Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں ایک گنہگار شخص تھا ، لوگوں نے بے زار ہو کر اس کو اپنے شہر سے نکال دیا ، وہ ایک ویرانے میں رہنے لگا اور جب اس کی موت کا وقت ہوا تووہ انتقال کر گیا تب حضرت موسیٰ ؑپروحی آئی کہ ہمارے ایک ولی کی فلاں جگہ وفات ہوگئی ہے ، آپ اس کو غسل و کفن دے کر نماز جنازہ پڑھیں اور لوگوں کو بتا دیں کہ جس کے گناہ زیادہ ہوں ، وہ لوگ اگر اس کے جنازے میں شریک ہوں تو میں ان کی بھی مغفرت کردوں گا ۔ کثیر تعداد میں لوگ جمع ہوگئے اور جب لوگوں نے اس کی لاش کو دیکھا تو اس کو پہچان لیاا ور کہا کہ حضرت ! یہ تو بڑا گنہگار شخص تھا اور ہم نے تنگ آکر اس کو گائوں سے نکال دیا تھا ۔ حضرت موسیٰ ؑ کو تعجب ہوا اور خدا سے سوال کیا کہ الٰہی ! یہ کیا ماجرا ہے ؟ تووحی آئی کہ اے موسیٰ !یہ بات تو سچ ہے کہ یہ گنہگار تھا ، مگر جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو کوئی رشتہ دار یا دوست نظر نہیں آیا اور خود کو تنہا و اکیلا محسوس کیا اور آسمان کی جانب نظر اٹھائی اور کہنے لگا کہ : اے میرے پروردگار میں تیرے بندوں میں سے ایک بندہ اور تیر ی بستیوں سے نکالا ہوا ، غریب الوطن ہوں ، اگر میں جانتا کہ مجھے عذاب دینے سے آپ کی حکومت میں کوئی زیادتی ہوتی ہے یا مجھے معاف کردینے سے آپ کی حکومت میں کوئی کمی ہوتی ہے تو میں آپ سے مغفرت کا سوال نہ کرتا ، میری پناہ اور امید کا مرکز سوائے آپ کی ذات کے کوئی نہیں ، میں نے یہ سنا ہے کہ آپ نے اپنے کلام میں یہ نازل کیا ہے کہ ’’میں ہی غفور رحیم ہوں ‘‘پس میری امید میں مجھے ناکام نہ فرما ۔

رب تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ! کیا میرے لیے یہ اچھی بات تھی کہ میں اس غریب الوطن کو رد کر دیتا ؟ جب کہ وہ مجھ سے التجا کر رہا ہے اور میرے سامنے گڑ گڑا رہا ہے ؟ مجھے میری عزت اورجلال کی قسم ! اگر وہ دنیا کے تما م گنہگاروں کے متعلق مغفرت کا سوال کرتا تو میں اس کے طفیل ان تمام گنہگاروں کو بھی معاف کر دیتا ۔

حضرت عیسیٰ بن یونس ؒ مشور محدثین میں سے ہیں ، صحاح ستہ میں ان کی روایات موجود ہے ۔ ان کا واقعہ ملا علی قاریؒ نقل فرماتے ہیں کہ جب ہارون رشید حج کیلئے مکہ مکرمہ آئے تو قاضی القضاۃ ابو یوسف ؒ کو حکم دیا کہ وہ شہر کے مشہور محدثین کو ملاقات کے لئے اس کے پاس لے کر آئیں تو مکہ مکرمہ کے تمام محدثین جمع ہوگئے مگر حضرت ابن ادریس ؒ اور حضرت عیسیٰ بن یونس ؒ تشریف نہ لائے ، ہارون رشید کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے اپنے دونوں صاحبزادوں امین اور مامون کو حضرت عیسیٰ بن یونس ؒ کے پا س بھیجا کہ ان سے احادیث پڑھ کر آئیں ۔ ہارون رشید نے اس کے صلہ میں عیسیٰ بن یونس ؒ کے پاس دس ہزار درہم روانہ کیئے،مگر انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا’’اگر کوئی مجھے حدیث کے معاوضے میں اس مسجد کی چھت تک سونے سے بھر کر پیش کرے ، تب بھی میں اسے قبول نہ کروں گا ‘‘۔

(تراشے موتی ، صفحہ 24)

متعلقہ خبریں