Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

میڈیا میں واہیات اور تباہیات تو بہت ہوتی ہیں۔ لڑکی کی تصویر لگا کر لڑکا ہوتا ہے مگر کبھی کبھار بڑی چٹکی والی حقیقت بیانی بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک مہربان تین سطری واٹس ایپ پیغام میں پڑھیں اور سوچیں کس قدر درست ہے۔ اس کا عنوان ہے واپسی۔ ’’تعلیم انسان کو انگوٹھے سے دستخط تک لے گئی‘ ٹیکنالوجی دستخط سے انگوٹھے پر واپس لے آئی‘‘۔

حقیقت یہ نہیں حقیقت یہ بھی ہے کہ اب ہم جیسوں جن کو کمپیوٹر سے واقفیت نہ ہو بھلے دستخط کر سکتے ہوں اور قلم بھی گھسیٹ سکتے ہوں لیکن آج کے دور میں ہم ٹھہرے انگوٹھا چھاپ۔

آج کل بچے ماں باپ کیساتھ ساتھ کمپیوٹر کے بھی بچے بن گئے ہیں۔ اولاد والدین کی اخراجات والدین کے بود وباش والدین کیساتھ مگر مانتے کمپیوٹر کے ہیں‘ سیکھتے کمپیوٹر سے ہیں۔ سوچتے بھی کمپیوٹر کی طرح ہیں اور ان کی کوشش بھی ہوتی ہے کہ وہ کریں بھی ایسا ہی۔ آج ہی کی خبر ہے کہ نو سالہ بچہ بیٹھے بیٹھے ایپ ایجاد کر بیٹھا اور دیکھتے دیکھتے آئی ٹی کمپنی کا مالک بن گیا۔ کمپیوٹر پر جو بچے بیرونی دنیا کے حوالے سے ہی سرچ کرتے ہیں وہاں کے کھیل کھیلتے ہیں وہاں کے طور طریقے سیکھتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے انگریزی ایسے بولتے ہیں کہ ان کی دوسری ماں انگریز ہو اور مغربی طرز زندگی اور وہاں کے معاملات سے ایسے واقف لگتے ہیں جیسا کہ کوئی وہاں سے ہوکر آئے ہوں۔ وہ باتیں کرتے ہوئے مثالیں بھی باہر کی دیتے ہیں اس صورتحال میں ہم جیسے انگوٹھا چھاپ ٹھہر گئے کہ نہیں۔ کمپیوٹر ہمیں واپس انگوٹھا لگانے تک لایا کہ نہیں۔ چلئے ٹیکنالوجی کی دنیا کو یہیں چھوڑ کر سندھ کے سب سے زیادہ مدت وزیراعلیٰ رہنے والے سائیں قائم علی شاہ کے فرمودات کا تذکرہ چھیڑتے ہیں‘ سوشل میڈیا پر ان کی دھوم بلاوجہ نہیں ہوتی تازہ ارشاد میں انہوں نے زرداری کو درباری کہہ کر مخاطب کیا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ کی زبان اکثر پھسلتی رہتی ہے یہ عمر کا تقاضا ہے یا اثرات کا باعث لیکن جب بھی ان کی زبان پھسلتی ہے غلط نہیں پھسلتی جیالوں کی محفل میں جھوم کر خطاب کرتے ہوئے زرداری کو درباری کہنے پر ماحول میں مسکراہٹ آئی ہوگی۔ سٹیج پر بہت سے رہنماؤں نے بھی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کی ہوگی۔ آصف زرداری بڑے ہی بولڈ آدمی ہیں ان کے سامنے انہی کے بارے میں زبان پھسل جائے یا بندہ ہی پھسل جائے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپنے کھلاڑی وزیراعظم کے الفاظ دیکھیں تو لگتا یہی ہے کہ ان کی فی البدیہہ تقریر ان کا ترجمان بالکل نہیں ورنہ ڈنڈے ماروں گا‘ یہ کروں گا وہ کروں‘ اس قسم کی گفتگو بھلا وزیراعظم کرتا ہے۔ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ اور پاکستان کے موجودہ وزیراعظم اگر لکھی ہوئی تقریر پڑھ لیا کریں تو اس قسم کی صورتحال سے بچ سکتے ہیں مگر تقریر لکھنے والوں کو پہلے ان کو پڑھ پڑھ کر سنانا ہوگا اور عربی کا کوئی جملہ کوئی کلمہ بالکل نہ آئے ورنہ اور مشکل ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں