Daily Mashriq


آمد سیلاب ِ طوفانِ صدائے آب ہے

آمد سیلاب ِ طوفانِ صدائے آب ہے

مجذوب نے سر اٹھا کر سکندر اعظم کی جانب ایک نظر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ تم بڑے خوش قسمت ہوباباجی جو سکندر اعظم چل کر تمہارے پاس آیا ہے۔ سکندر اعظم کا ایک مصاحب بولا ، جسے سکندر نے ہاتھ کے اشارے سے چپ کروادیا اور پھر بابا جی کو مخاطب کرکے کہنے لگا۔ میں فاتح عالم ہوں ، خیبر اور پشاور کی وادی عبور کرکے جہلم تک پہنچا ہوں ، آپ کے مجذوب ہونے کے چرچے سنے تو آپ کے پاس آگیا ۔ بتاؤ بابا جی کیا خدمت بجا لاسکتا ہوں میں آپ کی ۔ بابا جی نے سکندر اعظم کی بات سن کر نہایت دھیمے مگر طنز بھرے لہجے میں کہا۔میں یہاںبیٹھا دھوپ سینک رہا تھا اور تم آن کھڑے ہوئے میرے گرد گھیرا بنا کر ، خدا را لے جاؤ اپنی فوجیں یہاں سے تاکہ میں جذب کر سکوں دھوپ کی تمازت کو ۔وٹامن ڈی کا خزانہ ہے یہ دھوپ، ایسے ہی سن باتھ نہیں کرتے سمندر کے کنارے پہنچنے والے ننگ دھڑنگ گورے اور گوریاں،دسمبر کا ٹھٹھرتا مہینہ ہواور آپ کسی جنگل مثال مقام پر دھوپ کی تمازت اپنے وجود میں سموتے ہوئے شیکسپئیر کی نظم under the green wood treeگنگنا رہے ہوں کہ ایسے میں کسی سجن بیلی کاٹیلی فون آجائے اور آپ گنگنانا بند کر کے حال دل سننے اور سنانے کی منزلیں طے کرنے لگیں تو آزما کر دیکھیں دھوپ سینکنے کا مزہ دوبالا ہوجائے گا ۔ کیسے ہیں؟ مسرور صاحب نے ہیلو ہائے کے تبادلے کے بعد ہم سے پوچھا۔کھلی فضا کی دھوپ میں بیٹھا دسمبر کی گرمی لوٹ رہا ہوں ۔ میری اس بات کے جواب میںمسرور کا قہقہہ سننے کو نہ ملا اور وہ ٹھنڈی آہ بھر کر کہنے لگے کہ کتنے خوش نصیب ہو تم ہم پشاور والوں کو دھوپ میسر ہے نہ گیس۔ ارے یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔ پشاور میں گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے بعد ہ دھوپ شیڈنگ بھی ہونے لگی ہے کیا ؟۔ جس کے جواب میں وہ بڑی بیچارگی سے بولے کہ ہمسائیوں نے منزل در منزل گھروں کو اونچا کرکے اور کبوتروں کے بالا خانے بنا کر ہمارے حصے کی دھوپ روک دی ہے ۔ اور ہم ہیں کہ ان سے شکوہ یا شکایت بھی نہیں کرسکتے کہ وہ کچھ تیز اور ٹیڑھے مزاج کے کبوتر باز ثابت ہوئے ہیں ۔مسرور کی یہ بات سن کر ہم ان کو کہنا چاہتے تھے کہ اٹھ آؤ واپڈا ٹاؤن ضلع نوشہرہ میں پر اسی لمحے زبان پر حضرت غالب کا یہ گفتہ آگیا کہ

