Daily Mashriq


کیا ہم انفرادی واجتماعی احتساب کیلئے آمادہ ہیں؟

کیا ہم انفرادی واجتماعی احتساب کیلئے آمادہ ہیں؟

صدر مملکت‘ وزیراعظم اور آرمی چیف کا یہ کہنا بجاطور پر درست ہے کہ قوم نے دہشتگردی کی وہ قیمت ادا کی جس کا تخمینہ نہیں لگایا جاسکتا۔ انتہاپسندی برداشت نہیں کی جائے گی، ملکی امن وخوشحالی کیلئے ہمیں متحد رہنا ہوگا تاکہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاسکے۔ سانحہ اے پی ایس پشاور کی چوتھی برسی کے موقع پر مذکورہ خیالات کے اظہار پر بہت احترام کیساتھ یہ دریات کرنا ازبس ضروری ہے کہ کیا زمینی حقائق اور ماضی کی پالیسیوں کو نظرانداز کرکے آگے بڑھا جاسکتا ہے؟ انتہاپسندی اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی عسکریت ہر دو سے سماج کو نجات دلوانے کیلئے محض بیانات کافی نہیں یا پھر عملی اقدامات کو موثر بنانے کیلئے ان پالیسیوں پر نظرثانی ضروری ہے جو انتہاپسندی اور عسکریت کی حقیقی ذمہ دار ہیں؟ امر واقعہ یہ ہے کہ ان دو سوالوں کے تشفی بھرے جواب سے ہی مستقبل کا منظرنامہ تحریر کیا جاسکتا ہے۔ بہت ضروری ہے کہ اس تلخ حقیقت کو بھی تسلیم کیا جائے کہ عسکریت وعدم برداشت نے ان ریاستی پالیسیوں سے جنم لیا جو ملکی مفادات سے زیادہ خطے میں امریکہ کے مفادات کے تحفظ پر مبنی تھیں۔ سو اب اگر ہم اپنے معاشرے کو تعصبات وعسکریت پسندی سے نجات دلاکر تعمیر وترقی اور سماجی وحدت کے قیام کی سمت لے جانا چاہتے ہیں تو پھر بہت ضروری ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں تطہیر کا عمل شروع کیا جائے۔ قدیم وجدید نصاب ہائے تعلیم میں انسان سازی‘ فروغ علم‘ تحقیق اور باہمی احترام کو اولیت دے کر ازسرنو مرتب کیا جائے۔ ریاست اس امر کو یقینی بنائے کہ فرد کے مذہبی رجحانات اور سیاسی شعور کے آڑے آنے والی ہر رکاوٹ کو پوری ذمہ داری سے نہ صرف دور کرے گی بلکہ انفرادی واجتماعی شخصی آزادیوں عقائد پر عمل کے حق کے احترام کو یقینی بنانے کیساتھ ساتھ مساوات اور انصاف بیانیہ قرار دے گی۔ تعصبات اور عسکریت پسندی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بدقسمتی میں تعصبات کے کاروبار کو ماضی میں ریاست کی سرپرستی حاصل رہی اس ریاستی سرپرستی کی بنیاد جنرل ضیاء الحق نے رکھی۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ جو ریاست اور قوم خود احتسابی‘ غلطیوں پر معذرت اور آگے بڑھنے کیلئے اعتمادسازی سے صرف نظر کرتی ہیں وہ شرف انسانی کی معراج سے محروم رہتے ہیں۔ سانحہ اے پی ایس ہو یا پچھلے 40برسوں کے دوران دہشتگردی کا رزق بننے والے زمین زادے ان سب کے خون ناحق سے لکھے سوال آج بھی ہمارے پالیسی سازوں‘ عمائدین اور اہل دانش کا منہ چڑھا رہے ہیں۔ جب تک ان سوالوں کا جواب نہیںدیا جاتا بداعتمادی میں کمی نہیں ہوگی۔ بہت سادہ اور آسان لفظوں میں یہ عرض کیا جاسکتا ہے کہ محض تقاریر‘ پیغامات اور درددل بیان کرتے رہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ لازم ہے کہ ریاست اور سماجی وحدت کو درپیش چیلنجوں کو شعوری طور پر سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس کھلی حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ پاکستان کی جغرافیائی وحدت میں آباد مختلف النسل زمین زادے اس ریاست کے اصلی مالک ہیں۔ تبھی یہ ممکن ہوگا کہ بیرونی قوتوں کے مفادات کے تحفظ میں پُرجوش شرکت کو ترک کرکے ایسی پالیسیاں وضع کی جاسکیں جو مساوات‘ انصاف‘ تعمیر وترقی اور سماجی وحدت کے قیام میں معاون ثابت ہوں۔ موجودہ حالات میں بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا ریاست‘ حکومت اور عوام اپنے مستقبل کیلئے ایک پیج پر اکٹھا ہو سکتے ہیں؟ اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ کوئی چیز ناممکن نہیں بس حوصلے اور تدبرکیساتھ ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے متحد ہو کر آگے بڑھا جائے۔

رہا سوال یہ کہ آگے بڑھنے کیلئے پہل کس کو کرنی ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری اور فرض ہے اور اس فرض کی ادائیگی سے ہی عوام میں یہ تاثر پختہ ہوگا کہ اب ریاست اور حکومت شہریوں کے مفادات اور مستقبل کو اولیت دیں گے۔ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں گی جو خون کے دھبوں‘ محرومیوں اور ناانصافیوں کے خاتمے کا موجب ثابت ہوں جن سے بداعتمادی کا زہر پھیلا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس امر پر دو آراء نہیں کہ تعلیم‘ امن‘ مساوات اور انصاف سے ہی تعصبات‘ جہالت اور عسکریت پسندی کو رزق فراہم کرنے والوں کو شکست دی جاسکتی ہے۔

کیا ہمارے صاحبان اختیار واقعتا اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھ کر اصلاح احوال پر آمادہ ہیں؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں اپنائے گئے رویوں‘ اقدامات اور پالیسیوں سے بھی مل سکتا ہے۔ یہاں ایک تلخ سوال بھی صاحبان اختیار کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں کیا امر مانع ہے؟ مکرر عرض ہے پاکستان کو اس میں آباد قومیتوں کیلئے جنت نشان بنانے کیلئے ضروری ہے کہ پالیسیاں عوام کے مفاد کو پیش نظر رکھ کر وضع کی جائیں۔ اس تاریخی حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ یہ ایک کثیرالقومی اور کثیرالمسلکی معاشرہ ہے۔

توازن اسی صورت قائم رہ سکتا ہے کہ انصاف کا دور دورہ ہو۔ کوئی فرد یا طبقہ قانون سے بالاتر نہ ہو۔ ثانیاً یہ کہ کسی سانحہ کے بعد قربانی اور شہادتوں کے فضائل بیان کرنے کی بجائے ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ ہمیں دوسروں کے بکھیڑوں میں ٹانگیں اڑانے کے مرض سے نجات حاصل کرکے اپنے جغرافیائی وعوامی مفادات کو مقدم سمجھنا ہوگا۔ ریاست اور عوام کے درمیان موجود بداعتمادی کے خاتمے کیلئے ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا۔ عسکریت پسندوں کے سہولت کاروں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی کرنا ہوگی اور اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ فرد کے انفرادی حقوق کسی دوسرے فرد کی دھونس اور ریاستی پالیسیوں سے متاثر نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں