Daily Mashriq


’’نادرا ‘‘کے’’ نادار لوگ‘‘

’’نادرا ‘‘کے’’ نادار لوگ‘‘

عبداللہ حسین پاکستانی ناول نگاری میں بہت بڑا مقام رکھتے ہیں ۔ان کے دو ناول ’’اداس نسلیں‘‘ اور’’نادار لوگ ‘‘ بہت زیادہ شہرت رکھتے ہیں ۔ ان کا پہلا ناول تو اداس نسلیں ہی تھا جبکہ ’’ نادار لوگ‘‘ کے بارے میں عام تاثر ہے کہ یہ ناول ’’اداس نسلیں ‘‘ ہی کی توسیع ہے اس ناول میں عبداللہ حسین 1897ء سے 1974ء تک کے زمانے کے سماج کو زیر بحث لایا ہے ۔ اُس نسل پر جو جو جبر ہوئے اُسے لا محالہ اُس نسل کو قبول کرناپڑا ۔ اس نسل کا 1947ئتک تو ایک نصب العین دکھائی دیتا کہ اس میں تحریک پاکستان کا ایک مضبوط حوالہ موجود رہتا ہے لیکن پھر وہی داغ داغ اجالا اور وہی شب گزیدہ سحر والی کیفیت اس نسل کا مقدر بنی ہے ۔ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ استبداد نے نسل کا حلیہ بگاڑ دیا تھا ۔ ادا س نسلیں اور نادار لوگوں کا قصہ ابھی ناتمام نہیں ہوا ۔ اب بھی ہمارے ہاں عوام رعایا کے سٹیٹس کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ میری اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ ہمارے حکمران تو حکمران ہیں، بادشاہ ہیںعوام کو جیسے رکھیں اور عوام کوجیسا سمجھیںجبکہ ہمارے ادارے بھی اسی رویے کے ساتھ عوام سے برتائو کرتے ہیں ۔ واپڈا ہو کہ گیس ہو کہ پولیس ہو یا کوئی دوسرا ادارہ وہاں عام رویہ یہی حاکمیت والا ہوتا ہے ۔ افسران کیا ماتحت بھی خود کو خود مختار اور حاکم سمجھتے ہیں جبکہ عوام ان کے لیے بھی بس رعایا ہی ہے ۔ کچھ نہ کہہ سکنے اور کچھ نہ کر سکنے والی رعایا نما عوام ۔ہمارے ادارے بھی سیاسی ہیں بالکل اسی طرح جیسے سیاستدان زبانی جمع خرچ میں عوام کی بہتری کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتے اور اصل حقیقت میں ان کا تکبر اپنی انتہائوں کو چھوتا نظر آتا ہے ۔ اسی طرح ہمارے ادارے بھی بلند بانگ دعوے کرتے ہیں مگر کار کردگی صفر سے بھی کچھ کم ہوتی ہے ۔ قومی ڈیٹا بیس کا ادارہ نادراجو اپنی کارکردگی کے ڈونگرے پیٹتا رہتا ہے لیکن کارکردگی میں وہی فرعونیت اور عوام کو کمتر تصور کرنے کا رویہ ، کوئی اور کہتا تو شاید یقین نہ آتا لیکن خود اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کو بیان کیا جا سکتا ہے ۔ میرا قومی شناختی کارڈ ایکسپائر ہوا توحال ہی میں نئے کھلنے والے میگااین آر سی پشاور چلے گئے ،خوش اخلاق عملے اور سسٹم کو دیکھ کرخوشی ہوئی اور ارجنٹ کارڈ کی 1600روپے فیس جمع کروادی ۔ بتایا گیا کہ چارگنا فیس سے 8دنوں میں کارڈ بن جائے گا ۔خوشی خوشی گھر لوٹ گئے۔ رسید پر ٹریکنگ کے لئے SMS نمبر بھی درج تھا۔ 29 نومبر کو درخواست جمع کرائی تھی۔ ایک ہفتہ تک کوئی ایس ایم ایس نہ آیا تو7دسمبر کو8400پر اپنا ٹریکنگ نمبر بھیجا تو جواب آیا کہ آپ کا کارڈ پرنٹنگ کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور دو دن میں کارڈ کی ڈیلیوری ہو جائے گی۔ 

8دسمبر کو پھر میسج کیا تو پھر وہی میسج ملا کہ دو دن میں ڈیلیوری ہو جائے گی۔ 10دسمبر کو بھی یہیمیسج ملا۔ اس دوران دو بار کمپلینٹ بھی کروائی (جو کوالٹی کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے ریکارڈ بھی کی گئی) دوسری کمپلینٹ پر ایک ذمہ دار خاتون (شاید صبا نام تھا) سے کارڈ لیٹ ہونے کی وجہ پوچھی تو موصوفہ نے فرمایا کہ اسلام آباد کے گزشتہ دھرنے کی وجہ سے نظام خراب ہوا ہے۔ لوجی بات ہی ختم ہوگئی۔ اب دھرنے والوں نے بھلا نادرا والوں کو کارڈ بنانے سے تو نہیں روکا۔ دوسری بات یہ کہ 29 نومبر تک تو دھرنا ختم ہوچکا تھا لیکن شاید نادرا والوں کے لیے ہنوز دھرنے کے آفٹر شاکس چل رہے تھے اور دھرنے کا سارا زور ہم پر نکال دیاگیا۔جب ہم شناختی کارڈ نہ ہونے کے تمام تر نقصانات برداشت کرچکے توبالآخر دوپہر 3بجے یعنی 14دسمبرکو میسج آیا ہے کہ آپ کا، کارڈ پہنچ چکا ہے وہاں سے لے لیں۔ ہم پشاور سے دور ہیں، ہفتہ اتوار کوہماری چھٹی ہوتی ہے سو نادرا کی بھی چھٹی ہو گی سو پیر کو کارڈ وصول کیا جاسکے گا ۔کچھ نادرا اور کچھ ہماری مجبوریوں کی وجہ سے یہ کارڈ ہمیںبیس دنوں بعد ملے گا ۔بہرحال نادرا کی لاجواب سروس کے معترف ہوگئے کہ جو ثابت کررہا ہے کہ وہ پاکستانی ادارہ ہونے کے ناطے پاکستانیہ سٹائل میں کام کررہا ہے ۔مجھے حیرت ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں ایک کارڈ بننے اور اسے ڈسپیچ کرنے میں 16 دن لگ جاتے ہیں جبکہ فیس چار گنا زیادہ لی گئی ہے۔ کارڈ نہ ملنے پر میرا کتنا نقصان ہوا اور مجھے کتنی ذہنی کوفت سے گزرنا پڑا یہ اسلام آباد کے افسروں کو معلوم ہی نہیں کیونکہ وہ تو نادرا جیسے عظیم الشان سرکاری محکمے کے ملازم ہیں اور میں ’’نادار لوگ‘‘ ہوں۔ بھئی اگر کوئی مسئلہ رہا بھی ہے تو کوئی شریف آدمی معذرت کا ایک میسج ہی کردے کہ تاخیر ہوئی تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔ افسوس کہ ہمارے ہاں کنزیومر کی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ورنہ نادرا والے سپیشل گاڑی میں لوگوں کے کارڈ ان کے گھر تک پہنچاتے۔ میں یا مجھ جیسا کوئی نادرا کا مارا ہوا شخص کسی عدالت بھی نہیں جاسکتا کہ ہمارے ہاں کنزیومر کورٹس تو ہیں لیکن وہاں کون خجل ہو۔ کوئی شکایت کرے بھی تو افسروں کی بلا سے۔ بہر حال اپنا حال لکھ دیا باقی نادرا والے یونہی نادار لوگوں کو تڑپاتے رہیں ۔

متعلقہ خبریں