بے درو دیوار سا اک گھر بنانا چاہئے

کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

ہمسایہ کا لفظ مرکب ہے ’ہم او ر سایہ‘ کا، جس کی کوکھ سے نکلتے معنی و مفہوم پر غور کیا جائے تو بات کہیں سے کہیں نکل جا تی ہے ۔ دھوپ اور سایہ لازم و ملزوم ہیں ۔ دسمبر کے مہینے کے دوران سکڑے سمٹے مختصر سے دنوں میں دھوپ کی حدت ہمیں کچھ دیر کے لئے جو سکھ اور چین مہیا کرتی ہے اسے ہم چند ہی دن کی بہار کہہ سکتے ہیں ۔ اس لئے میں نے مسرور صاحب کو یہ بات کہہ کر چپ کرادیا کہ چنددن کی بہار ہے دھوپ کی اور پھر چند ہی دن بعد مشکل ہوجائے گا دھوپ میںچلنا پھر نا اور اٹھنا بیٹھنا ۔ میں نے کل ہی ایک ٹیکسی ڈرائیور کی زبانی یہ بات سنی کہ اب پہلے جیسی سردی نہیں رہی۔ گزرے وقتوں میں صبح دم پانی کی سطح پر برف جم جایا کرتی تھی جسے پشاور والے ککر کہتے تھے ۔ اب نہ ککر جمتی ہے اور نہ پہلے جیسی سردی محسوس ہوتی ہے۔ بقول اس کے اب دھوپ میں زیادہ دیر بیٹھا نہیں جاسکتا ۔ تم ٹھیک کہہ رہے ہو، میں نے ٹیکسی ڈرائیور کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ۔ موسم کو گرم کرنے کے گناہ میں تم بھی شریک ہو۔ میری اس بات کو سن کر ٹیکسی ڈرائیور میری جانب یوں دیکھنے لگا جیسے میں نے اس کی شان میں کوئی گستاخی کردی ہو۔فضائی آلودگی، دھویں کے بادل، گردو غبار کے طوفان، کارخانوں کی چمنیوں بھٹیوں اور بھٹوں سے نکلتا کاربن ڈائی آکسائڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ کا زہر، اور ٹریفک جام کرتی کاریں، ٹیکسیاں،بسیں، لاریاں، رکشے، موٹر سائیکلیں اور ان کے زہر اگلتے سائیلنسر اور یہ جو سوچ رہے ہیں نا تمہاری حکومت والے کوئلے سے چلنے والے ٹربائن کے ذریعے بجلی بنانے کے متعلق ۔ یہ سب باعث بن رہا ہے گلوبل وارمنگ کا۔ چھید ڈالا ہے اس نے اوزون کی تہوں کو موسم اپنے تیور بدل رہے ہیں۔ یہ جو تم دسمبر میں دھوپ کی حدت یا اس کی تمازت کے مزے لوٹ رہے ہو کچھ ہی دن بعد یہ نعمت زحمت بننے والی ہے۔ دیکھتے نہیں یہ بے موسم کی بارشیں ۔ یہ گلوبل وارمنگ ہی نہیں گلوبل وارننگ بھی ہے جس کے زیر اثر امریکہ کی بہت سی ریاستوں میں آنے والے فضائی اور سمندری طوفانوں نے ادھم مچا رکھا ہے۔گلوبل وارمنگ نے چھید ڈالا ہے اوزون کی ان تہوں کو جو قدرت نے زمیں پر بود و باش کرنے والوں کی حفاظت کے لئے بنائی تھیں ۔ اوزون کی تہوں میں بننے والے ان سوراخوں سے انسانی وجود کے لئے خطرات کا باعث بننے والیں شعاعیں زمین کی فضا میں داخل ہوتی رہتی ہیں ۔ جس سے زمین پر رہنے والوں کی زندگی کا تہ و بالا ہوکر رہ جانے کا خطرہ ہے ۔ سورج کی سطح پر ہائیڈروجن بم پھٹتے رہتے ہیں جن کی روشنی اور حدت روشنی کی رفتار سے سفر کرتی زمین پر رہنے والوں تک کم وبیش آٹھ منٹ کے عرصے میں پہنچتی ہیں ۔ اللہ جانے میری یہ باتیں ٹیکسی ڈرائیور کی سمجھ میں آئیں یا نہیں میں بولتا رہا اور وہ ٹیکسی چلانے میں مگن رہا اور پھر یوں ہوا کہ اس نے ٹیکسی کو سڑک کی ایک جانب روکتے ہوئے کہا کہ ہم آگے نہیں جاسکتے۔’ کیوں‘ میں نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ٹیکسی ڈرائیور کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ۔گاڑی کا انجن گرم ہوگیا ہے ۔ اس نے میری بات کا مختصر سا جواب دیا ۔اور میں نے اپنے سر کو یوں پکڑ لیا جیسے وہ انجن میرے سر میں فٹ ہوگیا ہو۔

جلا ہے جسم جہاں ، دل بھی جل گیا ہوگا

کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے

متعلقہ خبریں