Daily Mashriq


ہمارا مستقبل کیاہے ؟

ہمارا مستقبل کیاہے ؟

لوگ کہتے ہیں سوچ کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیںہوا کرتی لیکن یہ بات ایسی بھی درست نہیں سوچ کے دائرے بھی ہوتے ہیں اور دیواریں بھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان میں اُلجھ جانے کے باوجود ہم کبھی اُن کو دیکھ نہیں پاتے ۔ کبھی ادراک اُن کو اپنی مکمل گرفت میں نہیں کر سکتا ۔ سوچ کبھی ابہام کاشکار ہوتی ہے اور کبھی اپنے تئیں پورے منظر کو صاف صاف دیکھتی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ سوچ کبھی پوری طرح آزاد نہیں ہوتی ۔ پرانے فلاسفر اسی ایک سوچ اور نظر کے اُلجھائو پر کتنی ہی بحثیں کرتے رہے ۔ کبھی انہوں نے یہ بھی کہا کہ سچ جو اس دنیا میں ہے پورا سچ نہیں ہے ۔ کیونکہ اس دنیا کا ہر سچ اور ہر حقیقت دراصل ایک ازلی ابدی ائل حقیقت کا پر تو ہے عکس ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں اور اس دنیا کے سچ کو جب ہم بیان کرتے ہیں تو دراصل یہ اصل سچ سے دو قدم دور ہوا کرتا ہے ۔ زندگی جو ہے اس کو سمجھنے کے لیے بہت وقت چاہیئے لیکن ایک آسان سی بات ہے جو نسل انسانی نے ہزاروں سالوں کی معاشرت کے بعد سیکھی ہے جو کہتی ہے کہ انسان کی حرکات کے حوالے سے پیش گوئی کرنا بڑا آسان ہے ۔ کیونکہ انسانی فطرت ازل سے ویسی ہی ہے اور اب تک ویسی ہی رہے گی ۔ آج جیسا ہے ویسا کیوں ہے اور اسے اب کس سمت جانا ہے ، اس کے بارے میں اندازہ لگانا ایسا کوئی مشکل نہیں کیونکہ ماضی کے حوالوں سے ، رویوں کے مطالعوں سے سب حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے ۔ انسان کئی بار تو ماضی کا بھی مطالعہ نہیں کرتا اور آج کے بارے میں اندازے لگانے کی حیرت میںمبتلا رہتا ہے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اصل معاملہ ، اصل مشکل اور اصل کام تو یہ ہے کہ انسان ماضی اور حال کے راستوں کی سمت کا تعین کر کے مستقبل کا اندازہ لگا لے اور اسے کیسا اور کیسے کرنا چاہیئے اسکے بارے میں حکمت عملی مرتب کرلے ۔ جب بھی کوئی مجھے کہتا ہے کہ مستقبل کا تو کسی کو اندازہ ہی نہیں کہ وہ کیا ہوگا تو میں اکثر کہتی ہوں یہ درست ہے کہ مستقبل کیا ہوگا کوئی نہیں جانتا لیکن ماضی اور آج کی روش دیکھ کر بہت سے اندازے لگائے جا سکتے ہیں ۔کم از کم اس حدتک اپنی راہ بھی متعین کی جا سکتی ہے ۔ کیونکہ توکل علی اللہ بہت زبردست ہے کسی بات کا کسی فیصلے کا اور کسی حکمت عملی کی ترتیب کا بوجھ انسان کے کاندھوں پر نہیں رہتا مگر اسکے باوجود اونٹ کا گھٹنا باندھنے کا حکم بھی ہے اور یہی وہ اونٹ کا گھٹنا باندھنا ہے جو ہم محض اس لئے نہیں کرتے کیونکہ ہم اُن سوچ کے دائروں میں اُلجھ گئے ہیں جنہوں نے سوچ کو صرف آج تک محدود کر کے رکھ دیا ہے ۔ میں کبھی اپنے ارد گرد دیکھتی ہوں اپنے ہم عصروں کو ، اپنے جیسے تجزیہ نگاروں کو اُن لوگوں کو جو ہم جیسے لوگوں کی جانب اس امید کے ساتھ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ چونکہ ہمارا کام ہی ان کے لئے راہ متعین کرنا ہے ، انکے لئے حل اور جواب تلاش کرنا ہے ، ان کے لئے اُلجھی ہوئیگتھیوں کو سلجھانا ہے لیکن کیسی عجیب بات ہے کہ ہم اور آپ ان کے لئے کوئی بھی حل تلاش نہیں کر پاتے کیونکہ حل تلاش کرنا ،جہاں تک میں سمجھ پاتی ہوں ہمارا مقصد ہی نہیں ۔ ماضی اورحال کے تجزیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی راہ متعین کرنا اور مستقبل کے لئے کوئی حکمت عملی مرتب کرنا ہی کیا اس سارے معاملے کا ، اس صورتحال کا اصل مقصد ہی نہیں ۔ لیکن ہم میں سے کوئی بھی ایسا تو کر ہی نہیں رہا ۔ میں اپنے ارد گرد کے جتنے لوگوں کو دیکھ رہی ہوں ، میڈیا کے کردار کا جائزہ لے رہی ہوں اور ہر وہ شخص جو کسی بھی طور لوگوں کی سوچ کو ترتیب دینے ، انہیں راہ دکھانے سے وابستہ ہے اس کی تو اپنی ہی کوئی سمت مجھے دکھائی نہیں دیتی ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس مستقبل کی کوئی حکمت عملی ہونی چاہیئے اور آج کی راہ میں چلتے ہوئے اس مستقبل تک کیسے پہنچا جائے اس بات کا تعین کرنا ہے لیکن یہ لوگ تو خود کھڑے کھڑے دکھائی دیتے ہیں ۔ مستقبل کے حوالے سے تو کوئی پلان ، یا کوئی سوچ ہی ان کے پا س نہیں ، وہ تو آج میں اُلجھے ہوئے ہیں ، اسی آج میں سارے مطلب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس آج تک خود کو محدود رکھ رہے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں بات صرف انہی لوگوں تک محدود کہاں ہیں ۔ اپنے ارد گرد دیکھوں تو مجھے تو پاکستان میں کوئی لیڈر ، کوئی حکمران بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا جو مستقبل کے حوالے سے کوئی سوچ یا کوئی منظر نگاہ میں رکھتا ہو ۔ ہمارے ماضی کی مثالیں موجود ہیں لیکن ان کے حوالے سے سوچے بھی کون کہ ہم تو آج بتانے کی ہی سوچ میں غلطاں ہیں ۔آج کیا ہوا اور وہ آج جو اس کے بعد آنے والا ہے اس میں کیا ہوگا ۔شاید اس سے آگے ہم دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ سیاست دانوں کی سوچ کی حد ، مفاد سے پر آج سے زیادہ نہیں ہوتی اور کسی حکمران کی سوچ اس کے آج کی حکومت سے زیادہ بڑھ نہیں پاتی لیکن کیا قوموں کی زندگی میں ان کے ماضی اور ان کے آج کی اتنی زیادہ اہمیت ہو اکرتی ہے ۔ کیاہم اس ایک شخص کو بھول گئے جس کا نام محمد علی جناح تھا ۔ جو بر صغیر کے حالات سے تنگ آکر برطانیہ چلا گیا تھا لیکن جب وہ واپس لوٹا تو اس کے پاس ایک سوچ تھی ، ایک منظر تھا جو اس کے علاوہ کوئی اور نہ دیکھ سکتا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں یوں روشن تھا کہ وہ بنا کسی اور جانب دیکھے اس کی جانب یوں بڑھتا چلا گیا جسے اس سے زیادہ واضح کوئی اور بات ہی نہ ہو سکتی تھی اور جسے ہر ایک راہ خود بخود ہی اسی سمت جاتی تھی ۔ پاکستان کے قیام کی قرارداد تو 1940 میںمنظور کی گئی لیکن شاید قائد اعظم کی نظر اس پر یوں ٹکی نہ ہوتی تو اس ملک کا قیام ممکن ہی نہ ہوتا ۔ ذرا سوچئے اس ایک منظر کے بعد اس ملک وقوم نے کبھی کوئی اور کیا منظر اور خواب دیکھا ۔ مستقبل کا کوئی ایسا خواب جو سچ محسوس ہو کوئی راہ دکھانے والا شاید ہمارے پاس ایسا ہے ہی نہیں جس کی سوچ اتنی واضح ہوتی ۔ مجھے تو اپنے ارد گرد صرف آج گزارنے والے ہی دکھائی دیتے ہیں اور برف کے مجسمے جو آج کی دھوپ میں پگھل کر ختم ہو جاتے ہیں لیکن ذرا ایک لحظے کو آج کی اس کنویئر بیلٹ سے اتر کر یہ بھی سوچئے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے ؟ کیا کوئی امید ، کوئی خواب یا کوئی منزل ہمارے پاس ہے ؟ ۔ 

متعلقہ خبریں