے۔ انہیں اگرچہ اس فیصلہ کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست دائر کرنے کا حق ہے تاہم یہ بعد کی بات ہے۔سپریم کور ٹ کے حالیہ فیصلہ کے بعد وہ عوامی عہدوں کے لیے اہل نہیں رہے۔ فیصلہ کے بعد ان کا پہلا ردِ عمل یہ سامنے آیا کہ خدا کا شکر ہے کہ انہیں کرپشن کے الزام میں نااہل نہیں قرار دیا گیا۔ انہیں اثاثے چھپانے کے الزام کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے ‘ اسی الزام کے تحت سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بھی عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔ تحریک انصاف نے فیصلہ کیا ہے کہ سیکرٹری جنرل کا عہدہ اس وقت تک خالی رکھا جائے گا جب تک جہانگیر ترین کی حالیہ فیصلہ کے خلاف نظرثانی کی درخواست کا فیصلہ نہیں ہو جاتا ۔ اس کا فیصلہ ان کے حق میں آیا تو وہ اپنے عہدے پر بحال ہو جائیں گے بصورت دیگر تحریک انصاف نئے سیکرٹری جنرل کو مامور کرے گی۔ تحریک انصاف کا یہ فیصلہ بھی عدالت کے حکم کے احترام کے تقاضے پر پورا اُترتا ہے۔

متعلقہ خبریں