Daily Mashriq

منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث اٹھنے والے مسائل

منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث اٹھنے والے مسائل

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے چمکنی میں نئے بس ٹرمینل سمیت ایئرپورٹ، رنگ روڈ اور نمک منڈی فلائی اوورز کی فیزیبلٹی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، انہوں نے تمام اڈے پشاور سے باہر منتقل کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ ٹرک ٹرمینل علیحدہ سے قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام محکمے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے پوری کریں تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان باضابطہ معاہدہ ہوگا جس کے مطابق منصوبے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے نفع کی تقسیم ہوگی۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں بی آر ٹی کی تکمیل کے بعد نئی ضروریات اور تقاضوں کے تحت نئے اڈوں کے قیام اور ٹرانسپورٹ کے نظام کی اصلاح ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ کے زیرصدارت اجلاس میں اگر شہر میں ٹرانسپورٹ کی مجموعی صورتحال کا جائزہ بھی لیا جاتا تو زیادہ مناسب ہوتا اس لئے کہ غیرقانونی اور جگہ جگہ قائم اڈوں سے چلنے والی ٹرانسپورٹ بھی قانونی نہیں۔ ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق محکمہ پولیس اور ٹرانسپورٹ کے بعض افسران اور ملازمین کی ملی بھگت سے ملک بھر سے جمع ڈیڑھ لاکھ سے زائد غیرقانونی گاڑیوں نے پشاور شہر کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں گاڑیوں سے سڑکوں پر ٹریفک جام کے علاوہ حادثات کی شرح اور شور وغل میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس سے شہری عاجز آگئے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ ایک عرصہ سے پشاور میں ملک بھر سے غیرقانونی رکشوں، ٹیکسی کاروں اور دوسری گاڑیوں کے باعث صوبائی دارالحکومت میں ٹرانسپورٹ کا سارا نظام ہی بگڑ چکا ہے۔ غیرقانونی رکشے اور ٹیکسی گاڑیاں روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک میں خلل کا سبب بن رہی ہیں۔ پشاور میں 80فیصد رش باہر سے لائی گئی گاڑیوں کی وجہ سے بن رہا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ اور محکمہ پولیس کی جانب سے روک ٹوک نہ ہونے کے باعث بغیر پرمٹ گاڑیوں پر کسی قسم کی پابندی نہیں نہ ہی جرمانے کئے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد گاڑیوں کی روزمرہ کی نقل وحرکت سے شہری عاجز آگئے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذرائع کے مطابق زیادہ تر گاڑیاں ٹریفک پولیس اہلکاروں کی ملکیت میں ہیں اس وجہ سے غیرقانونی ٹرانسپورٹ کیخلاف ایکشن میں سستی کی جارہی ہے۔ شہر میں بی آر ٹی اور موسم سرما میں اضلاع سے آبادی اور گاڑیوں کی منتقلی سے صورتحال مزید گمبھیر ہوگئی ہے جبکہ ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی سڑکوں پر خال خال ہی نظر آتے ہیں جس کے باعث شہر میں ٹریفک اور آلودگی کی صورتحال گمبھیر ہوگئی ہے۔ محولہ صورتحال سے اس امر کی اشد ضرورت سے انکار ممکن نہیں کہ حکومت موجودہ صورتحال اور آئندہ کی صورتحال بارے مختصر مدتی اور طویل المدتی منصوبہ سازی کرے۔ ہمارے تئیں صوبے میں منصوبہ بندی اور مناسب ہوم ورک کئے بغیر ترقیاتی کاموں‘ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں منصوبہ بندی کا فقدان اور ماہرین کی خدمات حاصل کرکے منصوبوں کا باریک بینی سے جائزہ لیکر مشکلات‘ پیچیدگیاں‘ رکاوٹیں دور کرکے اور منصوبوں کو عوام کیلئے مفید اور نافع بنانے کیلئے اقدامات سے کوتاہی وہ بنیادی سقم اور غلطی ہے جسے دور کئے بغیر جو بھی منصوبے بنائے جائیں اس پر زرکثیر کے صرف ہونے کے باوجود بھی آسانیوں کا حصول یقینی نہیں ہوتا۔ بی آر ٹی جیسے منصوبے کا جائزہ لیا جائے تو اس کے بنانے اور توڑنے کا عمل ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔ منصوبے میں باربار کی تبدیلیاں اور تعمیر کے بعد دوبارہ توڑپھوڑ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ اس منصوبے کو مناسب منصوبہ بندی اور سوچ سمجھ کر شروع کرنے کی بجائے تالاب میں دھکا دینے کے مترادف طریقہ کار اپنایا گیا جس کی وجہ سے باربار کی تبدیلی اور توڑپھوڑ سے اس کی لاگت میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ منصوبہ عوام کیلئے بھی وبال جان بنتا جا رہا ہے اور اس کی تکمیل میں بھی تاخیر درتاخیر ہوتی جا رہی ہے۔ اس اہم منصوبے کا معائنہ اور نگرانی کے عمل میں پی ڈی اے حکام اضافی بھاری مراعات لینے کے باوجود ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ اگر متعلقہ حکام اور کنسلٹنٹس کی ٹیم موقع پر موجود رہ کر ٹریفک کے مسائل اور ٹریک کی تعمیر کی سمت اور صورتحال کا جائزہ لینے کی زحمت کرتی تو باربار اکھاڑنے اور تبدیلی کی نوبت نہ آتی۔ اڈوں کی تعمیر بھی شہری اداروں ہی کی نگرانی میں دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کو اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ متعلقہ اداروں نے ضروری سروے اور ہوم ورک کی تکمیل کی ہو اور اس ضمن میں خاص طور پر عوامی تحفظات اور آراء کا خیال رکھا گیا ہو جبکہ ٹرانسپورٹروں کی مشاورت اور تجاویز بھی شامل کی گئی ہوں۔ ان اڈوں کی تعمیر کیساتھ ساتھ ان کو چلانے اور اڈوں کا انتظام بھی مربوط بنانے کو یقینی بنانا ہوگا۔ فی الوقت شہر میں ٹرانسپورٹ اور غیرقانونی گاڑیوں کی جو صورتحال ہے اس کا فوری نوٹس لینے اور اصلاح احوال پر مبنی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ٹریفک پولیس کو متحرک کرنے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام کو اصلاح پر مبنی اقدامات کیلئے حکومت کی جانب سے مکمل اعتماد واعانت دینے کی بھی اشد ضرورت ہے جس کے بغیر غیرقانونی گاڑیوں اور غیرقانونی اڈوں کیخلاف کارروائی مربوط اور پائیدار نہیں ہو سکے گی۔

متعلقہ خبریں