Daily Mashriq

وزیراعلیٰ کے پی کی نیب میں پیشی

وزیراعلیٰ کے پی کی نیب میں پیشی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے قومی احتساب بیورو (نیب)سے مالم جبہ اراضی کیس میں کلین چٹ ملنے کا جو دعویٰ کیا ہے اس کی حقیقت کا تو علم نہیں لیکن وزیراعلیٰ نے پیشی کے بعد جس اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے اس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ کو نیب کے سخت سوالوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں نیب کی جانب سے کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا جبکہ یہ ان کی یہاں آخری آمد ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں مالم جبہ اراضی کی لیز کا علم نہیں تھا اور لیز کی دستاویزات پر ان کے دستخط نہیں تھے۔ خیال رہے کہ سوات کے علاقے مالم جبہ میں275 ایکڑ سرکاری اراضی کو2014 میں ریزورٹس کیلئے لیز پر دینے کی رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں جن میں بے قاعدگیوں اور اقربا پروری کا انکشاف ہوا تھا۔ شکایات سامنے آنے پر نیب کی جانب سے مذکورہ معاملے کی تحقیقات شروع کی گئیں جس میں سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک، وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان، سینیٹر محسن عزیز پہلے ہی نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیان جمع کروا چکے ہیں۔ مالم جبہ کی اراضی لیز پر دینے کے وقت محمود خان صوبائی وزیرسیاحت و کھیل تھے جبکہ محسن عزیز خیبر پختونخوا کے اسپورٹس بورڈ کے چئیرمین تھے۔ اراضی کے لیز کا اشتہار15 سال کیلئے دیا گیا تھا تاہم کنٹریکٹ حاصل کرنے کے بعد لیز کو32 سال تک کیلئے بڑھا دیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا سابق وزیرسیاحت کی حیثیت سے جنگلات کی خاصی اراضی کو تفریحی مقاصد کے نام پر الاٹ کرنے کے ضمن میں پیشی کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو طلب نہ کئے جانے کے بعد حزب اختلاف کے اعتراضات میں جہاں کمی آنی چاہئے۔ وہاں نیب میں پیشی کے بعد وزیراعلیٰ کا پراعتماد لب ولہجہ اس امر پر دال ہے کہ ان کی گلوخلاصی ہو جائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کا بغیر کسی لیت ولعل کے نیب کے دفتر جا کر تحقیقاتی ٹیم کے سوالوں کا جواب دینا قانون کے احترام کا مظہر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نیب ہر مطلوب شخص کی طلبی کی ذمہ داری ضرور پوری کرے لیکن جب تک کسی کے بارے میں ٹھوس ثبوت اور شواہد اکٹھے نہ ہوں اس وقت تک معاملات کو اچھالنے کا موقع دینے کی بجائے متعلقہ افراد کو احسن طریقے سے طلب کرنے اور مناسب انداز میں پوچھ گچھ کرنے کو یقینی بنائے تاکہ حزب اختلاف کو نیب کے دوہرے معیار کی شکایت باقی نہ رہے۔

ٹیکس دینے والے بھی غیر رجسٹرڈ کیسے؟

حکومت کی جانب سے ایک اور منی بجٹ لانے کا امکان عوام پر بجلی گرانے سے کم نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق ریونیو شارٹ فال پورا کرنے اور انسداد منی لانڈرنگ واسمگلنگ سمیت ٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام کیلئے ایک اور منی بجٹ لائے جانے کا امکان ہے جس میں نان فائلرز کیلئے ٹیکس کی شرح میں مزید اضافہ زیرغور ہے اور منی بجٹ کے تحت ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے نان فائلرز کیخلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نان رجسٹرڈ لوگوں کیلئے اشیا کی خرید وفروخت پر ٹیکس کی شرح میں مزید2 سے3 فیصد اضافے کا امکان ہے، جی ایس ٹی کی شرح17 فیصد سے بڑھا کر18 فیصد کرنے کا بھی امکان ہے۔ حکام جس طرح نان رجسٹرڈ کی آڑ میں عام لوگوں پر ٹیکس کی شرح میں بے تحاشا اضافہ کرتے جا رہے ہیں ان لوگوں کی غالب ترین اکثریت ٹیکس چوری یا ٹیکس بچانے کیلئے نہیں ایف بی آر کے دفاتر کے چکر لگانے اور پیچیدگیوں میں الجھے جانے کے خوف سے ٹیکس نیٹ میں آنے سے کتراتے ہیں۔ ایف بی آر کی جانب سے ہر شہری کے شناختی کارڈ کو اس کا ٹیکس نمبر قرار دیکر بجلی، گیس، ٹیلیفون اور دیگر سرکاری چیکوں کے ذریعے ادائیگی پر جب ودہولڈنگ ٹیکس، جی ایس ٹی اور دیگر محصولات وصول کرتی ہے تو پھر اس شناختی کارڈ نمبر ہی کو این ٹی این قرار کیوں نہیں دیا جاتا اگر اس طرح ٹیکس کی وصولی کے باوجود ٹیکس دہندہ ٹیکس نادہندہ اور غیر رجسٹرڈ کے زمرے میں آتا ہے تو پھر ان سے وصولی ہی کیوں کی جاتی ہے۔

قانون شکن نجی سکولوں کیخلاف کارروائی کی جائے

خیبر پختونخوا میں نجی تعلیمی اداروں نے فیسوں میںکمی لانے کی بجائے اگلی جماعت میں داخلے کی فیس بڑھانے کے علاوہ ٹرانسپورٹ کی فیس بھی ڈبل کر کے عدالتی احکامات کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ہے۔ بہت سے سکولوں میں بنک کی بجائے فیسیں نقد وصول کی جارہی ہیں جبکہ جرمانے کے نام پر الگ سے رقوم اینٹھنے کا سلسلہ جاری ہے، ساتھ ہی ساتھ مختلف مدات میں رقوم کی وصولی جاری ہے۔ ان ساری شکایات پر نجی سکولز اتھارٹی کے حکام کا چپ سادھے رہنا اور عدالتی احکامات کو خاطر میں نہ لانے والے سکولوں کیخلاف ہنوز سخت کارروائی کا نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے جس کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں